Home » دل کو زخمی اور سینے کو جلا دینے والے کلمات کے اثرات کو کیسے زائل کیا جائے؟ محمد سلیم
بلاگز

دل کو زخمی اور سینے کو جلا دینے والے کلمات کے اثرات کو کیسے زائل کیا جائے؟ محمد سلیم

یہ موضوع مجھے ایک عرب دوست نے بھیجا تھا، مجھے بہت ہی پسند آیا ہے، آپ کیلئے ترجمہ : مصنف کہتا ہے: اذیت ناک جرح یا جھڑکیوں اور طنز سے بھری ہوئی گفتگو: بھلے یہ باتیں کرنے والا آپ کا کتنا ہی قریبی مثلاً گھر والی، بھائی، بہن، رشتہ دار، شریک، دوست حتیٰ کہ کیوں ناں والد یا والدہ بھی ہو۔ اگر آپ ان سب کی باتیں سن کر صبر کر جاتے ہیں تو آپ کی آفرین ہے اور آپ کا یہ کردار حلم اور عفو شمار ہوگا۔

لیکن اس درد سے کیسے اجتناب کیا جائے؟ اور اس سے بڑھ کر: باتوں کے ان چھلنی کرتے بلکہ زہر میں بجھے تیروں سے دل کو کیسے بچایا جائے، تاکہ دل ایسے موذی امراض کا شکار نا ہو جائے جن کا مداوا کرنا بھی محال ہو جائے: بر سبیل مثال: یہ امراض نفسیاتی، عصبی، جسمانی بھی ہو سکتے ہیں اور عقلی خلل، حسد، دشمنی حقارت اور عداوت کا شکار ہوجانا بھی ہو سکتے ہیں۔میں نے جب کلام پاک کو دیکھا تو اسی موضوع کو تین بار علاج سمیت موجود پایا:الله سبحانہ و تعالیٰ سورت حجر کے آخر میں فرماتے ہیں: ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے (97) اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجا لاؤ (98)الله جل جلالہ سورت طہٰ کے آخر میں فرماتے ہیں: پس جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہو جاؤ (130)الله تبارک و تعالیٰ سورت قاف کے آخر میں فرماتے ہیں: پس جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو، طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے (39)

اگر ہم درج بالا آیات مبارکہ کی ترکیب پر غور کریں تو جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ذکر اور تسبیح کا حکم فوراً ہی “جو کچھ وہ کہتے ہیں” کے بعد آجاتا ہے۔ گویا کہ ادھر کوئی اذیت ناک والی بات سنی ادھر ہی ذکر کرکے اس اذیت کے اثرات کا ازالہ کر دیا۔ تاہم پہلی دو باتوں میں صبر کی تلقین بھی قابل غور اور واجب العمل فعل ہے۔دل کی سلامتی کا خیال رکھنا بہت ہی اہم کام ہے، الله کی تسبیح و تحمید کسی بری بات کے دل پر اثرات کا مداوا ہے۔ یہ محض احتیاطی تدبیر یا علاج ہی نہیں بلکہ علاج کے بعد دل میں تشفی، رضا اور خوشگواری کا احساس بھی ہے۔ان آیات کا عملی زندگی عمل کر کے اپنی روزمرہ کی زندگی کو آسان اور خوشگوار بنائیں اور رضا، خوشی، حسن ظن اور محبت کو فروغ دیں۔الله ہمیں اپنا ذکر کرنے والا بنائیں اور لوگوں کے شر سے محفوظ رکھیں۔ آمین

Add Comment

Click here to post a comment