Home » مخلص دوست – شفا ہما
بلاگز

مخلص دوست – شفا ہما

” کیا مخلص دوست اِس زمانے میں بھی ہوتے ہیں؟”
وہ مضطرب سی لگتی تھی.
” بلکل ہوتے ہیں”
میں نے مسکرا کر کہا.
“کیا سب کے پاس ہوتے ہیں؟”
پھر کہنے لگی.
“ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ فلاں دوست مخلص ہے. کیونکہ مخلص ہونے کا تو سب دعویٰ کرتے ہیں. لیکن وقت ان کی حقیقت کو پھر جلد ہی دکھا دیتا ہے. اور پھر وہ مخلص کا روپ دھارے کچھ اور ہی نکلتے ہیں. ”

الجھے الجھے سے انداز میں وہ بولتی چلی گئی. اس کے لہجے سے یوں لگتا تھا جیسے دل و دماغ میں کسی زخم نے بہت سی گرہیں لگا دی ہوں!
میں چند لمحے خاموش رہی.
” تحریک میں سب مخلص ملینگے آپ کو..! ”
اس کی کچھ الجھنوں کو چھوڑ کر میں نے اس کے دل میں جھانکنے کی کوشش کی.
جواب میں اس کی دل والی اموجی نے مجھے بتلادیا کہ اس کے دل نے اُس کی بہت سی الجھنوں کو حل کردیا ہے.

وہ تو سلجھ گئی لیکن مجھے بہت سی سوچوں میں غلطاں کرگئی.
اللہ تعالیٰ نے سورۃ حم سجدہ میں بُرے ہم نشینوں کا ذکر کیا ہے، ایسے لوگ جو جھوٹی تعریفیں کرتے ہیں! یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ بعض لوگ دوستوں کے روپ میں دشمن ہوتے ہیں. ایسے دشمن جو آپ کی دنیا و آخرت دونوں تباہ کردیتے ہیں. شاید انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ زخرف میں بیان کیا ہے کہ روزِ قیامت سب دوست دشمن بن جائیں گے سوائے اُن کے جن کی دوستیاں اللہ رب العالمین کی خاطر تھیں.
دوستی کی بنیاد لِلّٰہِ ہونا بھی کتنی عظیم نعمت ہوتا ہے نا ♥️

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہی پیاری بات ہمیں بتائی کہ قیامت کے دن کوئی سایہ نہ ہوگا، وہ دن جس کی سختی اور مصیبت کے بارے میں ہم گمان بھی نہیں کرسکتے لیکن اللہ تعالیٰ سات لوگوں کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا. ان سات میں ایک وہ بھی ہونگے جو اللہ رب العزت کے لیے ایک دوسرے سے محبت کیا کرتے ہیں!
آہ…. ❤️ کتنی بڑی خوشخبری ہے یہ.. اللہ کے لیے محبت کرنے والے قیامت کے دن نور کے منبروں پر ہونگے. دور سے ہی نظر آجائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو فوزٗ عظیم کو پہنچ گئے ہیں!

میرے رب!! میں آپ کا کیسے شکر ادا کروں کہ آپ نے تحریک کی نعمت دی اور تحریک کے اُن ساتھیوں سے ملایا جن کے دل نفرتوں اور کدورتوں سے پاک موتیوں کی مانند شفاف ہیں. جن کے دلوں میں آپ کی محبت کی جڑیں بہت گہری ہیں.. جن کی آپس کی محبتیں بھی آپ کی خاطر ہیں اور آپس کا ملنا ملانا، مسکرانا، بیٹھنا بھی آپ کی خاطر ہے.. یہ وہ نعمتِ غیر مترقبہ ہے جس کا شکر صرف یہی ہوسکتا ہے کہ دل کی گہرائیوں سے تحریک کا حق ادا کرنے کی کوشش کی جائے اور یہ بھی کیسے ہوسکتا ہے اگر رب العالمین کی توفیق شاملِ حال نہ ہو تو!

