بلاگز

شادی اور اعتماد – جہاں آراء

گاڑی میں بیٹھتے ہی افروزہ نے مجھ سے پوچھا طفیل صاحب آپ کو لڑکا کیسا لگا۔ارے افروزہ بیگم، مجھےآپ سانس تو لینے دیں۔مجھے تو بہت پسند آیا۔افروزہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا!آپ ہمیشہ ہر کام میں جلدی کرتی ہیں۔طفیل نے مسکراتے ہوئے کہا نیک کام میں ہمیشہ جلدی کرنا چاہیے۔اور جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے۔طفیل نے کہابس مجھے جلدی سے بتائیں کیسا لگا!افروزہ نے مصنوعی غصے سے کہا۔ہاں بھئی ہمیں بھی راحیل پسند آئے۔اور فیملی بھی اچھی ہے

ہم میاں بیوی بہت خوش تھے۔ہماری ایک ہی بیٹی نازیہ تھی اور اس کی پڑھائی مکمل ہوتے ہی مناسب جگہ رشتہ طے ہوگیا۔ خاندان کے لوگوں سے بھی رائے لی سب کو راحیل کو پسند کیا راحیل کےوالد ،طاہرشیخ نے رشتہ طے ہونے کے بعد کہا میں اپنے بیٹے کی جلد شادی کرونگا۔ میری یبیٹیاں اپنے گھروں کی ہوگئی ہیں۔اور گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔اگر آپ لوگ راضی ہوتے ہیں تو چھ مہینے میں شادی فکس کردیتے ھیں سب کچھ بظاہرٹھیک لگ رہا تھا۔اس لئے منگنی ہی کی رسم میں ڈیٹ فکس کردی گٸی اب اکثر میری بیگم شاپنگ پر چلی جاتیں اور کپڑے اور دیگر سامان لے آتیں ۔ارے بیگم کتنی خریداری کرو گی،اب تو گھر میں جگہ بھی نہیں ہے۔جب کہ ان لوگوں نے جہیز سے بھی منع کر دیا ہے۔میری ایک ہی تو بیٹی ہے۔اور آپ منع نہ کریں۔اچھابھئی ٹھیک ہے۔آج طفیل گھر آئے تو افروزہ اور نازیہ بازار گئی ہوئی تھیں فون کی گھنٹی بجی تو طفیل نے فون اٹھایا ۔جی کون؟آپ طفیل صاحب بات کررہے ہیں۔جی مگر آپ کون ؟طفیل صاحب میں آپ کا ہمدرد ہوں۔جی میں سمجھا نہیں۔وہ آپ راحیل کو جانتے ہیں۔ہاں کیوں کیا ہوا راحیل کو،نہیں راحیل کو کچھ نہیں ہوا۔مجھے یہ کہنا ہے کہ راحیل کچھ عرصہ جیل میں رہ کر آیا ہے۔

بھائی آپ یہ کیا کہ رہے ہیں۔طفیل نے پریشانی سے کہا،میں سچ کہہ رہا ہوں۔ آپ محلے سے پتہ کروا لیں۔طفیل میاں بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔گھر کی ڈور بیل بجی تو جلدی سے دروازے کھولانازیہ کافی شاپنگ بیگ اٹھا ہوئے تھی۔ناذیہ زرا چائے تو بنا دو میرے سر میں درد ہے۔افروزہ نے کہا میں بناکر لاتی ہوں۔ نہیں نازیہ ہی بنائے گی وہ اسٹرونگ چائے بنا تی ہےنازیہ مسکراتے ہوئے کچن کی جانب چل دی۔طفیل آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں۔میں نےفون کال کے بارے میں بتایا تو وہ بھی پریشان ہوگئی اور کہا یہ جھوٹ بھی ہوسکتا ہے اچھا پھر میں پتہ کرواتا ہوں۔افروزہ فکر مند تھی،کارڈ بٹ چکے تھے۔نازیہ خوش تھی اب کیا کروں۔ اور شکر بھی ادا کر رہی تھی کہ نکاح نہیں ہوا سب کہہ رہے تھے منگنی میں نکاح ہو جائے مگر طفیل نہیں مانےپتہ کروایا تو یہ بات سچ نکلی مگر وجہ کیا تھی یہ پتہ نہیں چلا۔ پھر طاہر شیخ کے گھر گئے تو انھوں نے بیٹھنے کو کہا میں بیٹھنے نہیں آیا!طفیل نے اپنے جذبات پرقابو رکھا۔مگر کیا ہو۔اطاہر شیخ نے ،نہ سمجھتے ہوئے کہا ۔کیا آپ کا بیٹا جیل میں رہ کر آیا ہے ۔اب طاہر شیخ پر ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جارہا تھا۔طاہر نے بیگم کی طرف دیکھتے ہو ۓ کہا میں نے کہا نہیں تھا۔یہ بات آپ بتائیں مگر آپ نے یہ کہہ کر منع کردیا یہ بات کافی پرانی ہے۔بیگم نے کہا ہاں میرا بیٹا جیل گیا تھا مگر وہ بے قصور ہے ۔

ہر ماں باپ اپنے بچے کو بے قصور سمجھتے ہیں۔طفیل نے ناراضگی سے کہا!آپ عدالت یا پولیس سے معلوم کروالیں۔طاھر شیخ نے کہابات کیا تھی۔طفیل نے کہا۔بات دراصل یہ تھی۔راحیل کا ایک اچھا دوست تھا اس نے راحیل سے کہا ابھی میرا شناختی کارڈ نہیں بنا اگر کوئی سم فالتو ہے تو مجھے دے دو اس نے اپنی سم دے دی۔ اور خود نئ لے لی۔دوست تو اچھا تھا ۔مگر اس کا بھائی کسی پارٹی میں تھا۔ اس نے اس سم سےبھتہ مانگ لیا ۔سم تو میرے بیٹے کے نام پر تھی اس لئے میرے بیٹے کو پولیس اٹھا کر لے گئی۔مگر جب ٹریس کیا تو وہ دوست کے بھائی جاوید کے پاس سے برآمد ہوگئی۔پھر مقدمہ ہوا۔اور راحیل باعزت بری ہوا۔پھر طفیل نے خود جاکرپتہ کیا تویہ بات ٹھیک نکلی۔طفیل نے سوچا اچھا ہوا جلد بازی میں میں نے رشتہ ختم نہیں کیاپھر نازیہ کی راحیل کے ساتھ شادی ہوگئی۔اور وہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment