Home » مقبول قربانی کیسے کریں؟ تحریم فیصل
بلاگز

مقبول قربانی کیسے کریں؟ تحریم فیصل

ہر سال عید الأضحى کے موقعے پر مسلمان سنّت ابراہیمی اور سنّت نبوی کی پیروی کرتے ہوے اللہ تعالی کی راہ میں جانوروں کی قربانی دیتے ہیں. لیکن آج کے مسلمان جہاں نیک نیتی سے اس فریضے کو انجام دیتے ہیں وہیں بہت سے افراد اس کو ایک مذہبی فریضے سے زیادہ دکھاوے اور دنیا پر اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے مناتے ہیں.

لوگ قربانی کے مقصد, اسکی روح کو بھول کر اس ہی فکر میں یہ دن گزار دیتے ہیں کے ان کا قربانی کا جانور سب سے بہترین ہے یا نہیں. اور اس میں کوئی بری نہیں ہے اگر نیت خالصتا بہترین قربانی کی ہو اور اس میں نمائش اور دکھاوے کا عمل دخل نہ ہو. جب اللہ تعالی نے آپ کو استطاعت دی ہے تو اپنے مال کو بہترین قربانی کے لئے صرف کیجئے لیکن اسکو اپنی اولین ترجیح نا بنائیں.ہم قربانی کیوں کرتے ہیں؟ یہ تو حج کا ایک رکن ہے نا. لیکن کیوں کہ حج کی سعادت ہر کسی کو میسر نہیں آتی اس لئے ایام حج میں ساری دنیا کے مسلمان وہ کام کرتے ہیں جو حاجی جوار بیت اللہ میں کر رہے ہوں. اور پھر اللہ تعالی نے اس قربانی کے لئے کسی دنیاوی شے کی شرط بھی تو نہیں رکھی , نا مال نا اولاداگر اولاد کی شرط رکھی جاتی تو کیا آپ کے خیال میں ہر ابراہیم اپنے اسمٰعیل کی قربانی دے سکتا تھا؟ یا اگر مال کی شرط رکھی جاتی تو ہر صاحب حیثیت کی قربانی زیادہ مقبول ہوتی اور پھر کم حیثیت والوں کی قربانی کیا اللہ قبول نہ کرتا؟ سوره حج میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہلَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ‌ؕ “اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے” (٣٧:٢٢)

بیشک ہمارا رب ہمارے دلوں اور زندگیوں سب کے حال سے بخوبی واقف ہے. اس نے مقبول قربانی کے لئے کوئی دنیاوی شے مقدّم نہیں رکھی بلکہ اسے تو بس انسان سے وہ جذبہ اور نیت مطلوب ہے جس میں تقویٰ ہو جو ریاکاری اور دکھاوے سے پاک خالصتا اللہ تعالی کے لئے اس کے دل میں موجود ہو.حدیث نبوی بھی ہے کہ “اللہ تعالی تمہاری صورتیں اور تمارے رنگ نہیں دیکھتا بلکہ تمہارا دل اور تمہارے اعمال دیکھتا ہے ” اگر تم شکر نعمت کے جذبے کی بنا پر خالص نیت کے ساتھ صرف اللہ کے لئے قربانی کرو گے تو اس جذبے نیت اور خلوص کا نذرانہ اس کے حضور پہنچ جائے گا ورنہ گوشت اور خون یہیں دھرا رہ جائے گا. لہذا اپنی مالی, جسمانی, اور وقتی حالات و حیثیت کے مطابق جو بھی انسان قربانی کے اصل مقصد کو سمجھ کر اور اسکی روح کو زندہ رکھ کر اور اپنی نیت کو اللہ تعالی کے لئے خالص رکھ کر جس بھی سطح کی قربانی کرے گا وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہوگی.