Home » حج وفا کی سنت – اسری’ غوری
بلاگز

حج وفا کی سنت – اسری’ غوری

طواف حرم سے سعی اور منی سے جمرات تک چپہ چپہ پر ابراہیم علیہ السلام کی وفا کہ جس کی گواہی رب اعلیٰ نے یوں دی ( ابراہیم تو وہ جس نے وفا کا حق ادا کردیا ) حاجرہ رضہ کا ایمان اور توکل باللہ ۔۔۔۔اور ننھے اسماعیل علیہ السلام کی ثابت قدمی کی داستاں رقم ہیں انکے قدموں کے نشاں ثبت ہیں ۔۔۔۔ اس سرزمین کا ذرہ ذرہ اک اک پہاڑ خانداں ابراہیم کی قربانیوں کا گواہ ہے ۔۔۔۔ابراہیم وفادار ٹہرے مگر۔۔۔۔۔ لمحہ بھر کو رک سوچیں تو سہی کیا ۔۔۔۔ ام حسبتم ان تدخلوا الجنتہ ۔۔۔۔

کیا یہ وفا کا انعام یونہی مل گیا ۔۔ رب کو پانے کی جستجو سے لیکر آگ میں ڈالے جانے تک باپ اور اہل خاندان کو چھوڑنے سے ملک بدر کردینے تک اور شیر خوار ننھے اسماعیل اور جوان بیوی کو مکہ کی سنگ لاخ چٹانوں کے درمیان چھوڑے جانے سے لیکر اسماعیل کی گردن پر چھری پھیرنے تک وفاؤں کے کڑے سے کڑے امتحان ہیں جن سے کہیں بھی ڈگمگائے بغیر ثابت قدمی سے گزر کر ہی خلیل اللہ کا لقب پایا ۔۔۔۔حاجرہ توکل باللہ کی اس سے بڑی کوئی مثال نہیں ملتی ۔۔۔۔ابراہیم جب بیوی اور بچہ کو لیے مکہ کی وادی میں پہنچے بیوی بچے کو اتارا کسی محفوظ جگہ کو تلاش کیا ہوگا مگر جب خود لوٹے تو حاجرہ پیچھے دوڑیں ۔۔۔ابراہیم ابراہیم کہاں چلے ۔۔۔۔۔ہمیں یہاں تنہا چھوڑ کر کہاں چلے ؟؟ ابراہیم میں بیوی کے سوالوں کے جواب دینے کی سکت نہیں چلتے جارہے حاجرہ اپنے سوالوں کا جواب نہ پاکر اپنے وفا کے پیکر شوہر کے اس اقدام کا آپ ہی جواز تلاش کررہی ۔۔۔ یک دم بولیں ۔۔ ابراہیم کیا آپ کو اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ؟ ابراہیم بنا پلٹے گردن ہلا کر اقرار کررہے ۔۔۔۔ اور اس اقرار نے کیسی سکینت بھردی اس لڑکی میں ۔۔ بے قرار قدم وہیں ٹھر گئے ۔۔۔ تنہا اک لڑکی اپنے شیر خوار کیساتھ اجاڑ بے آب و گیاں وادی میں اپنے رب کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرکے جب کہتی ہے ( اللہ ہمیں ضائع نہیں کرےگا )

تو رب اپنی اس بندی کے قول کو ساری دنیا کے مردوں سے پورا کرواتا اور بتاتا کہ وہ واقعی وفاؤں کو کبھی ضائع نہیں کیا کرتا وہ رب تو سب سے بڑھ وفا نبھانے والا ۔۔ آہ ! رب نے کیسا بھرم رکھا اس لڑکی کے بولوں کا ۔۔۔ابراہیم لوٹ گئے اور حاجرہ ننھے اسماعیل کو لیے چھاتی سے چمٹائے نجانے کتنے پل اپنی جگہ سے ہل بھی نا پائی ہونگی مگر جب چھاتیاں خشک ہوئی ہونگی اور اسماعیل کے پیٹ میں کچھ نہ اتر رہا ہوگا تو بیٹے کو لٹا کر صفا کی چوٹی سے مروا کی چوٹی تک کسی گزرنے والے قافلے مسافر یا پانی کی تلاش میں دوڑی صفا سے اتری تو گھاٹی درمیاں ہے ننھا اسماعیل آنکھوں سے اوجھل ہوگیا تو بے کلی میں وہ گھاٹی دوڑ کر پار کرہی ہیں اک نہیں دو نہیں پورے سات چکر اسی بے کلی میں ۔۔۔ اور پھر جو لوٹی تو دیکھا اک چشمہ ہے جو ننھے اسماعیل کی ایڑیوں سے پھوٹ پڑا ۔۔۔ اللہ اکبر ۔۔۔ بے ساختہ کہا زمزم ۔۔ رک جا ۔۔قیامت تک آنے والوں اور ” والیوں ” کو کیسا سبق سکھا گئیں آپ بی بی حاجرہ کہ۔۔۔ جب توکل باللہ کے زاد راہ کیساتھ یقین کے پہاڑوں کی بلندیوں پر چڑھ کر صبر کی گھاٹیوں سے دوڑتے ہیں تب ۔۔۔۔تب کہیں جاکر سنگ لاخ چٹانوں سے بھی زمزم پھوٹ جایا کرتے ہیں ۔۔۔ سوچتی آج جب کہ دنیا کہ بہترین سنگ مر مر ، اعلی ترین ائیر کنڈیشن ، خوبصورت ترین بتیاں اور اک ہجوم اس جگہ سے گرز رہا ہوتا تب بھی لوگ گواہ ہیں کہ اکثریت کا یہ جملہ ہوتا کہ طواف ہوجاتا پر سعی بہت مشکل ہے مگر رکیے

ذرا لمحہ بھر کو تصور تو کیجیےاس اندھیرے کا ۔۔۔اس بیاباں کا ۔۔۔۔اس وحشت اور ہو کے عالم کا ۔۔ اس تنہائی کا۔۔۔ اور اس بھوک پیاس کا ۔۔۔۔۔ جب جب ہری بتیوں کے درمیان مردوں کو بھاگتے دیکھتی ہوں تو اپنے ” عورت ” ہونے پر فخر ہونے لگتا ہے کیسے میرے رب نے اک عورت کی سنت کو مردوں سے پورا کروایا ان بھاگنے والوں مین وہ مرد بھی ہونگے جو عورت کو جوتی کی نوک پر دھرتے ہونگے وہ مرد بھی ہونگے جو عورت کو کھلونا سمجھتے ہونگے وہ بھی جو عورت کو بس اک وقتی ضرورت سمجھتے ہونگے ۔۔۔۔ وہ بھی جو عورت کی عزت نفس کو پیروں تلے کچل کر گردنوں میں سریا رکھتے ہونگے ۔۔۔جب ہری بتیوں سے بھاگتے ہوئے گزرتے ہونگے تو پتا لگتا ہوگا کہ عورت ” شہ ” کیا ہے ۔۔۔۔۔ ہاں وہ بھی مرد ہونگے جو عورت کی عزت اور قدر اور محبت کرتے ہونگے ان کی نگاہ میں عورت کی قدر و منزلت اور بھی بڑھ جاتی ہوگی ۔۔۔۔ کتنا سچا ہے نا رب کا وعدہ اعمال کی جزا میں عورت مرد کی کوئی تفریق نہیں اس کی نگاہ میں سب برابر ہیں اپنے رب سے وفا اک عورت کو بھی کتنے بلند مقام تک پہنچا دیتی ہے اور وہ اپنے رب کی کتنی پیاری ہوجاتی ۔۔۔ کہ وہ اس کی سعی کو رہتی دنیا تک قایم رکھتا ۔۔۔جب جب سعی سے گزرتی تو حاجرہ جیسا توکل مانگتی تڑپ اٹھتی یا رب کوئی تو میرا بھی قدم ان کے قدموں کے نشانوں پر رکھوادینا یاربی میری بھی محبتوں میں وہ اخلاص وہ ایقان وہ ایمان کی حلاوت دے دینا ۔۔۔

رمی کو جاتے ہوئے اسماعیل کی ثابت قدمی کے نشانوں میں بھی حاجرہ رضہ کی تربیت دکھائی دیتی ہے باپ کے بغیر بیٹے کی کیسی تربیت کی کہ اس ننھی سی عمر میں کہ جب اپنا بھی صحیح سے شعور نہیں ہوتا اللہ کا ایسا تعارف ایسی محبت اور ایسا ایمان اپنے دودھ کے ساتھ بیٹے کی رگوں میں منتقل کیا کہ جب اس ننھی جان سے وہ قربانی مانگی گئی جو بڑے بڑوں کو ہلا ڈالے تو ماں کے دودھ میں اترے اس توکل اور ایمان باللہ نے ایسا ثابت قدم رکھا اور ذرا بھی تامل نہ کرنے دیا اور باپ کیساتھ نکل کھڑے ہوئے ( اباجان جان آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے )فلک نے کب اس سے پہلے ایسی قربانی کا منظر دیکھا تھا کہ اک تنہا پرورش کرنے والی ماں خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے جگر گوشے قربانی کیلیے پیش کررہی تو بوڑھا باریش باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کو اوندھے منہ لٹائے بنا لرزے ہاتھ مین چھری اور عزیز جان ٹکڑے کے گلے پر رکھے ہوئے تو ۔۔۔بیٹا قربانی صبر اور استقامت کی انتہاؤں کو شرماتے ہوئے آنکھوں پر پٹی باندھے زمین پر لیٹا ہے ۔۔۔۔۔۔اک اک کو روک رہا ہے شیطان۔۔۔سب سے پہلے اسماعیل کو زندگی کی قیمت بتا رہا ہے زندگی تو اک ہی بار ملتی یے کیا کرنے جارہے ہو ننھے ابھی دیکھا ہی کیا ہے لوٹ جاؤ ۔۔۔ مگر یہ کیا جواب میں ننھے اسماعیل سے پتھر کھارہا ہے اور پتھر کا ہوگیا ۔۔۔آگے چلی تو یہاں پھر اک اور شیطان ہے اور وہ حاجرہ مین مامتا جگا رہا کیسی کرم جلی ہے اپنے ہاتھوں اپنے تنہا جگر گوشے کو ذبح کروانے چلی ہے ہوش میں آ کیسی ماں ہے ۔۔۔۔مگر ابھی بات بھی پوری نا کرپایا تھا کہ حاجرہ نے پتھر مارے اور آگے بڑھ گئی ۔۔۔

وہ بھی پتھر کا ہوا مگر وہ شیطان ہی کیا جو باز آجاے ۔۔۔اب اگلا بڑا شیطان ابراہیم کے پاس پہنچا بولا ۔۔۔۔ارے برسوں نہ پوچھا بیٹے کو اب آئے تو بیٹا ہی ذبح کرنے پر تل گئے ہو کیسے سنگ دل باپ ہو رک جاو لوٹ جاؤ بیٹے سے بڑھ کر کون ہے بھلا ۔۔۔ مگر ابراہیم نے پتھر وں سے جواب دیا اسکو بھی پتھر کا کیا ۔۔۔اور آگے بڑھ گئے بیٹا زمین پر اوندھا پڑا ہے چھری گردن پر ہے ماں آنکھیں موندھے دم سادھے کھڑی کہ کب زمین جگر گوشے کے لہو سے بھر جاے ۔۔۔۔۔ ندا آتی ۔۔۔۔ ابراہیم کا خاندان آزمایش پر پورا اترا ۔۔اور اللہ نے جنت سے دنبہ بھیجا کہ میرے اسماعیل کی گردن کے بدلے یہ دنبہ فدیے میں ہماری طرف سے ہے ۔۔۔۔اسے قربان کرو ۔۔۔۔۔ یہ منظر میری آنکھون نے دیکھے یقین جانیے میں پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔۔۔۔۔۔ ہاے کیسا تھا یہ خاندان ۔۔۔۔ کیسی مٹی سے گندھے تھے یہ نفوس ۔۔۔جی چاہا ان پہاڑوں سے پوچھوں کہ تم تو چشم دید گواہ ہو کچھ تو بتاو مجھے اس صبر استقامت اس ایمان اس محبت باللہ کی داستاں ۔۔۔ کچھ تو سناؤ ۔۔۔۔ایسا لگا جیسے پہاڑوں نے میری صدا سن لی تھی جیسے وہ بولنے لگے تھے ۔۔۔۔ حج حج پکارنے والو کچھ خبر بھی ہے کہ حج وفاداروں کی وفا کی (سالگرہ ) سنت ہے کیوں ہر سال رب لاکھوں لوگون سے یہ سنت دہرواتا ہے ؟؟ کیون بھلا ؟؟ کچھ تو سوچو ۔۔حج وفا سکھاتا ہے وفا ۔۔۔ لا کا صحیح مفہوم بتاتا ہے وہی لا جو تم سیکنڑوں ہزاروں بار زباں سے دہراتے ہو ۔۔ تسبیح پر تسبیح پھیرتے ہو کچھ سمجھے بھی کبھی کہ یہ لا کیا مانگتا ہے ۔۔۔؟؟ ارے اسکی تشریح ہے ۔۔۔ حج ۔۔۔ لا نہیں ہے کوئی بھی الہ ۔۔۔ الا اللہ سواء اللہ کے ۔۔۔۔

اسی کے ہوجاو اسی کا ہوجانے میں نجات ہے ۔۔۔۔۔۔پہاڑوں کی صدائیں سنتے رمی کرتے قدم رک رک جاتے وہ نقش پا اسماعیل ڈھونڈھنے لگتے جہاں جہاں سے اسماعیل گزرے ۔۔۔۔ دل سے تڑپتی دعائیں نکلتی رہیں ۔۔۔۔یاربی ہمیں حاجرہ جیسی مائیں عطا فرما ابراہیم جیسے باپ اور اسماعیل جیسی اولاد عطا فرما ہماری نسلوں کو بھی اپنی ایسی محبت دے دیجیے ایسا تعلق باللہ ایسی استقامت ۔۔یا ربی کہیں تو دلوں پر ایمان کے چھینٹے پڑ جائیں ۔۔ کچھ تو لے کر لوٹوں۔۔۔ ایماں ایقان ، محبت اور وفا دامن میں بھر کر لوٹوں
کچھ تو صدقہ اس خاندان کی قربانیوں کا نصیب ہو۔۔۔۔۔کچھ تو مفہوم ” لا ” کا سمجھ کر لوٹیں کچھ تو وفا سیکھ کر لوٹیں ۔۔۔ کچھ تو تیرے ہو کر لوٹیں آمین یا ربی