بلاگز

بندگی کچھ کہہ رہی ہے – اسماء صدیقہ

مہمان عزیز رخصت ہونے کوہے لگتاہے ابھی آیا اور ابھی جارہاہے اس بار یہ انمول دن اجتماعی طور پہ ضائع کیے گئے فضول بحثیں، نقل اتارنا، مذاق اڑانا، دھمکیاں دینا، اور دوسرے کو باطل قرار دینا کتنی بری مصروفیت تھی اور شاید اب بھی جاری ہواصل میں قرآن پڑھنے سمجھنے بیٹھیں تو لگتا ہے کہ آئینہ دیکھ رہے ہیں جس میں اپنا اور گردوپیش کا عکس صاف دکھائی دے رہا ہے

ظاہر اسے فرقان حمید یوں ہی تو نہیں کہا گیا حق اور باطل کو واضح کردینے والا اوپر جن مصروفیتوں کا ذکر ہوا تو وہ تو خرافات بےہودگیوں اور جہنم میں لے جانے والے اعمال ہیں اور یہ کتاب انسانوں کے لیے شفا اور ھدایت ہےاس کا تقاضا الہ واحد کی بندگی ہے اس کی بالادستی ہرہر شعبہء زندگی میں ہےاور اللہ نے کہا کہ خالص * بندگی اللہ *کا حق ہے*اسی حق میں ہمارے سب کے حقوق کی ضمانت ہے گویا ۔۔۔۔ نیت صاف منزل آسان والا معاملہ ہےفضول بحثیں تکرار کا بڑھ کر دشمنی میں ڈھل جانا کیا بندگی کو خالص رکھ سکتا ہےاخلاق کی پستیاں اور شخصیت پرستیاں کیا انسانوں کی غلامی کے جال نہیں ہیں یہود کا ذکر ان کی رسول دشمنی سرکشی اور نافرمانیاں کیا ہماری قوم کی ذھنیت نہیں بنتی چلی جارہیان کا مسلط کیا سود ہماری معیشت کو تباہ نہیں کررہا حکمرانوں اورلیڈروں کےفحش انداز عیاشیاں سفاک رویے اورلہجےنشہء اقتدار میں مست ہونا خدا کے اقتدار اعلی کی زبان حال سے نفی نہیں کررہے اقتدار بندوں کے پاس ایک امانت ایک ڈیوٹی ہےجس کے لیے وہ اللہ کے آگے جوابدہ ہیں پھر تو پکڑ ویسی ہی سخت ہے یاد کریں ذرا حضرت عمر فاروق کو عمر بن عبد العزیز کوقرآن حدیث اور اسلامی تاریخ کے آئینے میں سارے عکس نظر آجائیں گے سوال تو یہ ہے کہ لوگ بار بار ایک سوراخ سے کب تک ڈسے جائیں گے شعور کی واپسی میں ابھی کتنی نسلوں کو کھپنا ہے

کتنی دہائیاں بیتیں گی آنکھیں کھلنے میں نور بصیرت عام ہونے میں قرآن کی تکمیل میں دعاؤں کی محفل میں خلوت کے گریہء بے پناہ میں سوچیے گا ضرور کہ خالص بندگی اللہ کا حق ہے جس نے یہ رحمتوں کا مہینہ دیا جسکے اگے دعائیں اور التجائیں ہیں توبہ وگریہ ہے جو شہ رگ سے زیادہ قریب نیتوں کو صاف دیکھتا ہے مالک الملک ذی الجلال والاکرام ہے بصیرالبعباد ہے بندگی ء رب واحد شخصیت پرستی کے ساتھ کیسے چل رہی ہے اخلاق وسیرت کی درستگی بے ہودہ تکرار کی بھیڑ چالوں کے ساتھ کیسے باقی رہ رہی ہے دم رخصت ایک جائزہ یہ بھی اقتدار تو اللہ کا ہے کبھی کوئی کبھی کوئی پکڑ بہت سخت ہے مگر حکمرانوں کی جواب دینا ہے اصل بادشاہ کو شہنشاہ کو بندگی کچھ کہہ رہی ہےآپ کی آزادی کے لیے انسانی آزادی کے لیےانسانوں کی غلامی سے نکل جائیے-

Add Comment

Click here to post a comment