Home » روداد آن لائن رائٹرز ہب – انعم حسین
بلاگز

روداد آن لائن رائٹرز ہب – انعم حسین

ہفتہ کا دن تھا۔ اور سب سے خاص بات یہ تھی کہ آج رات پہلا روزہ تھا۔۔ جی ہاں! آج رمضان المبارک کی آمد تھی۔ گھر میں ہر طرف خوشی ہی خوشی تھی۔ ہر طرف رمضان المبارک کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ سب تیاریوں میں مصروف تھے۔ سڑکوں پر، بازاروں میں اور ہر جگہ رونقیں تھیں۔ سب گلیاں روشن نظر آرہی تھیں اور ایک خاص بات یہ کہ آج ہم چھوٹے سے لکھاریوں کے لیے ہماری پیاری سوسائٹی۔۔۔ جی ہاں۔۔ “علم و ادب سوسائٹی، زون شرقی” کی جانب سے ہمارے لیے ایک آن لائن ورکشاپ منعقد کی گئی تھی۔ دوپہر کا وقت تھا۔۔ ہر طرف سے نماز ظہر کی اذانیں گھونج رہی تھیں۔۔ میں نے بھی وضو کیا اور جائے نماز اٹھائی۔ نماز پڑھ کر جیسے ہی فارغ ہوئی تو فون اٹھایا اور واٹس ایپ کھولا تو ہماری نئی نگران صاحبہ “پیاری ابیحہ مریم” کا علم و ادب زون شرقی کے گروپ پر میسج آیا ہوا تھا۔ محترمہ ہم سب کو ورکشاپ کی یاد دہانی کروا رہی تھیں کہ کچھ ہی دیر میں ہماری ورکشاپ کا آغاز ہوگا سب وقت پر میٹنگ جوائن کر لیجیئے گا۔

اصل میں ہماری نگران باجی کو اپنے پیارے ممبرز سے ملنے کی بہت خواہش تھی۔ کچھ وجوہات کی بنا پر ملاقات نہیں کر پا رہے تھے اس لیے انہوں نے آن لائن اپنے ممبران سے ملنے کے لیے یہ ورکشاپ رکھی جو کہ “رائٹرز ہب” کے نام سے تھی اور زوم ایپ کے ذریعے ہوئی۔ جس میں علم و ادب زون شرقی کے ممبرز نے شرکت کی اور کافی کچھ سیکھا۔

جی تو ہماری ورکشاپ کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا۔ اس کے بعد، پہلے نگران باجی نے اور پھر تمام شرکاء نے اپنا تعارف دیا۔ اس کے بعد ہماری نگران باجی نے ہم سے کچھ ضروری باتیں کی۔ ہمیں بتایا کہ قلم کو رواں رکھنے کیلئے قلمی ساتھی کتنے اہم ہیں۔ علم و ادب کا اصل مقصد بھی بتایا۔ یوں ہم اپنی نگران سے گھل مل گئے۔ اب ایکٹیوٹی کا وقت تھا۔ جس میں ہم سے کچھ ہلکے پھلکے معصومانہ سوالات کیے گئے۔۔۔ جن کا جواب کاپی پر لکھ کر اس کی تصویر واٹس ایپ گروپ پر بھیجنی تھی۔

چھوٹی موٹی سرگرمیوں میں ایک گھنٹہ گزر گیا اور ورکشاپ کا وقت آن پہنچا۔ “محترمہ آمنہ صدیقی باجی” نے ہمیں بطور لکھاری ہماری اہمیت بتائی۔ یہ بھی بتایا کہ ہم اپنے الفاظ کے ذریعے دنیا کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ: “ہمارے لکھنے کا مقصد رضائے الہی ہے نہ کہ شہرت کا حصول۔۔ ہم لکھاریوں کے لیے شہرت کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔ ہمارا مقصد شہرت نہیں ہے۔” ‘مولانا مودودی’ کی کہی گئی باتوں کی آمنہ صدیقی باجی نے بہت اچھی طرح وضاحت کی۔۔ “ہماری تحریریں کسی کو پیار سے سمجھانے والی ہوں۔ تحاریر میں اثر ہونا بہت ضروری ہے۔ ہم fighter اس وقت بنیں گے جب ہماری تحریروں میں اثر ہوگا۔۔۔ اور یہی تو ہماری ورکشاپ کا عنوان تھا کہ: “Writers Are The Real Fighters”۔ اس کے علاوہ بھی اس مختصر سی ورکشاپ سے بہت کچھ سیکھا اور ضروری باتیں اپنی ڈائری میں نوٹ بھی کرلی۔

اب ہماری ورکشاپ اختتام کی جانب تھی۔ نگران صاحبہ نے دعا کروائی۔ ان کے لیے بھی ہمارے دل سے دعائیں نکل رہی تھیں۔
~ ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

Add Comment

Click here to post a comment