Home » نعمتوں کی قدردانی – افشاں نوید
بلاگز

نعمتوں کی قدردانی – افشاں نوید

ایک روز پہلے ملاقات ہوئی چولستان کا دورہ کرکے آئی ہیں بہت اداس تھیں کہ بن دیکھے وہاں کے حالات کا تصورِ بھی نہیں کرسکتے۔بولیں”جہاں کہیں تالاب میں فٹ بھر بھی پانی ہے وہ کناروں پر گز بھر کاہی(فنگس)۔۔انسان بھی وہیں سے پیاس بجھا رہے ہیں اور مویشی بھی۔۔بہت درد ناک مناظر دیکھے۔ہم نے نعمتوں کی قدر ہی نہیں کی۔۔مجھے سورۂ الملک چلتی پھرتی دکھائی دی کہ”کبھی تم نے سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لا دے گا”

واقعی وہ قادر ہے جب جس جگہ کو چاہے چولستان بنا دے۔”میں نے سوچا اس درد کو محسوس کرنا تو الگ بات ہم اس عظیم الشان نعمت کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں یہ اصل عنوان ہے۔۔یہ میٹھا پانی جو اس روئے زمین کے کئی علاقوں کو میسر بھی نہیں*ہماری ماسیاں پائپ کھول کر صحن دھوتی ہیں۔ *ڈرائیور گھر کے باہر کھڑی گاڑیوں کو نہلاتے ہیں تو گلی میں کئی گھنٹے پانی کھڑا رہتا ہے۔*آج کل اتنی گرمی ہے دن میں دو بار تو شاور بنتا ہی بنتا ہے۔*واش روم کے ہر دفعہ استعمال کے بعد ہم جو پانی بہاتے ہیں کموڈ کی ٹنکی سے۔مجھے بہت اچھا لگا نئیر تاباں بہن نے واش روم کی صفائی پر ایک وڈیو بنائی اور دکھایا کہ انھوں نے کموڈ کی ٹنکی میں کئی کلو پانی کی ایک بوتل رکھ دی ہے۔اس طرح کم مقدار میں پانی کموڈ میں استعمال ہو جاتا ہے۔۔اسوقت مجھے “تقوی” کا مفہوم سمجھ آیا کہ واش روم میں خدا کا خوف کیا چیز ہے؟وضو نلکے کی دھار سے ایک بالٹی پانی سے بھی ہوسکتا ہے اور ایک گلاس پانی سے بھی۔ حکم تو یہ ہے کہ حوض کے کنارے بھی بیٹھو تو مقدور بھر ہی پانی استعمال کرو۔۔اس پانی پر سب کا حق ہے۔ہم پانی میسر ہونے کے باعث ان کا بھی حق مار لیتے ہیں جہاں العطش کی صدائیں گونج رہی ہیں۔۔ شائدہم وہ آخری نسل ہیں جنھوں نے اپنے بڑوں میں پانی کی قدر دیکھی ہے۔

ہمارے سسر مرحوم شاور کے سخت خلاف تھے کہ پانی کے ضیاع کا سبب ہے۔وہ بالٹی بھی نہیں لوٹا استعمال کرتے غسل کے وقت کہ” دو لوٹے پانی ہمارے غسل کے لیے کافی ہوتا ہے۔”ہفتہ میں دو بار غسل کہ روز غسل میں پانی ضائع ہوتا ہے۔۔جب کہ ہم نے وہاں نہ کبھی ٹینکر آتے دیکھا نہ پانی کی قلت۔۔اگر کسی دن موٹر سے منٹ بھر پانی زیادہ بہہ جاتا تو سارا دن اداس رہتے کہ مجھ سے بڑی چوک ہوگئی۔موٹر چلا کر کوریڈور میں کرسی پر بیٹھ کر پائپ پر نظر رکھے رہتے کہ پہلے قطرے کے ساتھ ہی موٹر بند کردیں۔۔ ہماری امی مرحومہ ماسی کو خود پوچا دھو کر دیتیں کہ یہ وافر پانی بہاتی ہیں۔فرش مہینہ میں کبھی ایک بار دھلتے کہ پانی کا ضیاع ہوگا۔بھابھی بولیں امی کا بہوؤں سے جھگڑا صرف پانی کی دھار پر ہوتا ہے کہ اس سے کم دھار میں برتن دھل سکتے تھے۔حالانکہ ٹینک بھرا رہتا ہے مگر گلاس کا بچا پانی ڈھک کر رکھتی ہیں کہ اگلے وقت کام آئے گا۔گلاس بھر پانی دو تو آدھا بوتل میں واپس ڈلواتی ہیں کہ اسوقت اتنی ہی پیاس ہے۔ نعمتوں کی قدر کا تعلق شائد جذبہ ایمانی سے ہوتا ہے!!اللہ کا اتنا خوف کہ شاور کے بجائے لوٹے سے غسل۔

صرف پانی ہی نہیں اسوقت ساری نعمتوں کی اتنی ہی قدر دانی تھیجس پر کئی مضامین لکھے جاسکتے ہیں۔آج مہنگائی اور بے برکتی کا رونا ہے اور سورۂ رحمان پکار رہی ہے کہ ہوشمندو! نعمتوں کو نہ جھٹلاؤ ناقدری کر کے۔۔

Add Comment

Click here to post a comment