Home » شیطان کی اکساہٹیں – ریطہ طارق
بلاگز

شیطان کی اکساہٹیں – ریطہ طارق

“اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو،وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے”حم السجدہ 36زندگی کی شاہراہ پر کبھی ایسے رستے بھی آتے ہیں،جب ہم بلکل سکون سے شیطان کی اسکیم کا حصہ بن رہے ہوتے ہیں،اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو زیادتی زیادتی ہوتی ہی نہیں ہے،اطراف کے لوگوں کی بے جا ہمدردی سے وہ ہمارے لیے زیادتی بن جاتی ہے،جبکہ چھوٹی سے چھوٹی مشکل پر بھی وہ رب جو ہم سے بے پناہ محبت کرتا ہے،ہمارے ساتھ ہوتا ہے .

اور ہم اسکے ہوتے ہوئے بھی کتنے رفیق بنالیتے ہیں،وہ رفیق جو ہمیں روز قیامت رائے برابر نفع نہ دے سکیں گے،ساری تدبیر کرنے اور تمام حربے آزمانے کے بعد بھی شیطان کی اسکیم کا حصہ تو ہم بن جاتے ہیں مگر حاصل کچھ بھی نہیں ہوتا،ہمارے پاس اس وقت بھی خدا کی ذات ہی ہوتی ہے،تلافی کرنے پر جو دس قدم بڑھ کر تھام لیتی ہے،دلوں کے سکون کا باعث بنتی ہے،جسے ہم بے وقعت سمجھا ہوتا ہے وہی ہماری دعا سنتی ہے،فریاد سنتی ہے۔اس باگ دوڑ کی دنیا میں جگہ جگہ اکساہٹوں کے بازار گرم ہیں،کہیں سیاست،کہیں میڈیا کی بے راہ روی تو کہیں تخیل میں پلنے والے بدگمانی کے کیڑے جو آہستہ آہستہ ہماری اپنی خودی سے ہمیں دور کردیتے ہیں،اپنے آپ کو بھی پھر ہم لاحاصل ہوجاتے ہیں،یہ لا حاصلی ہماری روح وہ دراڑیں کردیتی ہے کہ ہم مقصد زندگی کھوبیٹھتے ہیں،جبکہ شیطان نے تو بس ایک راہ دکھائی ہوتی ہے،ایک ایڈریس دیا ہوتا ہے،یہ ہماری مرضی کہ ہم اس ایڈریس تک پہنچیں نا پہنچیں۔جو صحیح وقت پر اپنا رستہ چن لے اور اللہ پر بھروسہ کرلے کہ یقینا اللہ بہترین سننے اور جاننے والا ہے تو پھر اسکو اپنی منزل مل جاتی ہے ورنہ بھٹکا انسان بھٹکتا ہی رہ جاتا ہے۔

ایسی ترتیب بنانے کے لیے اپنی طرز زندگی میں اطاعت کے فریضے کو ضرور کھنا چاہئیے،یہ بھی ممکن نہیں تو مشورہ۔۔۔۔۔کیونکہ ہمارے کسی بھی ذرا سے منفی طرز عمل سے ہماری اس تربیت کی ترجمانی ہوتی ہے جو ہم اپنے آبا اپنے مرکز سے لیتے رہے ہوتے ہیں،جب ہم شیطان کی اکساہٹ کا نشانہ بنتے ہیں تو اسکی اسکیم کامیاب ہوتی ہے،یوں وہ وہاں پر پھوٹ ڈالنے میں کامیاب ہوتا ہے کہ بد سے بد تر کے معیار پر ہمیں لاکر کھڑا کردیتا ہے،جہاں ہماری کوئ وقعت نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ اس آیت کی روشنی میں ہمیں اپنا تجزیہ کرنے کی توفیق دے، آمین

Add Comment

Click here to post a comment