بلاگز

بچپن کی عید – روبینہ اعجاز

عید کا نام سنتے ہی ذہن میں خوشی کا تصور ابھرتا ہے۔خاص طور پر اگر بچپن کی کی عید کو یاد کیا جائے تو بہت سی یادیں ذہن میں ہلچل مچا دیتی ہیں۔ لگتا ہے اصل عید تو وہی تھی جو ہم مناتے تھے۔ عید کی تیاری کے ساتھ ساتھ عید کی خوشیاں شروع ہو جاتی تھیں۔ ہمارے ابو تقریباً دومہینے پہلے سے عید کی تیاری شروع کروا دیتے۔

عید کے کپڑے۔جوتے اور دیگر چیزیں خرید لی جاتیںں۔پھر امی بھی رمضان المبارک کی آمد سے پہلے پہلے عید کی تمام خریداری اور تیاری مکمل کر لیتیں کہ رمضان میں بازار نہ جانا پڑے ۔پھر عید شروع ہونے سے پہلے ہی اس کا بے چینی سے انتظار رہتا تھا ۔چاند رات کو تو شاید نیند بھی مشکل سے آتی تھی۔عید کی صبح جلد آٹھ جاتے۔صبح سویرے ناشتہ کر کے جلد از جلد تیار ہو جاتے کہ ابو نمازپڑھ کر آئیں تو ہم نئے کپڑوں کے ساتھ تیار ہوں۔۔ نئے کپڑے نئے جوتے نیا پرس۔۔سب چیزوں کی کیا بات ہوتی تھی ان کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا تھا ۔پھر پرس میں سب سے پہلے عیدی والد صاحب کی ہوتی۔کچھ دیر میں ہماری سہیلیاں آ جاتیں ۔ ہم سب ایک ساتھ ایک دوسرے کے گھر جاتے۔سب سے پہلے ہم جن سے سپارہ پڑھتے تھے ان کے گھر جاتے۔وہ بہت محبت سے ہماری عید کی تیاری کی تعریف کرتیں خاطر داری کرتیں۔عیدی دیتیں۔ ۔اسی طرح کئی گھروں میں عید ملنے جاتے۔رفتہ رفتہ پرس بھاری ہوتا جاتا۔ پھر ہم سہیلیاں اس کا وزن کم کرنے کے لئے آئس کریم کھانے جاتے تھے ۔۔مختلف رنگ برنگی چیزیں جو کہ پورے سال میں کھانے کی ممانعت تھی وہ خوش ہو کر دل بھر کر کھاتے۔

کبھی گھر کے قریب کے میدان میں اونٹ کی سواری بھی کرتے۔ مختلف طرح کے جھولے بھی جھولتے۔یعنی عید کے تہوار سے دل بھر کر لطف اندوز ہوتے۔ جیسے جیسے دن ڈھلتا دل اداس ہوتا کہ ایسا نہ ہو عید ختم ہو جائے ۔ہم بڑوں سےپوچھتے کہ عیدکتنی باقی ہے۔پھر یہ جواب سن کر کہ کل بھی عید ہے گھر میں مہمان آئیں گے مطمئن ہو جاتے۔عید کا دوسرا جوڑا نکال کر رکھتے کہ عید ابھی باقی ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment