Home » کون حق پر ہے؟ – ہمایوں مجاہد تارڑ
بلاگز

کون حق پر ہے؟ – ہمایوں مجاہد تارڑ

یہ ایک پرانا و آزمودہ، اور چٹان جیسا پختہ تجربہ ہے۔ میں بیسیوں مرتبہ اس تجربہ و احساس اور کیفیت میں سے گذرا ہوں۔ ایسا نہ ہوتا تو دہریوں کے دلائل پڑھ پڑھ خدا پر ایمان سے جاتا، یا میں اللہ کے وجود سے متعلق گومگو والی کیفیت میں رہا کرتا۔

یہی تجربہ و احساس مجھے باور کراتا ہے کہ اگرچہ خدا ہمیں پیغمبرؐ اور کتاب کی وساطت سے ملا، تاہم آگے کے سفر میں، یعنی اِن دو ذرائع سے ایک قدم آگے بڑھ کر خود اپنی احساسی لیبارٹری کی سطح پر بھی ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے کہ اللہ نام کی کوئی ہستی واقعتاً ہے یا وہ محض ایک تصوّر ہے، محض خواب و خیال جسے ہم پوجتے رہتے ہیں۔ میرے ساتھ اِس فروری کے آخری عشرے میں ایک چھوٹا سا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں مجھے تین مارچ کو ایک بھاری بھرکم اور اہم کمٹمنٹ پوری کرنا تھی۔ جبکہ میں ہر گز اس قابل نہ تھا کہ کمٹمنٹ پوری کر سکوں۔ ہوتے ہوتے 28 فروری آ گئی۔ میں مضطرب کہ اب کیا کروں؟کمٹمنٹ پوری کرنے کو جو رِیسورس درکار ہے، کہاں سے لاؤں؟ یہ میرے بس کی بات ہی نہیں۔ خیر، 28 فروری کی صبح نماز پڑھ کر معمول کی تسبیح پڑھی، اور پھر ایک خاص کیفیت میں مزید جو کچھ منہ میں آیا پڑھتا چلا گیا، بہت دیر تک۔ ہوتے ہوتے صبح کے 9 بج گئے، اور میں نڈھال ہو کر لیٹ گیا۔ لیٹتے ہی میری آنکھ لگ گئی۔ یہ بس آدھ گھنٹے کی نیند تھی۔

نیند کی آغوش میں پہنچ کر ایک منظر دیکھا۔ میں اپنی فیملی کے ہمراہ ایک چھوٹے سے گھر میں ہوں۔اچانک باہر مین گیٹ پر کوئی بیل بجاتا ہے، یا شاید گیٹ پر دستک ہوئی تھی۔ میں کمرے سے نکل کر باہر کار پارکنگ میں آتا ہوں، اور پوچھتا ہوں ‘کون؟’ اب گیٹ میں ایک سُوراخ ہے جس پر میں نظریں جما لیتا ہوں کہ جو کوئی ہے اِس سوراخ کے سامنے ضرور آئے گا۔ جلد ہی دوسری طرف سے اس سوراخ پر ایک خاکی لفافے والا پیکٹ رکھ دیا جاتا ہے، یہ ظاہر کرنے کو کہ ‘آپ کی ڈاک ہے، وصول کر لیں۔’ اب میں پاکٹ گیٹ کھول دیتا ہوں۔ خوب گوری چٹی شکل والا ایک دبلا پتلا آدمی جس کا سارا وجود چادر میں لپٹا ہے بائیں طرف ہو کر کھڑا ہے۔ مجھےدیکھتے ہی وہ ہاتھ بڑھا کرخاکی رنگت والا پیکٹ خاموشی سے میری طرف بڑھا دیتا ہے، پھر پلٹ کر رخصت ہو جاتا ہے۔ میں پیکٹ لے کر واپس پلٹتا ہوں اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگتا ہوں ۔۔۔ اسی دوران میری آنکھ کھل گئی۔ خواب کے حوالے سے ایک اہم بات یہ نوٹ کی ہے کہ خواب کے دوران اور بیدار ہونے پر آپ کی کیفیت کیا ہے۔ تو میرے دل پر اطمینان کی کیفیت تھی۔