آج کے دورِ پُر فتن میں جمعیت کا کہف اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسانِ عظیم ہے ♥️ آج، جبکہ فتنے تسبیح کے دانوں کی طرح گرتے چلے آرہے ہیں.. جبکہ دجالی تہذیب اپنے خون آشام پنجے تیز کرکے امتِ مسلمہ کے باقی ماندہ جسم کو نوچنے کے لئے تیار کھڑی ہے.. آج کا خطرناک ترین دور کہ انسان نہ تنہائی میں ان فتنوں سے بچ سکتا ہے نہ ہجوم میں.. آگ کو گلزار اور گلزار کو آگ دکھانے والی یہ تہذیب چہار اطراف سے ہمیں گھیرے میں لے چکی ہے..

لیکن کہفِ جمعیت نے ہمیں یوں اپنی آغوش میں سمیٹا ہوا ہے جیسے خطرے کو دیکھ کر مرغی اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے. اللہ تعالیٰ کا احسان صد احسان ہے ♥️ ورنہ کہاں سے ملتے ایسے خیال کرنے والے لوگ جو ٹرین کے سفر میں جب سب سوجاتے ہیں تب ساری بوگی میں پِھر کر سب کو چادریں کمبل اڑاتے ہیں.. خود کھانے سے پہلے اپنے ساتھیوں کو کھلاتے ہیں.. کسی ساتھی کی طبعیت کی خرابی کا معلوم ہو تو ہزار پیار محبت سے اس کے آرام کا خیال کرتے ہیں.. خوشیوں میں یوں شریک ہوتے ہیں جیسے یہ اُن کی ذاتی خوشی ہو.. کسی کے غم میں یوں غمگین ہوجاتے ہیں جیسے یہ اُن کا اپنا غم ہو… ایک پریشان حال میسج پر جھٹ سے کال آتی ہے کہ سب خیریت تو ہے نا.. کسی ساتھی کی والدہ یا والد کی طبعیت کی خرابی کا معلوم ہوجائے تو درجنوں وائس نوٹس اس کے انباکس میں قطار لگالیتے ہیں جن میں دعاؤں کے عطیہ گُلبہار ہوتے ہیں.. اجلاسوں میں کوئی اداس نظر آجائے تو جب تک اس کو ہنسا نہ لیں اِن کا دن نہیں گزرتا.. کوئی پریشان ہو تو اُس کی پریشانی کے حل کے لیے کوششیں شروع کردیتے ہیں… آنے والوں کا دیدۂ و دل وا کرکے استقبال کرنے والے.. جانے والوں کو نم آنکھوں سے رخصت کرنے والے… کبھی کال کرکے کسی سے کوئی ریسیپی پوچھتے ہیں.. کبھی کھیلنے کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں.. کبھی نمازوں میں خشوع و خضوع کے نا کافی ہونے پر پریشان ہوجاتے ہیں.. کبھی مطالعہ نہ ہوسکنے پر رو دیتے ہیں.. کبھی فجر سے محروم رہ جائیں تو متاعِ جاں کے چلے جانے جتنا دکھی ہوجاتے ہیں..

کبھی ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظرانداز کرتے ہیں.. کبھی تنہائی میں غلطیوں کی نامحسوس انداز میں اصلاح کرتے ہیں..اپنی ساتھیوں کے آنسو دیکھ کر بے چین ہوجانے والے… ایک دوسرے کی مسکراہٹوں میں مسکرانے والے.. کوئی اِن کی فکریں تو دیکھے..! کوئی اِن کے غموں کو تو ملاحظہ کرے..!
– انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں ♥️
محبت سے ہاتھ پکڑ کر جنت کے راستے پر چلانے والے نایاب لوگ.. ایسے اوصاف اور پیارے اخلاق والے یقیناً اللہ تعالیٰ ہی چُن چُن کر تحریک کی گود میں ڈالتے ہیں! ♥️

ایسے مخلص لوگوں کا ملنا بلاشبہ ربِ سموات و ارض ہی کی عطا ہے. پس اے ربِ تعالیٰ ہمیں جمعیت کا حق ادا کرنے کی اور اِن محبتوں کا حق ادا کرنے والا بنادیں جس کے بغیر ہم کب کا طوفانِ بلا خیز کی اندونہاک موجوں کا شکار بن چکے ہوتے!!

Add Comment

Click here to post a comment