Home » ہر مشکل کا حل ترازو – قانتہ رابعہ
بلاگز

ہر مشکل کا حل ترازو – قانتہ رابعہ

تین دن کی چھٹی کے بعد کام والی ماسی ائی تو طبیعت بہت افسردہ تھی داخل ہوتے ہی سلام دعا کی اور جھاڑو پکڑ لیا فریدہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھیں یہ پہلا موقع تھا کہ گوٹھ سے واپسی پر وہ ہشاش بشاش نہیں تھی بلکہ فریدہ نے تو اسے ایک دو مرتبہ اپنے دوپٹے سے آنسو پونچھتے بھی دیکھا تجسس اور ٹوہ لینا فریدہ کی فطرت میں نہیں تھا اس لیے وہ اسی انتظار میں رہی کہ ماسی خود ہی کچھ بتائیں

کچھ دیر بعد فریدہ نے چائے بنائی ماسی ہمیشہ اس کے ساتھ چائے پیتے ہوئے اہنے ،بیمار شوہر اور گلی محلے کے مسائل ڈسکس کیا کرتی تھیں آج بھی حسب سابق فریدہ چائے کا ک اور بسکٹ پلیٹ میں رکھ کر لے گئی تو ماسی نے سر جھکائے جواب دیا ،آج دل نہیں چاہتا چائے پینے کا ،رہنے دیں ،،گرمی کی تپتی دوپہر میں بھی چائے کی رسیا کے منہ سے چائے کا انکار سن کرفریدہ کے دل کو کچھ ہوا وہ سامنے رکھے صوفہ پر بیٹھ گئی اور ماسی کو بھی بٹھا لیا ،ناشتہ کر کے ائی ہیں یا نہیں ؟,,ماسی کی خاموشی کا مطلب یی تھا کہ وہ ناشتہ نہیں کر کےآئی فریدہ نے شیر مال اور پانی کا گلاس ٹرے میں رکھا ماشی کو کام سے روکا اور ناشتہ کے لیے اصرار کیا ،بیگم صاجی ،بہت ظلم ہوا میرے گھر والے کی حالت زیادہ خراب تھی ہسپتال لے کر گئے تو کبھی ایک ٹیسٹ کبھی دوسرا صبح سے شام ہو گئی آخر ایک ڈاکٹر کو ترس ایا اس نے کہا انہیں بس اچھی خوراک دو اور تازہ ہوا میں رکھو ،کچھ دوا بھی لکھ کر دی رات گئے گھر پہنچے بھوک سے براحال ،راستے میں تندور سے روٹی دال کے دو سو روپے رکشہ والے کے پانچ سواور دو ہزار کی دوا لے کر گھر پہنچے تو دال باسی ،بدبو والی تھی پھینک کر پانی کے ساتھ نوالے چبائے اگلے دن گوشت اور پھل لینے کے لیےبازار گئی سوچا تھا پاو بھر گوشت لے کر یخنی بنا دوں گی بعد میں وہی بھون کر بیمار کو دے دوں گی

قصائی نے میرے سامنے دو بوٹیاں ایک ہڈی ڈالی لیکن گھر آکر دیکھا تو سوائے دو ہڈیوں اور چھچھڑوں کے کچھ نہ نکلا اسی طرح پھل فروٹ والے نے دھوکہ دیا اچھے سیب اور انار میں نے شاپر میں ڈلوائےگھر میں وہ بھی پرانے سیب اور گلا ہوا انار تھا بیگم صاحجی خدا تو بس امیروں کا ہے غریبوں کا کوئی نہیں میری تین ماہ کی سینت سینت کر رکھی رقم بھی خرچ ہو گئی اور سوائے پھینکنے والی چیزوں کے کچھ نہ ملا ، ماسی بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی فریدہ کا دل بہت خراب ہوا مدد تو وہ پہلے بھی کرتی رہتی تھی ماسی کی بند مٹھی میں رقم دے کر بولیں ،ماسی یہ تو کفر کا بول ہے کہ خدا تو امیروں کا ہے امیروں کے بھی سو گنا زیادہ بڑے دکھ ہوتے ہیں ہاں غریبوں کو خوشخبری ہے کہ وہ امیروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے باقی رہی تمہارے ساتھ کل جو ہوا تو ماسی اس کے قصور وار صرف ہم ہیں جب ہمارے معاشرے میں انصاف ہی نہیں کسی کو پکڑ دھکڑ کا خوف نہیں تو سارے ایسے ہی دھوکے باز نکلیں گے اپنی بدقسمتی کے ہم خود ذمہ دار ہیں ووٹ دیتے ہوئے ہم تعلقات ،رشتہ داری اور بہت کچھ دیکھتے ہیں تب ہمیں یاد نہیں رہتا کہ خدا خوفی رکھنے والے ایماندارجو ہمارے جیسے ہیں ہمارے ہی ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے ان سے گلی محلے کے مسئلے حل کرواتے ہیں لیکن ووٹ ان کو نہیں دیتے ،،

آپ کا مطلب ہے اگر ہم ووٹ صحیح لوگوں کو دیں گے تو سارے مسئلے حل ہو جائیں گے ،ماسی نے پوچھا اور جواب کا انتظار کئے بغیر جوش سے بازو اوپر ہرا کر بولی تو پھر میں سمجھ گئی بیگم صاحجی میرا میرے گھر والوں کا ووٹ بس⚖️ کا –