Home » پل بھر میں گزر گئیں- قدسیہ ملک
بلاگز

پل بھر میں گزر گئیں- قدسیہ ملک

رمضان کی مبارک ساعتیں جیسے پل بھر میں گزر گئیں۔ عید بھی آئی اور گزر گئی۔پھر وہی مصروف شیڈول سے زندگی کی گاڑی رواں دواں ہوگئی۔وہ کل اپنی ایک دوست سے ملنےگئی۔وہ شاید آفس جانے کی تیاری کررہی تهی بغیر آستین کی سفید شرٹ کهلی زلفیں کپری اور دوپٹہ غائب تها۔وہ حیران  رہ  گئی  ارے یار تم  کتنی بدل گئی ابهی رمضان میں تو تمہارے  سر سے اسکارف نہیں اترتاتها  اب یہ؟
اسکی بات پر سہیلی نے ایک زوردار  قہقہہ  لگاتے  ہوئے  کہا
یار تم کب بڑی ہوگی وہ رمضان تها رمضان میں کون پہنتا  ہے ایسے کپڑے….!!
اور اب؟ وہ حیرت سے سوچنے لگی….

منظر بدلتا ہے دودھ لینے دکان پر گئی  دودھ والے کے پاس بڑی  گاڑی دودھ  دینے آئی ہوئی تهی دودھ  والا اسے دیکهتےہی زور سے چلایا  یارتو نے برف کی مقدار کیوں بڑهادی  پیسے تو اتنے ہی لیتا ہے جتنے رمضان میں لیتا تها  پهر دودھ  میں  اتنا فرق دودھ والا بولا او بهائی  جب رمضان تها  نا اب رمضان  ختم ہوگئے  نا….!!
منظر تبدیل ہوتا ہے گهرمیں سب موجود ہیں انڈین گانوں کی آواز سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی بچوں کا شورشرابہ  اور ڈیک پر  آوازیں اتنی بڑهیں  کہ پڑوس کے عابد صاحب کو مداخلت کرنی  پڑی ڈور بیل بجائی شاہ صاحب بڑبڑاتے ہوئےباہر نکلے بڑے ادب سے عابد صاحب  گویا  ہوئے شاہ صاحب تهوڑی آواز کم کرلیں محلے میں لوگ پریشان  ہوتے ہیں۔ شدید کوفت کے عالم میں گهر سے نکلنے والے شاہ صاحب کو عابد صاحب کی یہ بات شاید اچهی  نہیں لگی غضب کےعالم  میں  فرمایا بهائی صاحب! پورارمضان  بچوں نے سکون سے گزاردیا  اب تو انکو آزادی سے  مزے کرنے  دیں .اگر یہاں نا کریں تو کہاں جائیں…؟عابد صاحب سلام کرکے خاموشی سے کهسک  لیئےمباداکہیں  تلخ کلامی نا ہوجائے .

منظر تبدیل ہوا شام کا منظر ہے دوستوں کی محفل جمی ہے.کهانے کے بعد گانوں کا سلسلہ  شروع ہوا ڈانس کرتے ہوئے اچانک ایک دوست کوکیا  سوجی  چهپا کر  رکهی  بوتلیں اٹهالایا پیگ بنانے شروع اور زور زور سے کہنے لگا یاروں رمضان  ختم ہوگئے رمضان کے بعد کی پارٹی انجوائے  کرو سب دوست متفق ہوئے اور یکے بعد دیگرے دوست موسیقی کی دهن پر ام الخبائث  کی شر انگیزیوں  سے محظوظ  ہونے لگے .
ایک  اور منظر دوکان پر کپڑا لینے گئی کپڑا پسند کیا اس نےیہی سے عید کے کپڑے لیئےتهے ناپ کے بعد کپڑے  کی کٹائی  کا مرحلہ آیا،دکاندار اپنے ناپ سے کاٹ کر ڈهائی گز کپڑا دینےلگا..وہ بولی ڈهائی   گز کی شرٹ میں آپ ہمیشہ آدھا گز زیادہ دیتے ہیں کیونکہ آپ لوگوں نے خود مانا ہے کے یہ ناپ آپ کے پاس تهوڑا  چهوٹا ہے…دکان دار بولا باجی  آپ  لوگ تو رمضان  اور عام  دنوں  میں فرق کو نہیں  سمجهتے۔ ہم صرف رمضان المبارک  میں آدها  گز  زیادہ  کپڑا  دیتے  ہیں ۔ باقی دنوں میں ناپ کے مطابق ہی دیتے ہیں آپ کو لینا ہے تو لے لیں ورنہ آپکی مرضی،وہ دکھ سے سوچتی رہی رمضان ختم ہوا ہے یا ایمان؟؟؟

روڈ کا منظر ٹریفک کا اژدهام بری طرح روڈ  کی  دونوں جانب رواں دواں ہے. کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی .اتنے میں منی بس والے نے پورے فل والیوم  میں گانے لگادیئے.  بس مسافر اس نئی افتاد  سے اور پریشان  ہوگئے. ایک مسافر نے ڈرائیور  کو مخاطب  کرتے ہوئے کہا  بهائی  ویسے  ہی گرمی میں حالت بری ہےتو نے اس پر گانے بهی لگادیئے..!!اسی انداز میں چیخ کر ڈرائیور بولا “اوو بائی پورارمضان آپ لوگوں کا احترام  کیا ہم نے گانے نئی لگائے اب تم ہمارا بی کچھ سوچو…رمضان کہتم  اوگیا  اے  اب ام ضرور  گانے  لگائےگا”

تو کیا خیال ہے ساتھیوں!  رمضان ختم ہوا ہے یا مسلمان …
اپنا جائزہ  لیں  اور رمضان کی حاصل شدہ  ٹریننگ کو ضائع نا ہونے دیں۔کیونکہ ہماری مہلت عمل کب تک  ہے ہم نہیں جانتے۔  نا جانے  کونسی سانس آخری ہو ،دنیا کی زندگی کو آخرت کے بہترین انعامات کے لیئے تیار کیجئے ۔اس فانی دنیامیں تهوڑی مشقت اٹهالیجئےتاکہ انجام کار  متقین ہی کے ساتھ  ہو۔

Add Comment

Click here to post a comment