Home » تجربہ کار اساتذہ کا معیار تدریس – ہمایوں تارڑ
بلاگز

تجربہ کار اساتذہ کا معیار تدریس – ہمایوں تارڑ

شمالی امریکہ میں، وقتاً فوقتاً، اس موضوع پر رِیسرچ ہوتی رہی ہے کہ آیا تجربہِ تدریس معیارِ تعلیم پر اثرانداز ہوتا ہے یا نہیں۔یعنی کیا ایک تجربہ کار ٹیچر زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا / سکتی ہے؟ سن 2009 میں دو عدد رِیسرچرز نے مل کر ایسی ہی ایک تحقیق قدرے بڑے پیمانے والے پاپولیشن سائز پر conduct کی۔پاپولیشن سائز تھا 820 عدد گریڈ وَن کے بچے، جنہیں 700 مختلف اسکولز میں سے منتخب کیا گیا تھا۔ اور جہاں تک ٹیچرز کا معاملہ ہے، اس تحقیق میں ایک (1) سال سے اکتالیس (41) سالہ تجربہ کے حامل اساتذہ کو شامل کیا گیا۔

نیز، اس تحقیق میں چار قسم کے کلاس رُومز کا انتخاب کیا گیا تھا:اوّل، مثبت جذباتی ماحول والا کلاس رُوم ــــ جس میں پڑھائی زیادہ اہم نہ تھی، بلکہ مجموعی اعتبار سے بچے کی جذباتی صحت کا خیال رکھنا نسبتاً بڑا مقصد / آبجیکٹو تھا۔دوم، مجموعی اعتبار سے پڑھائی یا اعلٰی معیارِ تعلیم پر فوکس کیے ہوئے ایک کلاس رُوم۔سوم، اوسط درجہ معیارِ تعلیم والا کلاس رُوم چہارم، پست درجہ معیارِ تعلیم والا کلاس رُوم نتیجہ کیا رہا؟ٹیچر کے تجربہِ تدریس کا اِن چار اقسام والے کلاس رُومز کے ساتھ تعلق کوئی واضح فرق ظاہر نہ کر سکا۔شمالی امریکہ میں ہی سَن 2016 میں پانچ عدد رِیسرچرز نے مل کر ایک اور تحقیق کر ڈالی۔ اس مرتبہ 222 عدد اساتذہ کا انتخاب کیا گیا جو ابتدائی تعلیم والے بچوں کے ساتھ منسلک تھے، یعنی سب کے سب early childhood educators تھے۔محققین کی اِس ٹِیم نے اپنے مشاہدات ریکارڈ کرنے کی خاطر آئی ایس آئی (ISI) آبزرویشن سسٹم کو اپنایا۔ یعنی طالب علم کو انفرادی طور اِنسٹرکشن دینے والے نظام کو مشاہدہ کرنے والی ایپروچ اختیار کرتے ہوئے۔ یعنی فوکس ٹییچر کے طریقہِ تدریس پر تھا، نہ کہ بچوں پر اثرات یا بچوں کی طرف سے تحصیلِ علم کی کوالٹی پر۔ اساتذہ کی اِس پاپولیشن میں صِفر درجہ تجربہ سے لے کر 36 سالہ تجربہِ تدریس والے افراد شامل کیے گئے۔

نتیجہ کیا رہا؟تجربہِ تدریس کی طریقہِ تدریس پر اثر آفرینی کے حوالے سے نہ صرف یہ کہ کوئی افادیت ظاہر نہ ہوئی، بلکہ تجربہِ تدریس اُلٹا منفی اثرات لیے ہوئے تھا۔ چونکہ کم تجربہ اساتذہ بہتر اسکور کرتے نظر آئے۔اس لیے یہ تصور کرنا اور کہنا غلط ہے کہ تجربہ کی کمی ایک استاد یا اِنسٹرکٹر کو less competent بناتی ہے۔ گویا حاصلِ تحقیق یہ رہا کہ عمدہ تدریس کا تعلق تدریسی صلاحیت، ذہانت، اچھی تیاری، اپنی آڈیئنس کے محسوسات کا ادراک کرنے کی صلاحیت یعنی empathy، اپنے کام میں دل و جان سے شمولیت / لگن، اور جذبہ و شوق سے ہے۔یہ تو رہا محققین کی اس کاوش کا احوال اور اخذ کردہ نتائج۔ مجھ ناچیز کا اپنا تجزیہ و تبصرہ کیا ہے؟1۔ بوجوہ تجربہ کی اہمیت اور افادیت سے انکار کرنا محال ہے۔ ہم نے آن گراؤنڈ، عملی اعتبار سے دیکھ رکھا ہے کہ تجربہ کی اہمیت کیا ہے۔ یہ کوئی بحث طلب بات ہے ہی نہیں! یہ تو ہو گیا میری طرف سے ایک عدد سوِیپنگ رِیمارک۔2۔ ایک اور خاص بات نوٹ فرما لیں۔ امریکہ میں اکثر مقامات پر اسکول سطح کی تعلیم بہت اچھی نہیں ہے ــــ اکثر مقامات پر! ۔۔۔ اساتذہ پر وَرک لوڈ ویسا ہی ہے جیسا ہم اپنے ہاں دیکھتے ہیں، اور اساتذہ کے انتخاب کے حوالے سے بھی کوئی عمدہ پالیسی نہیں۔ یا پالیسی ہونے کے باوجود اس کے نفاذ کا تردّد ناپید ہے ــــ اکثر مقامات پر! ۔۔۔ بالکل عام سے افراد ٹیچنگ میں جُت جایا کرتے ہیں۔ جیسا ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ نیز، یہ کوئی well paid جاب نہیں ہے۔ اساتذہ اپنی بقا کے لیے دیگر پارٹ ٹائم جابز بھی کیا کرتے ہیں۔

