Home » یہ احتجاج منافقت ہے – ابن فاضل
بلاگز

یہ احتجاج منافقت ہے – ابن فاضل

معاف کیجئے گا جب آپ کو لگے کہ حکمران آپ کے ساتھ زیادتی روا رکھے ہیں. بجلی کے بحران اور ایندھن کی قیمتوں نے جینا دوبھر کردیا ہے… آپ کو وہ سہولیات ہر گز نہیں مل رہیں جن کا آپ حق رکھتے ہیں، ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام نہیں کرتے جس کی وجہ سے عدم استحکام ختم نہیں ہوتا اورمعاشی حالات میں بہتری نہیں آتی… ایسا محسوس ہو کہ اشرافیہ معاشرتی ناہمواری کا باعث ہے جس سے ہمارا استحصال ہورہا ہے تو… نظام کو کوسنے سے پہلے خود سے دریافت کیجئے گا کہ کہیں یہ سوال آپ کے تو نہیں…

ٹوکن لیکر درجنوں لوگ قطار میں لگے اپنی باری کا انتظار کررہے میں ان سب سے بعد میں آکر اپنے کسی محلہ دار واقف کی وساطت سے ان سب سے پہلے کام کروانے کا کیا استحقاق رکھتا ہوں.؟ سڑک پر اشارہ بند ہونے پر گرمی میں جو بزرگ اور جوان رکے ہیں میں دائیں بائیں سے کسی طرح ان سے آگے کیوں نکلنا چاہتا ہوں. میرے اندر کیا فالتو خوبی ہے کہ. میں جہاں جی چاہے اشارہ کی بھی پروا کیے بغیر لوگوں کی زندگیوں کر خطرہ میں ڈال کر ہر حال میں جلد منزل پر پہنچنا چاہتا ہوں.؟ میرا بیٹا قابل نہیں مگر میں کسی نہ کسی طرح سفارش اور رشوت کے بل پر اسے کسی قابل کی جگہ بھرتی کروانا چاہتا ہوں کیوں.؟ میں نے اصل مال کی پوری قیمت وصول کرکے گاہک کو جو جعلی غیر معیاری مال دے دیا.. اس کے نقصان کا ذمہ دار کون ہے.؟ فالتو منافع کے لالچ میں میرے کھانے کی اشیاء اور ادویات میں ملاوٹ کرنے سے جو لوگ بیمار یا فوت ہوتے ہیں کیا ان کا بوجھ میری گردن پر ہوگا.؟ . جب میں خود دودھ میں ملاوٹ کرکے قسمیں کھاکر بیچتا ہوں تو چنے کے چھلکوں والی پتی خریدنے پر غصہ کیوں آتا ہے.؟ دکان کے آگے فٹ پاتھ پر دکان کا آدھا سامان نہ رکھوں تو گاہک کو کیسے علم ہوگا کہ میری دکان میں کیا کیا اشیاء برائے فروخت موجود ہیں.؟ جب میرا آفسر مجھے کسی غیر قانونی کام کا حکم دیتا ہے تو میں اس کا حکم کیوں مانتا ہوں. صاف انکار کیوں نہیں کرتا.؟

سرکار سے باقدگی سے پوری تنخواہ لیکر بھی میں ہر سائل کے لیے مشکلات کھڑی کرتا ہوں کہ رشوت کا جواز بنے. ایسا کرنے سے اس کا اور قوم کا جو نقصان ہوتا ہے کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں.؟ بھائی صاحب کمائی جتنی بھی ہے کسی کو کیا پتہ بس آپ سکون کریں.. جب سر پر پڑے گی دے دلا کر معاملہ کرلیں گے کیا ضرورت ہے خوامخواہ ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونے کی.؟ بھائی میں تو میٹر ریڈر کو ماہانہ دیتا ہوں دن رات تین اے سی چلتے ہیں بل دوہزار سے زیادہ کبھی نہیں آیا. مجھے کیا خبر بجلی کے نرخ کیا ہیں؟ اگر میں یا آپ ان میں سے کسی ایک یا زائد سوالات کی زد میں ہیں تو یقین کریں کہ استحصالی کوئی باہر سے نہیں.. میرے اندر ہی ہے. کیونکہ باہر اور اندر کے استحصالی میں فرق صرف بس کا ہے ….. میرا بس یہیں تک چلتا ہے اگر میں اپنی چھوٹی سی دنیا میں محدود سے اختیارات کے ساتھ خود کو راہ راست پر نہیں رکھ پاتا تو لامحدود اختیار اور بندوبست رکھنے والے کی زیادہ کج روی پر میرا احتجاج محض ڈھکوسلہ ہے کیونکہ ایک چور کبھی بھی دوسرے چور کے خلا ف حقیقی احتجاج کرہی نہیں سکتا… بلکہ صرف ڈھکوسلہ نہیں… معاف کیجئے گا……… یہ احتجاج منافقت ہے.

Add Comment

Click here to post a comment