Home » رائٹر بننے کی داستان- رابعہ قریشی
بلاگز

رائٹر بننے کی داستان- رابعہ قریشی

میں ایک کامیاب رائٹر بننا چاہتی” ہوں ۔ کیوں بننا چاہتی ہوں؟ وہ اسلیئے کہ میرے اندر یہ صلاحیت ہے ۔ ویسے میں ایک رائٹر ہی ہو لیکن میں پاکستان بلکہ پوری دنیا کی مشہور رائٹر بننا چاہتی ہوں ۔ انشاء اللہ بہت جلد میں ایک کامیاب رائٹر ہوں گی۔

کچھ سال پہلے تک مجھے نہیں پتا تھا کہ میرے اندر رائٹر بننے کی صلاحیت ہے ۔ میں نے جمعیت جوائن کی ۔ جمعیت جوائن کرنے کے ایک یا دو ماہ کے بعد میں نے اپنے حلقے کی ناظمہ کے واٹس ایپ اسٹیٹس میں دیکھا کہ علم و ادب سوسائٹی کراچی کی جانب سے رائٹر فورم منعقد ہورہا ہے ۔

میں وہاں گئی ۔ وہاں بہت سی ورک شاپس ہوئی ۔ آخر میں اسری غوری صاحبہ آئیں انہوں نے جس انداز میں رائٹرز کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ رائٹر کیسے بنا جاتا ہے ؟ وہاں جاکر مجھے لگا کہ یہ سب میرے جیسے ہی لوگ ہیں میرا جیسا ہی سوچتے ہیں ۔

اور اگر ہم سے کوئی سوال پوچھا جاتا تھا تو جو جواب میں دینا چاہتی تھی وہی جواب کوئی اور دیےدیتا ۔ یہ سب ہوتے دیکھ کر مجھے لگا کہ میرے اندر رائٹر بننے کی صلاحیت ہے ۔ او میں تو کسی اور ہی طرف چلی گئی ۔ علم وادب کے پروگرام کے بارے میں بتا رہی تھی ۔

اسری غوری ہم سے جس انداز سے سوال کرتی جارہی تھی تو ہمارے اندر سے رائٹرز بننے کا شوق کوٹ کوٹ کر نکل رہا تھا ۔ آگے پھر بہت سے ایسے واقعات ہوئے جس کو جان کر مجھے لگا کہ میں رائٹر بن سکتی ہو ۔ وہ سارے واقعات تو میں یہاں نہیں لکھ سکتی کہ میری تحریر بجا لمبی ہو جائے گی لیکن اتنا ضرور لکھوں گی کہ کتابیں پڑھنے کا شوق تو میرا بچپن ہی سے تھا ۔

میں کہیں بھی کوئی صفحہ پرھا ہوا دیکھتی تو اس کو پڑھنے لگ جاتی اور جو کچھ اس میں لکھا ہوتا اس کے بارے میں سوچتی رہتی اور جب میں اپنے تایا ابو کے گھر جاتی تو باہر اپنی کزنز کیساتھ کھیلنے کے بجائے ان کے گھر جتنے میگزین آتے تو وہ پڑھنے لگ جاتی تھی اور پھر میری کزن مجھے کہتی رابعہ تم میگزین پڑھنے آئی ہو یا ہم سے باتیں کرنے؟ اور ہمارے گھر میں جو اخبار آتا تھا جو میگزین آتا تھا وہ سب سے پہلے مجھے ہی پڑھنے ہوتے تھے ۔

چونکہ ہم جوائنٹ فیملی میں رہتے تو کتابیں پڑھنے کا موقع اتنا ہی زیادہ ملا ۔ میرے چچا اور چچی کی کتابیں یا میگزین ہوتے تھے وہ میں نے ضرور پڑھنے ہوتے تھے ۔ چوتھی یا چٹھی میں ہوگی جب میں نے اپنی بڑی بہن (آپی) کی گیارہویں یا بارہویں کی ساری کتابیں پڑھ ڈالی ۔ بس اتنا ہی نہیں اپنی عمر سے بڑی کتابیں ، میگزین ، ڈائجسٹ پڑھنے کا بھی شوق تھا۔

آپی اور چچی چونکہ عمر چھوٹی ہونے کی وجہ سے پڑھنے نہ دیتی تھی لیکن جس کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہو اسے کون روک سکتا ہے ؟ تو میں چھپ کر پڑھتی تھی ۔ تو جس کو کتابیں پڑھنے کا اتنا شوق ہو تو اس کے خمیر میں رائٹر بننا لکھا ہی ہے اور وہ رائٹر ہی بن سکتے ہیں۔ آخر میں یہی لکھنا چاہوں گی کہ میری صلاحیتوں کو پہنچاننے والی جمعیت ہی تھی تو میں ان کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی ۔

اور ان تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کرو گی جنہوں نے میری رائٹر بننے میں مدد کی ۔ اب میں یہی چاہتی ہوں کہ اللّٰہ مجھے ایک کامیاب رائٹر بنائیں تاکہ میں اپنے وطن اور دین اسلام کا نام پورے عالم میں روشن کرسکوں۔ (آمین)

Add Comment

Click here to post a comment