Home » آسان دین- ایمن طارق
بلاگز

آسان دین- ایمن طارق

ہلکی پھلکی شخصیت کا مالک ہونا اور اپنے اردگرد لوگوں کو اپنے ساتھ شامل رکھنا لوگوں کے دل میں جگہ بنانے کا ایک گر ہے۔ آپ نے بھی ایسے احباب دیکھے ہوں گے جو محفل میں ہوں تب بھی کسی کو اکیلا محسوس نہیں کرنے دیتے اور اکیلے میں ملاقات کریں تب بھی اپنی مسکراتی ہوئی شخصیت سے آپ کو بھی مسکرانے پر مجبور کردیتے ہیں۔

کچھ دن قبل میں نے شئر کیا کہ پھکڑ اور گھسے پٹے مذاق اچھے نہیں لگتے تو کسی نے پوچھا کہ پھر کیا بحیثیت مسلمان ہم ایک سنجیدہ اور بور انسان بن جائیں ؟ یہ سوال مجھے سوچنے پر مجبور کرنے لگا کہ ہم ایسی شخصیت کیسے بنیں کہ جو نہ ہی سخت اور کرخت ہو اور نہ ہو اتنی ہلکی کہ کبھی سنجیدگی نہ دکھاۓ ۔ خصوصا مجھے یہ کانسیپٹ اپنے بچوں کے ساتھ ڈسکس کرنے کی اہمیت محسوس ہوئ کہ آخر ایک اچھا انسان خوش مزاج مسلمان کیسے بن سکتا ہے ؟
ہمارے دور کے بچے سنجیدہ گفتگو اور طویل گفتگو سے دور بھاگتے اور سختی اور درشتگی کو پسند نہیں کرتے تو پھر ہم اُن کو کیسے یہ سکھائیں کہ ہمارا دین بھی ہمیں ایک مسکراتی ہوئ شخصیت بننے کی طرف ترغیب دیتا ہےلیکن وہ شخصیت جو تکلیف اور دل توڑنے کا سبب نہ بنے ۔
حضرت زید بن ثابت رخی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوسی تھے کہتے ہیں کہ ہم سب جب دنیا کی باتیں کرتے تو نبی کریم صلہ اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے ساتھ دنیا کی باتیں کرتے اور جب ہم آخرت کی باتیں کرتے تو وہ ہمارے ساتھ آخرت کی باتیں کرتے اور جب ہم کھانے پینے کی باتیں کرتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے ساتھ اسی موضوع پر بات کرتے۔

ہمارے لئے بیلینس شخصیت کا بہترین نمونہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے ۔ لوگ دین سے دور بھاگتے ہیں اس لیے کہ سمجھتے ہیں کہ دین پر عمل کا مطکب خشک اور بے رنگ زندگی ہےاور دین پر چلنے والے سخت تاثرات اور درشتگی والے چہرے لیے لوگ ہوں گے حالانکہ اس کے بالکل برعکس بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ مذاق بھی کیا کرتے ۔ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اونٹ کی سواری عطا کریں ۔ أپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا ۔ اس نے حیرت سے پوچھا اونٹنی کا بچہ سواری کے قابل کیسے ہوسکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ بھی تو آخر کسی اونٹنی کا بچہ ہوتا ہے ۔ *گھر والوں کے ساتھ ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ محبت پیدا کرتی ہے ۔ وہ واقعہ جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ہمارے گھر موجود تھے ۔ میں نے اُن کے لیے حریرہ تیار کیا اور کھانے کے لئے پیش کیا ۔ حضرت سودہ نے کہا مجھے پسند نہیں ہے ۔

میں نے سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تمہیں کھانا ہوگا ورنہ چہرے پر مل دوں گی ۔ انہوں نے پھر بھی انکار کیا تو میں نے اُن کے چہرے پر مل دیا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بیٹھے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا سا جھک گۓ تاکہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بھی میرے چہرے پر حریرہ مل سکیں ۔ انہوں نے مل دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر ہنستے رہے ۔ کسی موقع پر یہ ملتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض حبشیوں کو مسجد نبوی میں کھیل تماشا دکھانے کی اجازت دی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی دیکھتے رہے اور حضرت عاشہ رضی اللہ عنہا کو بھی دکھاتے رہے ۔ بعض لوگ اپنے مزاج میں خشک طبعیت اور درشت ہوتے ہیں لیکن عموما اگر کوئ دین پر چلتا ہے تو لوگ زیادہ اُس کی جانب متوجہ ہوتے ہیں کہ اندازہ لگایا جاۓ کہ دین پر عمل انسان کو لوگوں سے قریب کرتا ہے یا دور اور بہت دفعہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پیارے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں ہنستے مسکراتے اور خوشگوار شخصیت کے مالک تھے اگر ہم چاہیں تو اُن سے محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اُن کے جیسے بنیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھتے تھے ۔ حضرت ابو دردا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں “میں کھیل تماشے کے زریعے اپنے آپ کو طاقت فراہم کرتا ہوں تاکہ حق کے کام کے لیے چست اور پھرتیلا ہوں ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے : “جس طرح جسم اُکتا جاتا ہے ایسے دل بھی اُکتا جاتا ہے ۔ اس کی اُکتاہٹ دور کرنے کے لئے حکمت سے پُر لطیفے تلاش کرو “۔ البتہ وہی بات یاد رہے کہ ہنسی مذاق جائز ہے خوشی منانا ، سیلیبریٹ کرنا یہ سب عین دین ہے لیکن ممانعت اس کی ہے کہ دوسرے کی تذلیل نہ کی جاۓ ۔
“اے ایمان والوں ایک دوسرے کا مذاق نہ اُڑاو “(الحجرات )
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ بھی قول ہے کہ “اپنی گفتگو میں مزاح پیدا کرو اُتنا جتنا کہ کھانے میں نمک ڈالتے ہو “ یعنی ہنسی مذاق اور کھیل تماشہ ایسا نہ ہو کہ انسان اُس میں مگن ہوکر اپنی موت کو ہی بھول جاۓ جو اگلے ہی لمحے منتظر ہوسکتی ہے ۔

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。