Home » یہ ہوتی ہے تربیت . روبینہ قریشی
بلاگز

یہ ہوتی ہے تربیت . روبینہ قریشی

اس سال میرا بیٹا مزید پڑھائی کیلئے پاکستان سے باہر چلا گیا ۔ نئی جگہ ، نیا ماحول ، نئے لوگ ، نیا سسٹم – اسے بہت مشکل ہورہی تھی – یہ بات اچھی تھی کہ جانے سے پہلے یونیورسٹی کے اندر ایک اور پاکستانی کی مدد سے گھر لے چکا تھا – گھر کی چابی وہ لوگ اسی کے ہاتھ میں دیتے ہیں جس کے نام پر گھر لیا ہوتا ہے-
لہذا گھر پہنچ کر چابی لی ، شدید سردی کے دن تھے – گھر کا heating system چلایا ، دوسرے ساتھی سے لیا –

دو دن کچھ سوتے کچھ جاگتے گزارے ، تیسرے دن جیٹ لیگ کچھ کم ہوا تو اپنے پروفیسر سے جا کر ملا- بات چیت کے دوران پروفیسر کو علم ہوا کہ گھر میں کوئی بھی سامان نہیں – کبھی کبھار فرنشڈ گھر مل جاتے ہیں لیکن اس کو جو گھر ملا وہ بالکل خالی تھا- اسی شام کو پروفیسر جس کی کچھ دن پہلے 60 سال عمر ہونے کے بعد ریٹائرمنٹ ہو چکی ہے نے اپنی ذاتی بڑی گاڑی میں ایک بیڈ، ایک صوفہ، کچھ کوکنگ سیٹ (دیگچی) کچھ برتن، بیڈ شیٹس، تولیے اور مزید روزمرہ استعمال کی چیزیں رکھیں اور خود اس کے گھر آکر دے کر گئے مزید یہ کہ سارا سامان خود ساتھ اٹھوا کر گھر کے اندر سیٹ بھی کروا کر گیا- کچھ ہفتوں کے بعد جب بیٹا سیٹ ہو گیا، سکالر شپ کی پہلی قسط اسے مل گئی تو پروفیسر صاحب سے ان کے دیئے گئے سامان کی قیمت پوچھی -انہوں نے جواب دیا کہ اس کی قیمت یہ ہے کہ جب کوئی اور طالب علم یہاں آئے تو تم اس کی، اسی طرح مدد کرنا جیسے میں نے تمہاری مدد کی ہے- یہ ہوتی ہے تربیت – تعلیم اور تربیت کا یہی فرق ہے . ہمارے ہاں تعلیم پر تو اس طرح توجہ دی جاتی ہے کہ بس نمبر، نمبر، نمبر۔۔۔ ادارے، ٹیوشن سنٹر، والدین، بچے سب اسی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں –

لیکن تربیت کہیں پیچھے رہ گئی – بچوں کو تعلیم دیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں vision دیں . انہیں گاؤں ، میوزیم ، تاریخی مقامات کی سیر کروائیں، اپنے تاریخی واقعات سنائیں – صحابہ کرام کی زندگی ، انبیائے کرام کی زندگی ، آپ صل اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے منتخب شدہ واقعات جو ان کی زہنی صلاحیت کے مطابق ہوں وہ سنائیں- تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں – کیا آپ کو یقین آئے گا کہ میں ٹاٹ سکول، اس کے بعد گورنمنٹ سکول اور گورنمنٹ کالج سے پڑھنے کے بعد آج یہاں ہوں کہ مجھے ہر نئی چیز سیکھنے کا شوق ہے ۔ ہمارے گورنمنٹ سکولوں کی اتنی بڑی بڑی عمارتیں تھیں کہ آج کی یونیورسٹی بھی رقبے میں اس سے کم ہو گی – لکھی ہوئی تقریریں تو سب بچے کرتے ہیں لیکن ہمیں فی البدیہہ تقریری مقابلے میں حصہ لینے کی ترغیب دی جاتی تھی-ہمارے بچپن میں ہم لوگ جب اکھٹے ہوتے تھے تو گھر میں بیت بازی کرتے تھے – ہمارے ماموں خود تو کتاب میں سے شعر پڑھتے تھے اور ہم زبانی – پھر بھی اکثر اوقات ہم جیت جاتے تھے-
بہت بچپن سے کمپنی باغ میں موجود لائبریری کی ممبر شپ بھائی نے لی ہوئی تھی اور ہم سب وہاں سے کتابیں لے کر پڑھتے تھے –

یہ نئی نسل ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے۔اس کی تربیت کیلئے اپنے سارے وسائل بروئے کار لائیں تا کہ معاشرے کو ایک کارآمد فرد دے سکیں – آپ یقین کریں پیسہ کمانے کا صرف 30فیصدتعلق ہے ان کی ڈگری سے – باقی رزق آپ کے نصیب کا ہے – میں نے بڑے بڑے پڑھے لکھوں کو ان سے کہیں کم تعلیم یافتہ لوگوں کی نوکری کرتے دیکھا ہے- جو بندہ ڈھابہ لگا کر بیٹھا ہے وہ شاید ایک انجینئر، وکیل، یا ٹیچر سے زیادہ کما کر اٹھتا ہے- ڈگری پیسہ کمانے کیلئے مت لیں.. ڈگری علم حاصل کرنے کیلئے، علم کو پھیلانے کیلئے اچھا انسان بننے کیلئے لیں- اور آج کے والدین اور خصوصاً ماؤں پر بہت ذمہ داری ہے کہ بچوں کی تربیت کو اولین ترجیح دیں-
اپنے اور بچوں کے ٹائم مقرر کردیں کہ رات شام کی نماز سے عشاء کی اذان تک سب گھر والوں کا سکرین ٹائم ہے- جب گھر کے افراد اتنے وقت کے بعد سکرین بند کریں گے تو بچوں اور خاص طور پر چھوٹے بچوں کی تربیت میں یہ شامل ہو جائے گا اور وہ مقررہ وقت کے بعد خود ہی اپنے موبائل یا ٹی وی، ٹیبلٹ وغیرہ بند کردیں گے –
دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں مشکل ضرور ہے ۔ اللہ آپ کی اور ہماری مدد فرمائیں اور ہمارے بچوں کو ہمارے لئے اس دنیا میں خوشی اور سکون کا باعث بنائیں اور اگلے جہاں کیلئے صدقہ جاریہ بنائیں. آمین

Add Comment

Click here to post a comment