Home » غصہ- نصرت مبین
بلاگز

غصہ- نصرت مبین

غصے پر کیسے قابو پائیں! خاص طور سے بچوں کے سلسلے میں غصہ یا aggression! جبلتوں میں سے ایک جبلت ہے، جو پیدائشی ہوتی ہے، یہ غیر اکتسابی ہے۔ جانوروں میں بھی اور انسانوں میں بھی ہوتی ہے، فرق صرف اس کے اظہار کا ہے۔ اظہار کا رویہ اکتسابی ہے۔ جو اچھی طرح سیکھا جاتا ہے جو سیکھ لیتا ہے وہ ماہر، مشاق، کھلاڑی بن جا تاہے۔

جیمزلانگے نے ہیجانات پر بہت زیادہ تحقیقات کی ہیں۔ غصہ اس کا اہم حصہ ہے۔ جس کے دوران جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں رونما ہو تی ہیں۔ مثلاً چہرے کا لال ہو جانا، آنکھوں کا سرخ ہوجانا، منہ سے کف کا نکلنا، جلد کا تن جانا، مٹھی کا بھنچ جانا۔ یہ تمام علامات فرد واحد میں ایک ساتھ ظاہر ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی ہر فرد میں ان تمام علامات کا بیک وقت موجود ہونا ضروری ہے۔

غصہ کی کیفیات اگر مسلسل برقرار رہیں تو سائیکو سمیٹک بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔ جن میں بلند فشار خون، زیا بطیس، السر اور دیگر دوسری بیماریاں شامل ہیں۔ غصہ ہمیشہ اپنے سے کمزور، زیر دست پر نکلتا ہے، اپنے سے طاقت ور، بلند مرتبہ پر اس کی شدت یا تو کم ہو جاتی ہے یا بالکل ختم ہو جاتی ہے۔

اردو کا ایک محاورہ ہے “قربانی کا بکرا”۔ نفسیات میں یہ ایک دفاعی میکانیت ہے۔ جس سے انسان خود کو محفوظ کرتا ہے۔ بچے اسی دفاعی میکانیت کی نظر ہو جاتے ہیں۔ یا دوسرے الفاظ میں قربانی کا بکرا بن جاتے ہیں۔

ماں ساری تھکن، دوسروں کا غصہ بچوں پر اتارتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اس عمل سے کیسے بچا جائے۔ خود اپنی تربیت کریں، آمزش حاصل کریں۔ ضبط نفس پیدا کریں۔ اس کے علاوہ چند وہی پرانے نسخے:
١- کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں۔
٢- پانی پی لیں۔
3- الٹی گنتی گننا شروع کر دیں۔ یا کوئی بھی ذہنی مشق جو موجودہ صورتحال سے آپ کا دھیان ہٹا دے۔
4- پرسکون رہیں۔ خود کو چمکاریں، پچکاریں، کہ اس بچے کا اور میرا لیول ایک نہیں۔
5- خود کو اس بچے کی جگہ رکھ کر سوچیں کہ اگر یہ غلطی آپ سے ہو جاتی تو آپ اپنے والدین سے کیا توقع رکھتیں۔
6- آپ ذہن میں غصہ کے اوپر بیان کردہ نتائج ذہن میں دہرائیں کہ اس کے نتیجے میں آپکو کس قدر ذہنی، جسمانی اور جمالیاتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
7- بچے نے جو نقصان کیا وہ تو ہو چکا، اگر کچھ ٹوٹ چکا ہے تو جڑ نہیں سکتا۔ لہذا اس نقصان کی بچے کو آگہی دیں، ساتھ ہی اس کا متبادل بھی دیں کہ اس کام کو اس طرح کرنا چا چاہئے ۔جب آپ بچے کی کسی بات سے ناراض ہوتی ہیں تو اسے یہ بھی بتائیے کہ کس بات سے آپ کو خوشی ملتی ہے۔ معاشرہ کن عادات کو پسند کرتا ہے۔

یہ غصہ کا عمل چند لمحات پر مبنی ہوتا ہے۔ لہذا اس کے لئے ردعمل کے انتخاب کے لئے اور اس پر عمل کرنے کے لئیے آپ کو کافی مشق کرنی پڑے گی مہارت حاصل کرنی ہوگی۔ اللہ سے مدد طلب کرنی ہوگی، دعائیں کرنی ہو گی۔