بلاگز

“ہماری تہذیب اور سورہ نور” رابعہ قریشی

فہد ایک پندرہ سال کا لڑکا ہے ۔ اسے کسی ضرورت سے ماں کے پاس جانا پڑتا ہے ۔ وہ اپنی ماں کے کمرے کی طرف قدم بڑھاتا ہے اور کمرے کے پاس پہنچ کر دستک دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ماں جی میں اندر آجاؤ تو اس کی ماں اسکو اندر آنے کی اجازت دیتی ہے ۔ فہد اندر آتا ہے اور ماں کو اپنی ضرورت بتاتا ہے ۔ اسکی ماں اسکی ضرورت سن کر پوری کر دیتی ہے ۔

یہ ہے اس معاشرے کی جہلک جس کی تعلیم سورہ نور میں دی گئی ہے اور ہمارے معاشرے میں اسکی مثال کم ہی نظر آتی ہے۔ کیوں کم نظر آتی ہے ؟ اس کی وجہ ہے قرآن کی اصل تعلیم سے دوری کہ قرآن بھی کوئی کتاب ہے جو ہمیں اس طرح اپنی تہذیب سکھاتی ہے ۔ وہ تہذیب جس نے ہمارے اجداد کو دوسری قوموں پر اخلاقی اور جغرافیائی فتوحات دی تھی ۔ آج کے مسلمانوں نے تو اس تعلیم کو بہلا دیا ہے جبکہ دوسری اقوام نے اس کو سمجھ کر اپنے معاشرے کو اخلاقی طور پر درست کرلیا ہے ۔ اب ہم مسلمان واپس اس کی طرف کیسے آئیں گے کہ ہمارا معاشرہ دوبارہ اس طرح کھڑا ہو جیسے ہمارے اجداد اور قرآن نے تعلیم دی ہے ۔ ابھی میں پورے قرآن کو تو ذکر نہیں کر سکتی لیکن سورہ نور کا جو تدبر میں نے اس رمضان میں کیا اس کا کچھ نچوڑ کا ذکر کروں گی ۔ ویسے سورہ نور کا موضوع معاشرے میں بے حیائی کو روکنے اور عفت اور عصمت کو فروغ دینے کے ضروری ہدایات اور دوسروں کے گھروں میں جانے کے لیے ضروری احکام بتائی گئے ہیں ۔ اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ فواحش اور بے حیائی کی روک تھام کےلئے شریعت اسلام نے دور دور تک پہرے بٹھا دیئے ہیں کہ عورتوں پر پردہ لازم کردیا ہے اور مردوں کو نظر نیچے رکھنے کا حکم ہے ۔

اگر ہم دین اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ اسلام کی تہذیب کتنی اعلیٰ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو اس تہذیب پر واپس کھڑا کردیں تو ہمارے معاشرے کو سارے عالم میں وہی ترقی ملیں گی جو آج سے دو سو سال پہلے تھی ۔ وہ ہے : معاشرے میں برائیوں کی پیدائش سے ہی روک دیا جائے۔ جن سے طرح طرح کی برائیاں رونما ہوتی ہیں ۔ اس کا ذکر سورہ نور میں ہے کہ عورتوں کو پردے کا حکم ہے اور مردوں کو نظر نیچے رکھنے کا حکم اور سب سے اہم موضوع جس کی مثال آج کہیں ہی نظر آتی ہے وہ ہے لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک ان سے اجازت نہ لے لے اللہ نے ہر انسان کو جو اسکے رہنے کی جگہ عطا فرمائی ہے اسکا گھر ہے جو اسکا مسکن ہے اور مسکن کی اصل غرض سکون و راحت ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :”جعل لکم من بیوتکم سکنا” یعنی “اللہ نے تمھارے گھروں کو تمھارے لیے سکون و راحت کا سامان دیا ” اور یہ سکون و راحت جبھی باقی رہ سکتا ہے کہ انسان دوسرے شخص کی مداخلت کے بغیر اپنے گھر میں اپنی ضرورت کے مطابق آزادی سے کام اور آرام کرسکے ۔ اس کی آزادی میں خلل ڈالنا گھر کی اصل مصلحت کو فوت کرنا ہے ۔ جو بڑی ایذا و تکلیف ہے ۔

اسلام نے کسی کو ناحق تکلیف پہنچانا حرام قرار دیا ہے اور اگر ہم کسی کے پاس پوچھ کر جاتے ہیں چاہے وہ اپنا گھر ہو یا دوسروں کا تو اس میں میں خود اس کا فائدہ ہے جو کسی کی ملاقات کے لیے گیا ہے کہ جب وہ اجازت لے کر شائستہ انسان کی طرح ملیگا تو مخاطب بھی اسے قدر ومنزلت سے سنے گا اور کی حاجت پوری کریں گا ۔ آج ہمیں اس تعلیم (تہذیب) کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اور ہماری نسلیں دوبارہ سے ایک ایسے معاشرے میں رہے جیسے ہمارے اجداد رہتے تھے اور ہمارے معاشرے کو سارے عالم میں وہی ترقی ملیں جو آج سے دو سو سال پہلے تھی ۔ آخر میں بس یہی دعا ہے کہ اللہ ہمیں ایک اعلیٰ اور پروقار معاشرہ قائم کرنے کی توفیق دے (آمین)

Add Comment

Click here to post a comment