گذشتہ تجربات کی روشنی میں مَیں جان گیا کہ ‘کال مل گئی۔’ اور ‘آفاق سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر’ کے مصداق cosmic system میرے حق میں ایکٹو ہو چکا ہے۔ اگلے دو چار روز مجھے مضبوطیِ قلب نصیب رہی۔ ٹھیک 3 مارچ کو موبائل فون پر مجھے ایک ایسا پیغام وصول ہوا جو میرے مسئلے کا مکمل حل لیے ہوئے تھا۔ اور اس کے نتیجے میں مَیں ناپ تول کر، اللہ کے فضل و کرم سے، اپنی کمٹمنٹ بہ احسن نبھانے میں کامیاب ہو گیا۔ لفظ ‘بہ احسن’ پر زور ہے! الحمداللہ، ایسے واقعات کی ایک طویل قطار ہے اپنے ہاں۔ مثلاً، سن 2011 میں ایک اضطراب بھرا ہفتہ ایسا تھا جس میں مجھے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ میں فلاں صاحب پر اعتبار کر لوں یا نہ کروں۔ اس خاطر کوئی زمینی سورس دستیاب نہ تھا کہ پتہ چلا لیتا ۔۔۔ اب اسی طرح دن کا وقت ہے۔ میں تسبیح ہاتھ میں لیے پڑھتے پڑھتے سو جاتا ہوں۔ اور خواب میں مجھے فی الفور ہی ایک خوفناک اژدھا دکھایا جاتا ہے جو گردوپیش میں موجود اشیاء کو تیزی سے ہڑپ کرنے میں مصروف ہے۔ میری کیفیت یہ کہ عنقریب یہ مجھے بھی کھا جائے گا۔ مگر یکلخت وہ اپنا وجود سمیٹ کر پلٹتا ہے اور منظر سے غائب ہو جاتا ہے۔۔۔ نتیجتاً، میں ایک بڑے نقصان سے بچ گیا۔ یعنی بیدار ہونے پر ایک تو یہ یقین مل گیا کہ ‘اعتبار نہیں کرنا’، دوسرے، اگلے پندرہ منٹوں میں ہی اُن صاحب کی اصل حقیقت مجھ پر ایکسپوز ہو گئی۔

اب سنیں۔ اس مرتبہ تین اپریل کو بھی یہی کچھ ہوا۔ ملکی سطح پر سیاسی صورتحال، خلفشار، شورشرابا، جتنے منہ اتنی باتیں۔ کس پر اعتبار کریں، کس پر نہیں۔ دل سے ایک ہُوک سی اُٹھی کہ خدایا، آج جس کے دل میں کھوٹ ہے، اُسے اُجاڑ دے، اسے اڑا دے۔ جو اِس مخصوص معاملے میں سچا ہے، بس اُسے رکھ لے ۔۔۔ میں نے اُس روز پوسٹ لگائی تھی ۔ کہ کیسے میں انتظار کرتے کرتے سو گیا تھا۔ پھر مسز نے جگا دیا، اور خبر سنائی کہ تحریکِ عدم اعتماد پیش ہی نہیں ہو سکی۔ قومی اسمبلی تحلیل کر دی گئی ہے۔ سب فارغ ہو چکے، اُڑ اُڑا گئے۔ صرف خان صاحب بچے ہیں۔ مبارک ہو! یہ دیکھیں ۔ ٹیلی ویژن اسکرین پر کوئی نیوزچینل آن تھا۔ یہ بڑے گھن گرج والا منظر تھا۔ مجھے اپنے کانوں میں اُس فاتحانہ، فلک شگاف نعرے کی گونج سنائی دی جو ہالی ووڈ فلم ‘دا لاسٹ سیمورائے’ میں سیمورائے قبیلہ دشمن قبیلے کے حملہ کو پسپا کرنے کے بعد لگاتا ہے ۔۔۔ یاد ہے وہ منظر؟

Add Comment

Click here to post a comment