Home » والدین کی محبت – ایمن طارق
بلاگز

والدین کی محبت – ایمن طارق

چاہے بچے بگڑ جائیں یا باغی ہوجائیں کیا ماں باپ اُن سے تعلق توڑ لیں اور اپنے دلوں پر پتھر رکھ لیں ؟ مجھے اس کیس کئی حقیقت نہیں پتا کیا سچ ہے کیا جھوٹ لیکن معاشرے کے اندر کی نے چینی کو محسوس کرسکتی ہوں ۔ مجھے یاد ہے کہ جب بچے ٹرپ پر جاتے ہیں یا اسکول اسپورٹس ڈے میں تو میں اُن کو لینے جاتے ہوۓ پرفارمنس دیکھنے کے لیے کوئی ایک اسنیک یا پانی ساتھ رکھ لیتی ہوں کہ وہ تھک جائیں تو اُنہیں چپکے سے پانی دوں لیکن اکثر بچے اُس وقت ناراض ہوجاتے ہیں

جب اُن کو زیادہ پوچھا جاۓ یا اُن کو بار بار بچہ سمجھ کر اپنی محبت نچھاور کی جاۓ ۔ ماں باپ کی محبت ایسی ہی ہوتی ہے خود سوچ سوچ کر بچوں کی اُن ضروریات اور پریشانیوں کا خیال رکھنا جو بچے خود نہیں اہم سمجھتے ۔اور پھر وہ وقت بھی کئی دفعہ آتا ہے جب بچے بدتمیزی کردیں ، دوسروں کے سامنے مایوس کردیں ، توقعات پر پورا نہ اُتریں تب بھی اُن کے چہرے پر زرا سی نرمی اور پشیمانی دیکھ کر دل کیسے پگھلتا ہے ۔ چند لمحے پہلے جو دل اُن کی حرکتوں پر جلتا کڑھتا تھا وہ مچل جاتا ہے ۔ ماں باپ کے اندر اولاد کی محبت نہ ہو تو دنیا جنگل بن جاۓ اور اپنے ہی بچوں کو بھون کر کھانے لگیں ۔ اگرچہ انسان نما درندے بہت سے ہیں جو اتنے شقی القلب ہوں کہ اپنی ہی اولاد پر ظلم کریں ۔ کتنے ہی لوگ اپنے بچوں کو تنگ آکر گھر سے نکال دیتے ہیں لیکن پھر بچوں کے بچے دیکھ کر اُن پر قربان ہوتے ہیں اور سب بھول جاتے ہیں ۔ کیا ہمارا معاشرہ اس نہج پر ہے کہ بچے بگڑ رہے ہیں گھروں سے بھاگ رہے ہیں اُن کا والدین پر اعتماد ختم ہوچکا ہے اور وہ والدین کی محبت پرورش سب بھول کر ایک نظر ڈالنا پسند نہیں کرتے ؟ کیا ہمارے ہاں والدین بچوں سے محبت کا حق ادا نہین کر رہے ؟ رات جاگ کر بچے کا خیال نہیں رکھتے ؟ مائیں بچے کو کلیجے سے لگا کر نہیں رکھتیں کہ بچوں کا خون سفید ہوگیا ؟

ایسا کیا ہوا ہے کہ ایک بڑی تعداد میں بچے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی زندگی بنارہے ہیں ؟ مغربی معاشرے کا تو یہی حال ہے تو پھر کیا پاکستانی معاشرہ اس اسٹیج پر ہے اور ہماری آنکھین بند ہیں ؟ یا پھر دال میں کچھ کالا ہے ؟ ہر چیز جو نظر آتی ہے ویسی نہیں جیسی نظر آتی ہے ۔حقیقت میں اس کیس سے والدین دہل گۓ ہیں اور نوجوان مزید شیر ہوگۓ ہیں ۔ سوشل میڈیا کی حکومت ہے دس لوگ سو باتیں ۔ ایک حقیقت سو فسانے جس میں ہر ایک نے اپنی مرضی نے نتائج اخذ کیے ۔ یہ کیس پاکستانی معاشرے کے اندر ایک بم دھماکے کی طرح دھجیاں اڑاۓ دے رہا ہے ۔ اینگزایٹی میں مبتلا تین چار کلائنٹس نے رابطہ کیا کہ وہ رات میں سو نہیں پارہیں اور اپنی بچیوں اور بچوں کو ڈر کے مارے مزید سختی کر رہے ہیں کہ کہیں گھر سے بھاگ کر ریاست کے قبضے میں نہ چلے جائیں-

Add Comment

Click here to post a comment