Home » خوف – نیر تاباں
بلاگز

خوف – نیر تاباں

مجھے ڈر لگتا ہے، پانی سے۔ اونچائی سے۔ کیڑے مکوڑوں سے۔پانی سے اتنا زیادہ کہ ایک دن پرات میں یخ پانی ڈال کر اس میں چہرہ ڈبویا ہوا تھا۔ بھابھی نے شرارت سے میرے سر کے پیچھے ہاتھ رکھا کہ اب یونہی رہو پانی میں تو مجھے لگا میری سانس رک جائے گی۔اونچائی سے مجھے اتنا خوف آتا ہے کہ اونچائی سے دیکھتے بیشک ریلنگ تھام رکھی ہو تب بھی ٹانگیں کپکپا رہی ہوتی ہیں۔ میں اونچا جھولا تک نہیں جھول سکتی کہ مجھے ڈر لگتا ہے۔ رنگا رنگ رائڈز کو دیکھ کر للچا جاتی ہوں، یا کبھی تو یہ بھی نہیں۔ دیکھ کر اتنا ڈر لگتا ہے، پتہ نہیں لوگ کیسے رولر کوسٹر اور الا بلا میں بیٹھ جاتے ہیں۔

کیڑوں سے بھی اتنا ڈر کہ کیچوے جیسی بے ضرر چیز سے دور بھاگنا۔ کاکروچ کا مجھے آج تک نہیں پتہ کہ بیچارہ کیا کر لے گا حد سے حد کہ اتنی جان جاتی ہے۔ پھر یہ ہوا کہ میں ایک بیٹے کی ماما بن گئی۔ اب دو ہی آپشنز تھے: یا تو بچے کو “گر جاؤ گے۔ اوپر نہ چڑھنا۔ دھیان رکھو۔پانی کے پاس نہ جاؤ۔۔۔۔”جیسے جملوں کی تكرار کرتی یا سوچتی کہ “ڈر کے آگے جیت ہے!”ننھا احمد بیک یارڈ کی کچی زمین کھود کر کیچوے پکڑ کر بہادری سے مجھے دکھاتا، میں ڈر دبا کر اسے شاباش دیتی۔ کبھی ٹہنی پر بٹھائے بٹھائے اس کیچوے کو گھر بھر کی سیر کروائی جاتی، کبھی کانچ کی شیشی میں مٹی، پانی، پتے، اور پتھر جمع کر کے گھونگے کے لئے رہائش کا انتظام کیا جاتا۔ احمد وہ بچہ ہے جو پیدائش کے بعد پہلی بار نہانے میں بھی خوش باش تھا۔ احمد میری مچھلی ہے۔ اسے پانی سے دور رکھنا ممکن نہیں۔ سوئمنگ تو یہاں سبھی بچے کرتے ہیں، لیکن وہیں کلب میں ایک ڈیڑھ فٹ اونچا پھٹا لگا ہوا تھا جس پر سے بھاگ کر پانی میں ڈبکی لگانے کی خواہش احمد کی اپنی تھی۔ اجازت لی گئی اور پھر ہر سوئمنگ کلاس کے اختتام پر بچہ ایک دو بار ڈیڑھ فٹ اوپر موجود اس پھٹے پر سے چھلانگ لگاتا۔ ڈائیونگ میں داخلہ لینے کی مرضی بھی اس کی اپنی تھی۔ تین میٹر، پانچ میٹر، سات میٹر سے ہوتے ہوئے اب دس میٹر پر آن پہنچے جبکہ سال ڈیڑھ کورونا کی وجہ سے کلب بند رہا۔

درختوں پر چڑھنا، سیڑھی لگا کر چھت پر چڑھنا اور وہاں سے ٹریمپولین پر چھلانگ لگانا۔ یہاں میری سانس حقیقتا” رکتی ہے۔ مجھے اتنا خوف آتا ہے کہ میں دیکھ نہیں پاتی۔ غالبا یہ سب سے خوفناک کام ہے جو یہ کرتا ہے۔ اسیے میں چپکے سے اسے دعا کے حصار میں دے کر میں سایڈ پر ہو جاتی ہوں۔ شروع دن سے اصول تھا کہ بچے کو کبھی ڈرانا نہیں ہے کہ مائی آ جائے گی، بابا لے جائے گا وغیرہ۔ دوسرا یہ کہ آئے کانٹ کہنے کی اجازت نہیں تھی۔ کوشش ضرور کرنی ہے، نہ ہوا تو کوئی حرج نہیں۔ شروع کی تحریروں میں یہ دونوں اصول ایک بار بتائے تھے۔اور یہی میرا بہادر احمد ہے جو کسی بھی جگہ مکڑی دیکھ کر اتنے زور کی چیخ مارتا ہے کہ در و دیوار کانپ اٹھیں۔ آج بھی لیمپ آن کر کے سوتا ہے حالانکہ کبھی ایک بار بھی ڈرایا نہیں کہ سوئے نہیں تو فلاں فلاں آ جائے گا وغیرہ۔ بے ضرر سے کیڑوں کی ایک دو قسموں سے اتنا خوف کھاتا ہے کہ مرے ہوئے کیڑے کے پاس جانا بھی گوارا نہیں۔ تو ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ خوف خود نہ ڈالیں۔ ہونٹوں پر آیا ہوا “سنبھل کے، گر نہ جانا۔۔” روک لیں۔ لیکن بہرحال کسی چیز کا فطری خوف بچے میں موجود ہے تو وہ وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی ختم ہو گا۔

Add Comment

Click here to post a comment