Home » ذہنی غلامی – ریطہ طارق
بلاگز

ذہنی غلامی – ریطہ طارق

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں،
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

غلامی ایک طوق ہے،ایک لعنت ہے،ایک عذابِ خداوندی ہے جو ان قوموں پہ مسلط کردیا جاتا ہے،جو یقین اور ایمان سے محروم ہوجائیں،جو قومیں اپنی روح،اپنا وقار اور اپنی شناخت کھودیتی ہیں،اپنی روایات و اقدار اپنی ثقافت کھودیتی ہیں اور اپنی زبان کے معاملے میں احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتی ہیں،وہی پھر کسی دوسری قوم کی برتری کو تسلیم کرلیتی ہیں،اسطرح وہ ذہنی غلام بن جاتی ہیں،اور ایسے میں کسی بھی بیرونی حملہ آور کا بظاہر آزاد لیکن ہاری ہوئ ذہنی غلام قوم پر اپنا تسلط جمانا کوئ مشکل نہیں ہوتا اور یہی برصغیر کے اس خطے میں ہوا۔۔۔۔۔۔جہاں کبھی ہماری قوم نے پوری آب وتاب سے حکومت کی تھی۔ہم بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو چکے ہیں،ہم زوال پذیر نہیں زوال یافتہ ہیں،ہم وہ کچھ چھوڑ چکے ہیں جو ہماری پہچان تھا،ہمارا دین ہمارا مذہب ہماری روح میں جذبہ شہادت کی لذت،سب کچھ ہم نے چھوڑا ہے۔
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے
شمشیر و سناں اول،طاؤس و رباب آخر

ہماری شکست و ریخت خود ساختہ ہے،بیرونی حملہ آوروں کا ہم پر غالب آنا محض آس بیج کا پھل ہے جو ہم نے خود بویا ہےکہ جو قوم عیش وعشرت اور آرام کو اپنا وطیرہ بنالیتی ہے،بر وقت بیدار نہیں ہوتی اپنے اوپر غیر ذمہ دار حکمران مسلط کرلیتی ہے تو وہ ایسے ہی تاریخ کے صفحات میں گم ہوجایا کرتی ہے جیسے پچھلے ادوار میں قوموں نے اپنے آپ کو غرق کرلیا،ہمارا ربط اپنی بنیادوں سے انتہائ کم ہوچکا ہے،ہم بھول چکے ہیں کہ ہم کن قومی روایات کے امین ہیں۔
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا۔
وہ قوم جس نے ہمیں پالا تھا،جس نے چھاؤں دی تھی،جس نے قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کا تختہ الٹ دیا تھا،اس قوم کی قوت اسکے ہتھیار میں یا اسکی تدبیروں میں نہیں تھی،اسکا جذبہ ایمانی ہی اسکی اصل طاقت تھی،اور وہی جذبہ ایمانی ہم کھوچکے۔
امارت کیا،شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل
نہ زورِ حیدری تجھ میں،نہ استغنائے سلمانی

آج قیصر و کسریٰ کے استبداد کو للکارنے اور مٹانے کے لیے فقرو بوذر ہے نہ ،زورِ حیدر ہے اور نہ ہی صدق سلمانی کہیں نظر آتی ہے۔غلامی کو آزادی میں بدلنے کیلئے اس جذبہ ایمانی کی ضرورت ہے جس نے ہمارے اسلاف کو وہ قوت بخشی تھی کہ انکی تلواریں دشمن کے لیے اجل کا پیغام ہوا کرتی تھیں،اور اہل ایمان کے لیے فتح و نصرت کا نشان۔ آزاد قوم وہ ہے جسکی رگ رگ میں اسکی خودی کا طلسم ہوتا ہے،جو پرواز آسمانوں پر کرتی ہے،نگاہوں کو زمین پر رکھتی ہے،جو بکتی نہیں ہے غیروں کے ہاتھوں،جو پیوسطہ ہوتی ہے شجرِ اسلام سے،وہی اپنی عظمت عالم ایواں میں برقرار رکھ پاتی ہے،لیکن جس قوم کے ضمیروں میں غلامی سرایت کر جائے وہ پھر ذہنی غلام بن جاتی ہے،اس پر ایسے ہی غلامانہ حاکم مسلط ہوجاتے ہیں،عدالتیں قانون سب غلامی پستی کا شاہکار ہوتا ہے،اس طوق سے آزادی تب ہی ممکن ہے کہ جب ہماری سیاست اور ہم مسلمان دین کی سر بلندی کے لیے یکسو ہوں،اس جدوجہد کے لیے ہماری کاوش دین کے ضابطہِ اخلاق کی بنیادوں پر ہو،تب ہی ممکن ہے کہ غلامی کا زہر ختم ہوسکے۔یہ تو وہ قوم ہے جو پتھر کا جواب پتھر سے دے،چٹانوں جو ریزہ ریزہ کردے،مگر دشمن کی ناپاک سازش کا حصہ نہ بنے،نہ ہی اپنا آپ ،اپنا آشیانہ اپنا نشیمن اپنا نظریہ بیچ ڈالے،اگر ایسا کر ڈالے تو کچھ بھی ممکن نہیں سب کچھ دشمن کو دے کر یہ اپنے آپ کو تباہ کرلے اور بے شک ایسی قومیں راستی کے لیے جب ایسے باب رقم کرڈالتی ہیں،تاریخ کا بدترین سبق ہوتی ہیں۔اپنا لوہا منوانے والی نڈر قومیں اپنے پنجے دشمن کے سینے پہ گاڑدیتی ہیں،کسی گندی سیاست کا لقمہ نہیں بنتیں۔

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
مسلمان کے اندر غلامی کا قاتل جذبہ جس راز کو اقبال نے افشاں کیا،جب دشمن کو دیکھ کر تن جائے، اپنوں کے ساتھ احسان والا معاملہ کرے،جھوٹ، فریب،امانت میں خیانت سے پاک ہو،جسکی عظمت اتنی پروقار ہو کہ چلتا پھرتا مسلمان نظر آئے،غمگساروں کی دستگیری کرنے والا ہو،ایک آزادی فکر کا پروانہ ہو،دینِ شاہباز ہو،اسکے ذرے ذرے میں قوتِ اشراق ہو ،اسکی مشتِ خاک میں آتشِ ہمہ سوز ہو۔ایسے میں ممکن نہیں کہ اس قوم کی ذہنی آزادی چمن چمن گلزار بنادے،ظلمت کی تاریکی کو نیست و نابود کردے،خوشحالی کی ضمانت بن جائے

Add Comment

Click here to post a comment