Home » اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عمل – لطیف النساء
بلاگز

اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عمل – لطیف النساء

 بے شمار اعمال ہیں جو اللہ تعالی کے پسندیدہ اعمال ہیں، مگر ہمیں غور سے سمجھ جانا چاہئے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عمل ہے۔ کیونکہ وہی ہماری جنت ہیں اور وہی ہماری دوزخ۔ ابن ماجہ کی یہ حدیث ماں باپ کی کتنی اہمیت نمایاں کرتی ہے اب ہمیں سوچنا ہے کہ ہمیں ہمیشہ عمل کرتے رہنا ہے ورنہ آج کل دیکھیں بچے اپنے ماں باپ کو صرف مطلب پرستی کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اپنی ہر جائز نا جائز خواہش منوا لیتے ہیں اور ماں باپ محبت کے مارے بچوں کے ہاتھوں بکے جا رہے ہیں۔

اگر چہ ماں باپ اور اولاد کی محبت بڑی ہی عظیم اور دلکش ہے مگر پھر بھی ماں باپ اپنے والدین کے ساتھ اگر اپنا رویہ درست رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تابعداری کریں۔ انہیں اُف تک نہ کہیں تو ان کی اولادیں صرف یہ دیکھ کر ہی بہت کچھ فرمانبرداری سیکھ جاتی ہیں۔ ادب لحاظ تمیز تہذیب بچے ماں باپ سے ہی تو سیکھتے ہیں اور ہر معاشرے میں ہر جگہ ان ہی کی بدولت خوش اخلاق کہلاتے ہیں،مہذب کہلاتے ہیں۔ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے جب بچوں کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ بچے بڑے اچھے ہیں انکا خاندان بہت اچھا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر بچے بگڑجائیں۔ لڑائی جھگڑا، ہڈ دھرمی، نفسا نفسی اور اکڑ،مغرور ہوں، مطلب پرستی ہو، خود غرضی ہو، چالبازی اور مکاری ہو یا پھر بچے سست اور کاہل ہوں، برعکس چست، چاک و چوبنداور پھرتیلے ہونے کے، تو یہ منظر انتہائی تکلیف دہ بن جاتا ہے ہم نے اکثر سنا ہے کہ ذرا کچھ بچے نے برا کیا تو کہا جاتا ہے کہ تمھارے ماں باپ نے یہ سکھایا ہے؟ میں نے تو ایک صاحب کو یہ کہتے سنا جب ان سے کہا گیا کہ تم اتنی گالیاں دیتے ہو اور بہن بھائیوں کے علاوہ والدین سے تک لڑتے جھگڑتے کیوں رہتے ہو؟ تمہیں تمیز نہیں ہے؟ اس نے کہا نہیں!پوچھا تمھاری ماں نے تمہیں یہی سکھایا ہے؟ کہنے لگے ہاں! جی ہاں بچپن سے میں نے ماں باپ سے گالیاں سنتے اور جھگڑتے دیکھا ہے تومجھے خود بخود یہ سب کرنا آگیا حالانکہ میرا دل نہیں چاہتا مگر مجھے ایسا کرکے تسکین ملتی ہے،  تو سوچیں شرپسندی کی نوبت کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچی؟

