بلاگز

“پاکستانیوں کو نکالو” -عالم خان

لکھتا ہوں اور مٹاتا ہوں کیا لکھوں ذہن و قلم ساتھ دینے سے قاصر ہیں شرم سے پانی پانی ہوں ویسے بھی ایک پاکستانی کی حثیت سے کسی ترک سے آنکھیں نہیں ملا سکتا ہوں آج تو انتہا ہوگئی۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ پانچ سال پہلے ایک پاکستانی فیملی آتی ہے ان کے دو لڑکے ایک ترکش فیملی کی دو بیٹیوں کو محبت کا جھانسہ دے کر سکول سے اغوا کرتے ہیںایک لڑکی کی عمر پندرہ اور دوسری کی تیرہ سال ہےوالدین پانچ سال پہلے ٹی وی کے ایک مشہور پروگرام میں شرکت کرتے ہیں اور ہمسائیہ پاکستانی فیملی کا داستان سناتے ہیں۔ اور یوں ترکی میں دونوں بہنوں کو پاکستانیوں کے ہاتھوں اغوا کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس سال رمضان کریم میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں ایک لڑکی ترکش بولتی ہے ساتھ بیٹھا ایک شخص جو بچے کو کچھ کھلاتا ہے اور ساتھ خود بھی شپ شپ کر کے کھاتا ہے لڑکی سے انتہائی بد تمیزی بے وقوفانہ اسلوب اور غصیلے انداز میں مخاطب ہے کہ “اردو بولو اردو”سہمی ہوئی لڑکی فورا اردو بولنا شروع کردیتی ہے۔

یہ ویڈیو جوں ہی ترکی پہنچتی ہے اس لڑکی کو پہچان لیا جاتا ہے کہ یہ تو ان دو بہنوں میں سے ایک ہے۔ والدین نے جس ٹی وی پروگرام میں اپنے بچیوں کے غائب ہونے اور اغوا کا اعلان کیا تھا اس پروگرام کی اینکر اس لڑکی کے ساتھ سکائپ پر رابطہ کرتی ہے اور پتا چلتا ہے کہ لڑکی کی عمر ابھی تک اٹھارہ سال نہیں ہوئی لیکن وہ تین بچوں کی ماں بن چکی ہے اور پاکستان میں ہے۔ پروگرام دیکھتے ہوئے جن الفاظ نے مجھے ایک پاکستانی ہونے کے ناطے شرم سے پانی پانی کیا وہ اینکر کے یہ الفاظ تھے؛ ” اے پاکستانیوں! آپ لوگوں کے لئے ہم نے اپنے گھر کا دروازہ کھولا آپ لوگوں کو روزگار اور بہتر زندگی گزارنے کا موقع دیا اس کے بدلے میں آپ لوگوں نے ہماری عزت پر ہاتھ ڈال کر تیرہ سال کی بچی کو یہاں سے پاکستان اغوا کیا جو اب تین بچوں کی ماں ہے جس کی سزا ترکی کے قانون میں اٹھارہ سال جیل ہے”۔

یاد رہے کہ ترکی میں غیر قانونی طریقے سے داخل مقیم پاکستانیوں کے بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے “پاکستانیوں کو نکالو” ٹرینڈ چل رہا ہے اور اس کیس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ ان حالات کے پیش نظر پاکستان اور ترکی ویزہ کی شرائط میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کو ملک بدر یا پابندی کا قوی امکان ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment