Home » بہار صیام کی آمد آمد ہے- قدسیہ ملک
بلاگز

بہار صیام کی آمد آمد ہے- قدسیہ ملک

رمضان آرہے ہیں۔ اتنی گرمی کے روزےہیں۔زیادہ سے زیادہ پانی پیورمضانوں میں تو پابندی ہوگی۔ رمضان سے پہلے اچھی طرح کھاپی لو۔رمضان آرہےہیں اس سے پہلے ہی چلے جاو۔ افف کیسے گزرےگایہ رمضان۔ وغیرہ وغیرہ. یہ جملے آئے روز آپکی سماعتوں سے بھی ٹکرائے ہونگے۔

کیاواقعی رمضان اس قدر مشکل ہوتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اپنی اولادوں  کو اس ماہ مبارک کی رحمتوں برکتوں وفضیلتوں کے بارے میں اتنی آگہی نہیں دے پاتے جتنا اس مہینے کا حق ہے۔ ہمارے نزدیک ایک بہت مشکل کٹھن اور دشوار وقت آنے والا ہے جس کی ہولناکیوں سے ہم اپنے چھوٹوں کوڈراتے رہتے ہیں اور یہاں تک کہ میری ہی کچھ  ہم جماعت  لڑکیاں محض اسلئے اس ماہ مبارک  میں اب تک روزے چھوڑ دیتی ہیں کہ ہمارےپیپرز ہونے والے یاہمارے اسائمنٹ چل رہے ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ اگلا رمضان دیکھ پائیں گے بھی یا نہیں؟ہوسکتا ہے یہ  ہمارا آخری رمضان ہو۔ اسی لئے اس رمضان المبارک کو بہترین پلاننگ کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزاریئے۔تاکہ آپ سے آپکے ساتھ رہنےوالے آپکے ہم منصب آپکے ہم جماعت دوست سہیلیاں،رشتہ دار، آپکےچھوٹے بھی کچھ اچھا سیکھیں اور وہ بھی اسے اچھی طرح گزارنے کی کوشش کریں۔آئیے رمضان کی کچھ پلاننگ کرتے ہیں… 1۔ توبۃ النصوح: ہر وقت توبہ و استغفار كرنا واجب ہے، ليكن اس ليے كہ يہ ماہ مبارك قريب آ رہا ہے، اور تو مسلمان شخص كے ليے زيادہ لائق ہے كہ وہ اپنے ان گناہوں سے جلد از جلد توبہ كر لے جو صرف ا س اور اس كے رب كے مابين ہيں، اور ان گناہوں سے بھى جن كا تعلق حقوق العباد سے ہے۔

تا كہ جب يہ ماہ مبارك شروع ہو تو وہ صحيح اور شرح صدر كے ساتھ اطاعت و فرمانبردارى كے اعمال ميں مشغول ہو جائے۔ اور اے مومنوں تم سب كے سب اللہ تعالى كى طرف توبہ كرو تا كہ كاميابى حاصل كر سکو(سورۃالنور).  2۔ دعاء كرنا:بعض سلف كے متعلق آتا ہے كہ وہ چھ ماہ تك يہ دعا كرتے اے اللہ ہميں رمضان تك پہنچا دے، اور پھر وہ رمضان كے بعد پانچ ماہ تك يہ دعا كرتے رہتے اے اللہ ہمارے رمضان كے روزے قبول و منظور فرما۔ 3۔ اس عظيم ماہ مبارك كے قريب آنے كى خوشى ہو: رمضان المبارك كے مہينہ تك صحيح سلامت پہنچ جانا اللہ تعالى كى جانب سے مسلمان بندے پر بہت عظيم نعمت ہے۔ رمضان المبارك خير و بركت كا موسم ہے، جس ميں جنتوں كے دروازے كھول ديے جاتے ہيں، اور جہنم كے دروازے بند كر ديے جاتے ہيں، اور يہ قرآن اور غزوات و معركوں كا مہينہ ہے جس نے ہمارے اور كفر كے درميان فرق كيا۔اسلئے گھبراہٹ اور پریشانیوں سے نکل کر دل کے پورے اطمینان کے ساتھ رمضان کی خوشی منانی چاہئے۔ 4۔ علم حاصل كرنا :تا كہ روزوں كے احكام كا علم ہو سكے، اور رمضان المبارك كى فضيلت كا پتہ چل سكے۔اسکے لئے استقبال رمضان بہترین پروگرام ہے۔

