Site icon نوک قلم

محبت سے جوڑے رکھنا ہی حل ہے ۔ نیّر تاباں

آج بچوں کے ساتھ قرآن کلاس میں یونہی کہانی کے بیچ میں نے سوال کیا، “جب آپ امی ابو کو مدد کے لئے کہتے ہیں تو وہ مدد کرتے ہیں؟” اگلا سوال مجھے یہ کرنا تھا کہ جب وہ ہمیشہ آپ کی مدد کرتے ہیں تو پھر جب وہ ہمیں کہیں تو ہمیں بھی مدد کرنی چاہئے؟لیکن یہاں میرے ارادے سے بالکل ہٹ کر کچھ ہو گیا۔ ایک بچے نے جواب دیا: نہیں! وہ بہت مصروف ہوتے ہیں۔

میں کلاس کے دوران چیٹ صرف اپنے تک رکھتی ہوں اور بچے جانتے ہیں کہ ان کا نام لئے بغیر ان کی بات کلاس میں ہو جائے گی، اس لئے وہ کہہ لیتے ہیں۔ اتنے میں دوسرے بچے کا میسج آتا ہے کہ نہیں، میرے امی ابو کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ وہ ہر وقت چھوٹے بہن بھائی کے ساتھ مصروف ہوتے ہیں۔ مجھے سلمان آصف صدیقی صاحب کی بات یاد آئی: سوچیے کہ سب بہن بھائیوں میں سے آپ کے والدین کا ایک فیورٹ بچہ تھا۔ سوچیے کہ وہ بچہ آپ نہیں تھے۔۔۔ ہے نا تکلیف دہ؟ اب واپس اپنی اولاد کی طرف آئیے۔ انہیں ایسا محسوس نہ ہونے دیں۔ میں نے جیسے تیسے بات کو کور اپ کیا کہ بچوں ہی کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں نا امی ابو۔ لیکن بچوں کا اصرار تھا کہ امی ابو ہمیشہ ہی مصروف رہتے ہیں۔ سب بچوں سے کہا کہ مجھے احساس ہے آپ اس بات سے ہرٹ ہیں۔ کیوں نہ جا کے آرام سے امی ابو کو کہہ لیا جائے؟ جواب آتا ہے: ہم کہنے جائیں گے تو وہ ہمیں چھوٹے بہن بھائیوں کا کوئی نہ کوئی کام کہہ دیں گے۔ یہ تمام گفتگو من و عن پیش کر رہی ہوں۔
۔۔۔۔۔
بات تھوڑی الارمنگ ہے۔ یہ آج کے دور کے بچے ہیں۔ محسوس کرتے ہیں۔ کہہ دیتے ہیں۔مجھے احساس ہے کہ زندگی کتنی مشینی ہو چکی ہے۔ لیکن ایک گھنٹہ پورے دن میں کوالٹی آور کے نام پر بچوں کو ملنا چاہیے کم سے کم۔ اتنا تو حق رکھتے ہیں وہ؟ آپ کے لئے یہ جاننا شاید حیران کن ہو کہ چائلڈ ابیوز میں مار پیٹ، گالم گلوچ کے ساتھ ایک چیز neglect بھی شامل ہے۔ جی، باقاعدہ کتابوں میں شامل ہے۔ بچے جن کے لئے والدین میسر ہی نہیں۔ کیسا خلا سا رہ جاتا ہے۔ پھر اس خلا کو کون، کیسے پُر کرتا ہو، کیا خبر۔ محتاط رہنا ہی بہتر ہے۔ محبت سے جوڑے رکھنا ہی حل ہے۔

Exit mobile version