Home » ہر عمر کے بچوں کی تربیت – تحریم فیصل
بلاگز

ہر عمر کے بچوں کی تربیت – تحریم فیصل

ہر انسان اپنی زندگی پانچ حصوں میں گزارتا ہے, بچپن (childhood), نوجوانی (adolescence), جوانی (adulthood), ادھیڑ عمر (middle age), اور بڑھاپا (old age). لیکن اپنی زندگی کا کوئی بھی حصہ اس دنیا میں کامیابی سے بسر کرنے کے لئے اسے مستقل رہنمائی اور مدد کی ضرورت رہتی ہے جو اسکے ماں باپ کے علاوہ اور کوئی نہیں دے سکتا.خاص کر جس معاشرے میں آج ہم زندگی گزار رہے ہیں یہاں تو ضروری ہے کے اپنی اولاد کو ہر عمر میں تربیت و توجہ کا مرکز رکھا جائے.

اکثر ماں باپ یہ سمجھتے ہیں کے تربیت, وقت, پیار, اور توجہ کی ضرورت شاید صرف اس اولاد کو ہوتی ہے جو کم عمر اور نا سمجھ ہے, جو اپنے روز مرہ کے کاموں کے لئے آپکا محتاج ہے اور یہ بلکل درست ہے. بچپن میں انسان ہر پل ہر لمحہ ماں باپ کی توجہ کا محتاج ہوتا ہے.لیکن درحقیقت ماں باپ کی توجہ اور وقت کی سب سے زیادہ ضرورت اس اولاد کو ہوتی ہے, جو نوجوانی سے نکل کر جوانی کی عمر میں داخل ہو رہی ہو. یہ اتنی vulnerable (ذہنی اور جذباتی طور پر کمزور) عمر ہوتی ہے کے اس میں بھٹکنا بہت آسان ہوتا ہے. کیونکہ عموماً اس عمر میں انسان پہلی مرتبہ گھر کی چار دیواری سے نکل کر باہر کی دنیا اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے. ایسے میں اکثر بچے بچپن سے اب تک کی جانے والی تربیت کے سبق بھلا دیتے ہیں. ان کو یاددہانی اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے. توجہ اور وقت نفسیاتی طور پر انسان کی دو بنیادی ضروریات ہیں بلکل کھانے اور پانی کی طرح. یہ اسکے ذہن کی غذا ہیں. ضرورت پڑنے پر اگر یہ دونوں چیزیں گھر سے نا ملیں تو باہر ڈھونڈی جاتی ہیں. اور باہر کی دنیا میں ہر دوسرا انسان ہمدردی کا لبادہ اوڑھے توجہ دینے کے لئے بیٹھا ہے. اس لئے کوشش کریں کہ آپ کی اولاد اپنے دل کا حال باہر کسی اجنبی سے کہنے کے بجاے خود آپ سے کہنے میں خوف و جھجک محسوس نہ کرے.

اور اسکے لئے ضروری ہے کہ آپ ان سے دوستی کریں, انکے شوق, خواب و خیالات, صحبت و سنگت, اور روز مرہ کے معمولات میں دلچسپی ظاہر کریں. ان کو وقت دیں, ان سے باتیں کریں, ان کو اپنے دن کے بارے میں بتایں اور ان سے ان کے دن کا حال پوچھیں. اور پھر تربیت کا یہ سلسلہ یہاں رک نہیں جاتا. اکثر اوقات کچھ بچوں کو شادی اور انکے بچے ہو جانے کے بعد بھی توجہ اور رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے, جو ان کے ماں باپ کے علاوہ اور کوئی نہیں دے سکتا. یاد رکھیں کہ آپ کی اولاد اللہ تعالی کی طرف سے امانت ہے آپ کی ملکیت نہیں. ان کی اچھی تربیت کرنا آپ کا فرض ہے اور بلا شبہ یہ ایک مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے. تب ہی تو الله نے اسے عبادت کا درجہ دیا ہے. یہی تربیت, محبت, توجہ, اور رہنمائی انکی اگے آنے والی زندگیاں پر سکون اور خوشحال بنا دیتی ہیں.