5۔ايسے اعمال جو رمضان المبارك ميں مسلمان شخص كوعبادت كرنے ميں ركاوٹ يا مشغول نہ ہونے كا باعث بننے والے ہوں انہيں رمضان سے قبل نپٹانے ميں جلدى كرنى چاہيے۔ 6۔ گھر ميں اہل و عيال اور بچوں كے ساتھ بيٹھ كر انہيں روزوں كى حكمت اور ا س كے احكام بتائے، اور چھوٹے بچوں كو روزے ركھنے كى ترغيب دلایئے۔ 7۔ كچھ ايسى كتابيں تيار كى جائيں جو گھر ميں پڑھى جائيں، يا پھر مسجد كے امام كو ہديہ كى جائيں تا كہ وہ رمضان المبارك ميں نماز كے بعد لوگوں كو پڑھ كر سنائے۔ 8۔ رمضان المبارك كے روزوں كى تيارى كے ليے ماہ شعبان ميں روزے ركھے جائيں۔ 9۔قرآن مجيد كى تلاوت كرنا. 10۔نفس کا تذکیہ: رمضان المبارک میں مسلمان اپنا دن فجر سے قبل سحری کھا کرشروع کرتا ہے ، اورسحری میں افضل یہ ہے کہ سحری کو رات کے آخری حصہ تک مؤخر کیا جائے۔سحری کے بعد مسلمان نماز فجر کی اذان سے قبل نماز کی تیاری گھر میں ہی کرے اوروضوء کرکے نمازباجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف جائے ۔عورتیں گھر کے کاموں  سحری کے برتنوں  و کچن کی صفائی سے پہلے نماز پڑھیں۔جب سورج طلوع ہواوراچھی طرح اوپر آجائے تو طلوع کےتقریبا پندرہ منٹ بعد ہر مسلمان اگر پسند کرے تو اشراق کی کم از کم دورکعات ادا کرے توبہتر ہے.

اوراگر چاہے تو وہ اسے افضل وقت تک مؤخربھی کرسکتا ہے ، اس کا افضل وقت سورج بلند ہونے اورسخت دھوپ کا وقت ہے ۔ظہر کی چار رکعات سنتیں دو دو کرکے ادا کرے ، پھر اقامت تک قرآن مجید اورذکرو اذکار میں مشغول رہے ، نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد بعد والی دو سنتیں ادا کریں ۔پھر نمازکے بعد اپنے کام پر واپس لوٹے اورکام کاج  گھر داری میں مشغول رہے۔مرداپنی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد اگر اس کے پاس عصر کی نماز سے قبل آرام کرنے کا وقت مل سکے تو تھوڑا بہت آرام کرلے ، لیکن اگر وقت کافی نہ ہو اوراسے خدشہ ہو کہ اگر سوگیا تو نماز عصر ضائع ہوجائے گی توپھر نماز تک کسی مناسب چيز میں مشغول رہے ، مثلا ضرورت کی اشیاء خریدنے بازار چلے جائے یا پھر کام سے فارغ ہوکر فوری طور پر مسجد کا رخ کرے اورعصر کی نماز تک مسجد میں ہی رہے ۔خواتین بھی ظہرکے بعد اور عصر سےپہلے  گھر کے کام نمٹاکرتھوڑاآرام کرسکتی ہیں۔عصر کی نماز کے بعد اپنی حالت کودیکھے اگر تو اس میں ہمت ہےکہ مسجد میں بیٹھ کرتلاوت قرآن کریم کرے تو یہ بہت ہی غنیمت ہے ، اوراگر انسان اپنے اندر ہمت محسوس نہ کرے تواسے اس وقت ضرور آرام کرنا چاہیے تا کہ رات کو نماز تراویح کی تیاری کرسکے ۔

خواتین بھی گھر میں نماز عصر کے بعد اگر ممکن ہوتو اپنے آپ کو تراویح کے لئے تیار کریں۔ اذان مغرب کے قبل افطاری کی تیاری میں مدد کرے تاکہ خواتین بھی جلد از جلد کام نمٹاکر روزے سے پہلے اپنے رب سے دعائیں مانگ سکیں۔ اس لمحات میں ایسے کام کرنے چاہییں جن کا اسے نفع ہو یا تو قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول رہے یا دعا کرے یا پھر اپنے اہل وعیال سے مفید بات چیت کرے ۔خواتین بھی مختلف کھانے پکانے چٹ پٹی تراکیب سے دسترخوان سجانے سے بہتر اپنے نفس کا تزکیہ  کریں،اپنے بچون کے ساتھ بیٹھ کر دعامانگیں۔اسوقت کی دعا بہت جلدی مقبول ہوتی ہے۔ اس وقت میں سب سے بہتر اور اچھا شغل یہ ہے کہ روزے داروں کی افطاری کے لیے کھانا لا کر یا پھر اسے تقسیم کرکے ان کا تعاون کرے ، اس کام کی بہت ہی عظیم لذت ہے ۔پھر افطاری کے بعد مردباجماعت نماز مغرب کی ادائیگی کے لیے مسجد کا رخ کرے ، اسکےبعد گھر واپس آئے اورجوکچھ میسر ہوکھائے پیئےاور خواتین نماز مغرب کے بعد جلد از جلدکچن سے فارغ ہوکر رات کے کھانے کادستر خوان لگائیں۔سب ساتھ کھاناکھائیں۔لیکن زيادہ نہيں کھانا چاہیے ، پھر اسے اس بات کی حرص رکھنی چاہیے کہ وہ عشاء سے قبل باقی ماندہ وقت کو اپنے اوراپنے اہل وعیال کے لیے مفید بنانےکےلیے کوئي قرآنی قصہ یا پھر یا احکام کی کتاب پڑھے.

یا گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر گھر کے کسی امور کی بابت بات کرلی جائے۔اس لیے کہ یہ وقت بہت ہی قیمتی ہے ، میرے بھائی اور بہن اپنے آپ سے غلط قسم کے افکار ،موبائل کے فتنے،انٹرنیٹ کے غلط استعمال اوران وسائل  کو دور رکھیں جوایمانیات و اخلاقیات کا جنازہ نکال دیتے ہیں ، اوراپنے رعایا کے بارےمیں اللہ تعالی کا ڈر وخوف اختیار کریں کیونکہ روز قیامت اس کے بارہ میں سوال ہوگا ، اس لیے سوال کا جواب تیار کرلیں ۔اس کے بعد نماز عشاء ادا کریں اورعشاء  میں امام کے پیچھے خشوع وخضوع کے ساتھ نماز تراویح ادا کرنی چاہییں۔اگر خواتین کی تراویح آپ کے گھر سے نزدیک ہے تو خواتین بھی نماز عشاء بھی امام کے پیچھے عشاءو نماز تراویح کا اہتمام کریں ۔اس  کے بعد آپ اپنے لیے  اور اپنے اہل خانہ کے لئے کوئي مناسب سا پروگرام تیار کریں جوآپ کی شخصیت اور حالات کے مناسب ہو اوراس میں ان کاموں کا خیال رکھیں۔ہرقسم کے حرام اوراس کی جانب لےجانے والےکاموں سے اجتناب کریں ۔اپنے گھر والوں  کے لئے بھی ہمیشہ خیال رکھیں کہ کہیں وہ بھی کچھ حرام کام یا اس کے اسباب کا ارتکاب نہ کرلیں اسکے لئےآپ کو حکمت ودانش والا طریقہ اختیار کرنا ہوگا ، مثلا آپ ان کے لیے کوئي خاص پروگرام ،سیرو تفریح وغیرہ فراہم کرسکتے ہیں۔

فرائض و عبادات اپنے معمولات زندگی کے فوری بعدکوشش کریں کہ جلد سوئيں اورسونے میں ان قولی اورعملی آداب پر عمل کریں ، اوراگرآپ سونے سے قبل قرآن مجید کی تلاوت کرلیں یا پھر کوئي اچھی سی کتاب پڑھ لیں تو یہ بہت بہتر ہے سحری سے قبل اٹھیں خواتین سحری بنانے سے پہلے اور مرد اسوقت میں اللہ تعالی سے دعا کریں کیونکہ یہ رات کا آخری حصہ ہے جس میں نزول الہی ہوتا ہے اوراللہ تعالی نے توبہ واستغفار کرنے والوں کی بہت زیادہ تعریف کی ہے ، اور اسی طرح اس وقت میں دعا اور توبہ کرنے والوں کی دعا اورتوبہ قبول کرنے کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔کوشش کریں بازاروں میں بالکل جانا ناہو.

اگر انتہائی مجبوری میں جاناہوتو ٹائم دیکھ کر جلد سے جلد گھر آنے کی کوشش کریں تاکہ تھکن سے تراویح ضائع نہ ہو۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں سے مکمل فیضیاب ہونے کی توفیق عطافرمائےاور امت مسلمہ کی دگرگوں حالت کو بہتری کی جانب گامزن کردے. آمین یا رب العالمین.

Add Comment

Click here to post a comment