بلاگز

“عید کیسے منائیں؟؟” لائبہ عامر

30 دن کا ایک ٹریننگ سیشن لے کر باقی گیارہ مہینے اسکو جاری و ساری رکھنے کی عادت ہو جانی چاہیے لیکن ہمارے معاشرے میں تو عید کا چاند نظر آتے ہی ایسا لگتا ہے کہ سب کسی قید سے آزاد ہو گئے ہوں نعوذباللہ۔۔۔۔۔اسی رویے کی وجہ سے ہمیں روزوں سے وہ تقوی حاصل نہیں ہوتا جو رب کو مقصود ہے۔روزے کا اصل مقصد ہی تقوی کا حصول بتایا گیا ہے۔

سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:”اے لوگو!جو ایمان لائے ہو؛تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں,جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے۔اس سے توقع ہے کہ تم میں تقوی کی صفت پیدا ہو گی۔” رمضان المبارک میں بھی پہلے کی طرح وہ ماحول نظر نہیں آتا جو کچھ عرصے قبل ہوا کرتا تھا۔دورہ قرآن کے لئے باہر نکلنے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کہ ایک ہٹا کٹا نوجوان بوتل سے منہ لگائے پانی پی رہا ہے۔گھر آکر تذکرہ کیا تو ابو نے کہا کہ اب یہ بات بہت عام ہوگئی ہے کیونکہ صرف 40 سے 50 فیصد لوگ روزے رکھتے ہیں باقی کو کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ پہلے روزے داروں کے سامنے کچھ کھاتے ہوئے شرم آتی تھی لیکن اب تو کھلے عام لوگ کھا پی رہے ہوتے ہیں۔پہلے چھوٹے بچوں کو بھی یہ تربیت دی جاتی تھی کہ روزے داروں کا احترام کرناہے اور ان کے سامنے کچھ کھانا پینا نہیں ہے۔روزے داروں سے چھپ کر کھانا ہے۔لیکن آج یہ تربیت کہیں گم سی ہو گئی ہے۔انہیں حماقتوں کی وجہ سے رمضان المبارک کی رحمتیں اور برکتیں ہم سے روٹھ گئی ہیں۔۔۔۔

آخر کی طاق راتوں میں اپنے رب کو منانے کے بجائے بازاروں میں اتنا رش ہوتا ہے کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ہمارے معاشرے کا ایک خطرناک المیہ یہ ہے کہ مردوں کے آگے اپنے ہاتھ اور پاؤں پیش کردینا جوتیاں اور چوڑیاں پہننے کے لئے۔ایسی عورتوں کے کیا اپنے ہاتھ نہیں ہوتے؟انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ یہ چلن عام ہوتا جا رہا ہے۔۔عیدتو اللہ نے انسان کو ان ریاضتوں کے بعد تحفے میں دی تھی کہ اس دن مزدور کو اس کی اجرت دی جاتی ہے۔اور انسان غافل ہے کہ اس رات مزدوری لینے کے بجائے احمقوں کی طرح بازاروں میں جا کر یہ اجرت گنوا دیتا ہے اور اس کا اسے احساس ندامت بھی نہیں ہوتا کہ پورے ماہ جو ٹوٹی پھوٹی عبادتیں کیں ہیں ان کا اجر وثواب بھی وہ نہ سمیٹ سکے۔۔۔۔کتنی بد نصیبی اور بدبختی ہے کہ اسکے ہاتھ آخر میں خالی رہ جائیں۔۔۔ پوری چاند رات گھر کی آرائش و زیبائش کرنے کے بعد فجر سے کچھ دیر پہلے بستر نشین ہو جانا اور فجر کی نماز نیند کی نذر کر دینا کی عقلمندی ہے۔رمضان کے ختم ہوتے ہی پہلے دن ہی فجر ہاتھ سے نکال دی کتنی بدنصیبی ہے۔

پھر عید کے دن جو لباس ہم زیب تن کرتے ہیں وہ موجودہ فیشن کے مطابق نہ ہو تو جیسے عید ہی نہیں ہوتی؟؟؟ بلکہ ہمارا لباس تو تقوی کا لباس ہونا چاہیے۔ستر کو ڈھانپنے والا ہو۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ: “لعنت ہے ایسی عورت پر جو لباس پہن کر بھی ننگی نظر آئے۔۔” میں اور آپ اپنی زیبائش ان احادیث کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں تاکہ آپ صہ کی سنائی گئی وعید سے بچ سکیں۔۔ عید کے دن شکرانے کے نوافل ادا کرنے کا اہتمام ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنا پیارا تہوار دیا ہے۔۔۔اکثر و بیشتر لوگ عید کا سارا دن سو کر گزار تے ہیں جیسے پتہ نہیں برسوں سے سوئے نہ ہوں۔۔۔۔نہ جانے لوگوں کو اتنی نیند کہاں سے آتی ہے؟؟ میری عقل سے یہ بات کوسوں دور رہتی ہے کہ اتنی نیند کہاں سے آتی ہے۔۔۔خوشی کے دن منانے کے یہ اطوار تو نہیں ہوا کرتے۔بلکہ جب ہم خوش ہوتے ہیں تو ہر ایک کو اپنی خوشی کی خبر دیتے ہیں اور مبارکبادیں وصول کرتے ہیں ناکہ سب وقت سو کر گزارتے ہیں۔۔۔۔ہم سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عید کے دن کو خوشی کا دن سمجھیں اور اسکو خوشی سے ہی گزاریں نہ کہ خوابوں میں۔۔۔۔۔۔

Add Comment

Click here to post a comment