جب ایسا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ میں بھی، دنیا کی دیگر بیشتر مقامات کی طرح، ٹیچنگ ایک حددرجہ بورنگ عمل ہے۔ ٹیچنگ دنیا کامشکل ترین کام ہے ـــــ کہ تدریس براہِ راست دماغ کو ہٹ کرتی ہے۔ تنخواہ، مراعات، مالی آسودگی/ بےفکری، وَرک لوڈ، اساتذہ کی سلیکشن سے متعلق پالیسی، اور اس پالیسی پر عمل۔ یہ اس بحث کے کلیدی نکات ہوں گے۔ تب ایسی ایک تحقیق کا اعتبار قائم ہو گا۔ ورنہ ایسی رِیسرچز کے نتائج پر سوالیہ نشان لگ جائیں گے۔اِس حوالے سے پوری دنیا میں مثالی لیڈرشپ صرف فِن لینڈ کے پاس ہے۔ سوٹزرلینڈ، جرمنی اور جاپان سے بھی اچھی خبریں موصول ہوا کرتی ہیں۔تاہم، مجموعی اعتبار سے تعلیم وتدریس کی جو care فِن لینڈ نے کی ہے، لائقِ صد تحسین ہے۔میں اکثر سوچا کرتا ہوں کہ فِن لینڈ کی سیاسی قیادت کو ایسا عمدہ شعور کہاں سے ملا؟ ان کی لیڈرشپ نے اپنی دھرتی کے بچوں کو، اساتذہ کو، اور مجموعی اعتبار سے شعبہِ تعلیم و تدریس کو جو سُکھ چین اور معیار مہیا کیا ہے، اس پر وہ جنت الفردوس کے حق دار ہیں۔ آگے اللّٰہ جانے۔وہاں یونیورسٹی سطح کی Top 10 لَاٹ میں سے اساتذہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ سُوپر درجہ دماغ کے حامل افراد میں سے بھی صرف اُن افراد کا انتخاب جو تدریسی مزاج اور صلاحیت رکھتے ہوں۔ تب اُن منتخب افراد کی تربیت خاطر ایک مضبوط سسٹم موجود ہے۔نیز، تنخواہ اور مراعات، اور وَرک لوڈ کے باب میں اساتذہ کو وہ مقام و مرتبہ حاصل ہے کہ دیگر تمام شعبہ ہائے حیات کے لوگ اُنہیں رشک بھری نظروں سے دیکھا کرتے ہیں۔

فِن لینڈ میں ملازمت کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں محکمہِ تعلیم میں موصول ہوتی ہیں، اور ہر سال ایسی ہزاروں، لاکھوں درخواستیں مسترد کر دی جاتی ہیں۔ اُس سماج میں اساتذہ کو وہی مقام و مرتبہ حاصل ہے جو ہمارے ہاں ڈاکٹر اور انجینئر کے لیے رَوا ہے۔ وہاں پورے ملک میں 98 فیصد ادارے سرکاری ہیں جو انفراسٹرکچر سے لدے ہوئے ہیں۔ تعلیم بھی مفت ہے۔ہمارے ہاں کا مجموعی منظر نامہ کیا ہے؟ کتابوں اور کاپیوں سے لدے بستے، سہولیات کا شدید فقدان، محدود تنخواہیں، کمر شِکن وَرک لوڈ، اوسط درجہ صلاحیت و قابلیت کے حامل اساتذہ جو سب کے سب دھیاڑی دار مزدور ہیں ۔۔۔ مسائل میں گِھرے، جسم و جاں کے تعلق کو بمشکل استوار رکھے ہوئے ایک کہنہ سال “تجربہ کار” استاد/استانی کے لیے موٹیویشن کیا ہے؟

Add Comment

Click here to post a comment