Home » امداد نہیں کوڑے – ابن فاضل
بلاگز

امداد نہیں کوڑے – ابن فاضل

انڈونیشیا نے سال دوہزار انیس میں ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کا کرومائیٹ اور Chromite ore برآمد کیا. “کرومائیٹ اور” سٹین لیس سٹیل بنانے کا خام مال ہوتا ہے. تب انہوں نے سوچا کہ بے حد سستا کرومائیٹ اور بیچنا انتہائی غلط کام ہے ہمیں سٹین لیس سٹیل بنا کر بیچنا چاہیئے.

ورلڈ اکنامک فورم کے ایک اجلاس میں انڈونیشیا کے وزیر تجارت نے بتایا کہ انہوں نے “کرومائیٹ اور” کی برآمد پر پابندی لگا دی اور پابندی لگانے کے بعد صرف اگلے سال دس ارب ڈالر کا سٹین لیس سٹیل برآمد کیا. اس سے اگلے سال اکیس ارب ڈالر کا سٹین لیس سٹیل. ان کا کہنا ہے کہ کہ صرف تین سال میں وہ دنیا کے دوسرے بڑے سٹین لیس سٹیل کے برآمد کنندہ بن گئے ہیں ان کی کل برآمدات کا دس فیصد صرف سٹیل ہوتا ہے. آپ کو مزے کی بات بتاؤں. ان کا “کرومائیٹ اور” چھیالیس فیصد کا ہے. جبکہ مسلم باغ بلوچستان میں پایا جانے والا کرومائیٹ پچپن سے ساٹھ فیصد کروم آکسائیڈ کا حامل. ہے اور ہم دہائیوں سے سر جھکائے اسے کوڑیوں کے مول جاپان اور چین کو برآمد کررہے ہیں پھر ان سے انتہائی مہنگے داموں سٹین لیس سٹیل درآمد کرتے ہیں. صرف کرومائیٹ ہی نہیں، “کاپراور” ، “زنک اور” ، فاسفیٹ روک، روٹائیل، باکسائیٹ ،میگناسئیٹ اور نہ جانے کیا کیا… ہم. سب کچھ، ساری قومی دولت کوڑیوں کے بھاؤ لٹا رہے ہیں. کوئی سننے دیکھنے اور سوچنے پر آمادہ نہیں. پھر اسی کفران نعمت کا عذاب ہے جو وزیراعظم صاحب کہتے پھرتے ہیں کہ ہم نے ان سے کہا ہم بھکاری نہیں بس حالات خراب ہیں اللہ کے نام پر ہماری مدد کرو.

بخدا ایسے زبردست وسائل کے حامل ملک کے کرتا دھرتا در در بھیک مانگیں تو انہیں کوڑے مارنے چاہیئں اور انہیں بھی جو طاقت پر قابض ہوکر کسی کو کچھ کرنے نہیں دیتے. اللہ کے بندو.. ابھی کچھ زیادہ نہیں بگڑا.. اللہ کی عطا کردہ بے پایاں نعمتوں کا ضیاع بند کرو.. سمت درست کرو علم ہنر عام کرو . فیکٹریاں لگانے کے لیے ماحول سازگار کرو.. خود بھی بھیک مانگنے کی ذلت سے بچو اور ملک کو بھی خوش حال ہونے دو –