آج کل کتنے حالات خراب ہیں ماحول میں اداسی ہے۔ مہنگائی اور بداخلاقی اورنا انصافی کا دور دورہ ہے اس میں بھی والدین ہی ہیں جو کسی نہ کسی طرح محنت کرکے مشقتیں جھیل کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں بعض حلال کام اورکمائی سے اور بعض انتہائی لاچاری اور بے بسی میں،  تو بعض حرام کام اور حرام کمائی کرکے اولاد کو خوش بلکہ بہت خوش رکھنا چاہتے ہیں۔ تینوں صورتوں میں ماں باپ بچوں کی خواہشات اور زندگیوں کی خاطر اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر انہیں سکھی رکھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ صبح ہی صبح دیکھیں کیسے مزدور انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں کوئی آئے دہاڑی پر لے جائے۔ بلڈنگوں میں،کارخانوں میں، بسوں میں اندر اور اوپر سڑکوں پر، گٹروں، ندی نالوں میں تک ہر دم آپ نے لوگوں کو کام کرتے دیکھا ہوگا؟ ہم لوگ کیوں مصروف ہیں صرف اپنا پیٹ پالنے کیلئے نہیں بلکہ اپنی فیملی چلانے کیلئے۔ ہم ساری زندگی ایسے ہی مناظر دیکھتے ہیں۔ لمحوں میں دن گزر جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے جب ہم خود والدین بنتے ہیں تو ہمیں اپنے والدین کی قدر آتی ہے خاص کر بیٹے کو باپ بننے کے بعد ہی باپ کی قدر آتی ہے کہ کیسے انہوں نے ہمیں پال پوس کر بڑا کیا؟بد قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے زندہ والدین کی کبھی شکر گزاری نہیں کرتے بلکہ الٹا طعنے دیتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟ ایک بہن ہیں وہ کہنے لگی کہ میرے بیٹے نے موبائل فون میرے منہ پر مارا، اتنی مشکل سے نوکری ملی مگر اسے قدر نہیں، دوسرے چھوٹے بہن بھائی کیا سیکھیں گے؟ مجھ سے کہتا ہے کہ تم نے ایسے آدمی سے شادی ہی کیوں کی؟ جس نے ہمارے لئے کچھ نہ رکھا اور اللہ کو پیاراہو گیا؟

گھر کا بڑا بچہ ہے بیوگی کے 16سال گزار کر میں نے انہیں پاؤں پہ کھڑے ہونے کے قابل کیا اور یہ مجھ سے سوال کرتے ہیں؟ مگر آپ  اسکا ظرف دیکھیں چند ہی دنوں بعد جب دوبارہ ملی تو کہنے لگی معصوم ہے بچپنا دکھاتا ہے، غصے میں کردیا۔ اب تو بالکل ٹھیک ہے مجھ سے کہتا ہے کہ میری شادی کروا دو۔ بتاؤ؟ بیچاری ماں کی ممتا! خود بیمار جیسے تیسے کر کے گھر تبدیل کیا اور شادی کی۔ چھ سات مہینے تک صحیح رہا مگر پھر بیوی سے برا سلوک کیا تو وہ ماں کے گھر جا بیٹھی اور خلع بھجوا دیا۔ اب ماں کو مزید تنگ کر رہا ہے کہ کہ ماموں کو گھر پر نہ آنے دو کیونکہ انہوں نے رشتہ لگوایا تھا؟ جس ماموں نے بچوں کی طرح پال پوسنے میں میں مدد کی لمحے بھر میں انہیں رسوا کر دیا مگر پھر بھی ماں کاظرف دیکھیں اس کو گھر میں رکھا ہے۔ ہاتھوں سے پکا کر کھلاتی ہیں کپڑا لتا سب کرتی ہیں۔ مگر بہو کے بچھڑنے کا غم، خود کو قصور وار سمجھتی ہیں یہ ماں کی بے لوث محبت نہیں تو اور کیا ہے؟ حکم تو یہ ہے کہ والدین کو ا ف تک نہ کہو مگر یہ کتنی تذلیل کرتے ہیں انہیں احساس تک نہیں۔ بڑھاپا تو والدین کا کتنا بے چین ہوجاتا ہے اگر اولاد سکھی نہ ہو مگر سوچنا تو اولاد کو چاہئے کہ کیوں وہ ماں باپ کو دکھ دیتے ہیں اگر سکھ نہ دے سکیں توکم ازکم انھیں دکھ بھی نہ دیں کہ سائباں، ٹھنڈی چھاؤں بے لوث چاہنے والی اور تمھیں ترقی کرتے دیکھنے اور چاہنے والے کبھی کہیں اور نہ ملیں گے۔

  انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے بسا اوقات تو میں نے دیکھا ہے کہ ماں باپ کو بھی اتنی اہمیت نہیں دیتی جتنی اولاد کو اور خاص کر بیٹے کو دیتی ہے حالانکہ پہلے باپ اور اولاد!  لیکن اولاد کی محبت میں گرفتار ماں بیشتر اوقات ایسا کرجاتی ہے۔ میری دوست کو میں نے پوچھا؟شادی اور بچوں کے بعد تم میں کیا تبدیلی آئی؟  وہ کہنے لگی جی ہاں میں زیادہ ذمہ دار اور محنتی ہوگئی ہوں۔ بچوں سے مجھے پیار ہے جس سے زیادہ پیار ہوتا ہے اس کی تکلیف نہیں دیکھی جاسکتی۔ میں کتنی بھی تھکی ہوئی ہوں اگر روٹی کم ہوجائے تو میں باپ کو یعنی اپنے شوہر کو کہتی ہوں کہ چلیں یہ کھالیں۔ یہ بچے ہوئے چاول لے لیں، پھل لے لیں اور اگر وہی بیٹے نے ضد کی کہ مجھے روٹی چاہئے تو میں فوراً اٹھ کر اسے بنا کر دیتی ہوں مجھے اسکا احساس بھی ہو جاتا ہے مگر شاید باپ بھی ایسا ہی سوچتے ہونگے کیونکہ انہوں نے مجھے کبھی اس کا طعنہ تک نہیں دیا بلکہ الٹا خوش ہوئے تو یہ ہیں ماں باپ اور انکی محبت، بدلے میں ہم کیا کرتے ہیں۔ سب سے قیمتی وقت انہیں نہیں دیتے جس کے وہ زیادہ حق دار ہوتے ہیں۔ اپنی اپنی جگہوں پر بچوں سے زیادہ بے چین ہوتے ہیں۔ اس وقت کیونکہ صبر برداشت کم ہو جاتا ہے۔کمزوری اور بے ہمتی،  بار بار آڑے آجاتی ہے۔ بھول جانا عذاب بن جاتا ہے۔

بچے نہیں سمجھتے اور انہیں بڑا ہی سمجھ کر بہت سی باتوں کا برا مانتے ہیں، درگزر نہیں کرتے۔ وہ بالکل بچوں کی طرح کرتے ہیں اور بسا اوقات باتیں بھی، بسا اوقات بلا کی حکمت بھری باتیں کرتے ہیں تو دوسری طرف بچوں سے زیادہ ضد اور بیوقوفیاں لیکن اب اولاد کی آزمائش ہے؟کہ وہ کیا کرتے ہیں؟ اب وہ  وہی کرینگے جو انکے والدین نے دادی دادا اور نانی نانا سے سلوک کیا، جتنا ایمان اور تقویٰ مضبوط ہو گا بچوں کا عمل خود بخود مشفقانہ اور خالص ہوگاماحول پرسکون اور دل مطمئن ہونگے ورنہ دکھاوے میں نہ برکت ہوگی، نہ روح کا قرار، بچے اگر سمجھ جائیں کہ:

 محبت ماؤں کا آنچل،  محبت باپ کی شفقت
محبت رب کی رحمت کا جہاں میں نقش ثانی ہے

محبت حق کا کلمہ ہے محبت چاشنی من کی 
محبت روح کا مرہم، دلوں کی حکمر انی ہے

فنا ہو جائیگی دنیا، فنا ہوجائیں گے ہم تم 
 محبت باقی رہ جائے گی، یہ تو جاودانی

 محبت کا احاطہ اور کن الفاظ سے ہوگا
محبت تو محبت ہے، محبت زندگانی ہے

ماں کی محبت کو اللہ نے اپنی محبت کا پیمانہ بنا دیا ہے۔ اس لئے ماؤں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے تو اسکا قوام باپ بھی کتنا ہی عظیم ہو گا سو چیں؟ تو پھر آپکا سلوک انکے ساتھ کیا ہونا چاہئے؟ یہ کہنے کی نہیں سہنے کی بات ہے اپنی جنت اور جنت کے دروازے کیلئے اس دنیا میں ہی بے لوث اور بے غرض محبت کرنے کا خالص ثبوت دنیا ہی دراصل اولاد کا فرض، حق ہے اور ترجیحِ اول ہے تو سمجھیں آپکا مقام خود بخود بلند ہوتا چلا جائیگا دونوں جہاں میں انشاء اللہ العزیز۔

Add Comment

Click here to post a comment