Home » ہماری میراث – قاضی نصیر عالم
بلاگز

ہماری میراث – قاضی نصیر عالم

شہر اُجڑ رہا ہے۔۔۔کوئی غم نہی۔۔کتنے ہی شہر اور تہذیبیں تھیں جو ملیا میٹ ہوگئیں۔۔منوں مٹی تلے دفن ہو گئیں۔۔۔ستونوں والے ۔۔اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۔۔۔اَلَّتِىْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُـهَا فِى الْبِلَادِ۔۔۔کہ ان جیسا شہروں میں پیدا ہی نہی کیا گیا۔۔۔۔وَثَمُوْدَ الَّـذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۔۔۔اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے پتھروں کو وادی میں تراشا تھا۔اور کیا آراستہ وپیراستہ پختہ گلیوں والے۔۔جن کی باقیات،نشانات اور آثار آج بھی دیکھتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔۔لیکن دل کو ٹٹو لیں تو دکھ کا شائیبہ نہیں ملتا۔۔۔ان سب نے سر کشی کی۔۔اور زمین میں فساد پیدا کیا۔۔۔

یہ شہر اجڑ گیا اور ہم جیسے خانہ بدوش بچ رہے تو “ناسٹیلجیا”اپنی نسلوں کو یوں منتقل کر جائیں گے کہ وہ جنت گم گشتہ کوڈھونڈتی پھریں گی۔۔۔ہم تو خیر سے ٹھرے ایک ہی مٹی کے گندھے ہوئے لوگ،عالم ارواح کے دوست۔۔۔کالج کا راستہ ناپا تو ہم جیسے بے شمار تھے۔۔جنہیں نہ موٹر سائیکل میں پیٹرول کی پروا ہوتی تھی نہ کھانے کی فکر۔۔وہ پنچھی جو صبح جلدی جلدی اپنے خالی پوٹوں کے ساتھ اپنے آشیانوں سے نکلتے۔۔۔اور شکم سیر ہو کر گھر لوٹتے۔۔گھر تنگ اور چھوٹے تھے۔۔لیکن دل اتنے کشادہ تھے کہ بس۔۔کھانا کھلائے بغیر جانے کا تصور ہی نہ تھا۔۔محبتوں کا وہ موسم بھی گزر گیا۔۔گویا بہار ختم ہوئی۔۔عملی زندگی شروع ہوئی تو حلقہ یاراں کی جگہ حلقہ دوستاں تھا۔۔۔اب بھی مختلف قومیتوں کے لوگ تھے لیکن ایک فرق تھا۔ان سب کے سیاسی نظریات مختلف تھے۔۔کچھ قوم پرست تھے۔۔کچھ سوشلسٹ تھے۔۔۔کچھ کنفیوز قوم پرست تھے جو اپنے آپ کو سوشلسٹ کہلوانے پہ بھی مصر تھے۔۔عجیب بات یہ دیکھی کہ ان کے ظرف بھی اتنے ہی وسیع تھے۔۔جو قوم پرست تھے ۔ایک لمحے وہ پنجاب سے نفرت کا اظہار کرتے تھے اپنی محکومی کا رونا روتے تھے لیکن اگلے لمحے کسی پنجابی یا پٹھان کے ساتھ مل کر قہقہے بلند کرتے ساتھ کھانا کھاتے دکھ درد میں شریک ہوتے۔۔۔سگریٹ کی پیکٹ میں تمباکو کسی نسل کا نہیں ہوتا تھا میز پہ پڑی ہے تو مواخات کی علامت ہے۔۔بے دھڑک پیتے جائیں۔۔۔۔اور ختم ہو جائے تو بے چینی ظاہر نہ ہونے دیں۔۔

سوچتا رہا کہ آخر یہ ماجرا کیاہے۔۔اس شہر کے لوگوں کا مزاج کیونکر یکسر مختلف ہے۔۔اتنی فراخ دلی،اتنی وسعت اتنا ظرف کہاں سے لاتے ہیں۔۔۔بسوں میں صبح شام دھکے کھاتے،سولہ گھنٹے ڈیوٹی کرنے والے کنڈیکٹر کی جھڑکیاں سنتے دفتر پہنچتے ہیں تو خوش مزاجی کو بچا کر ساتھ لے ہی آتے ہیں۔۔کچھ تو بات ہے اس شہر کے باسیوں کی۔۔کچھ الگ ہے لیکن کیا ہے یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔۔۔پھر ایک دن یہ بات اس نے سمجھائی جس نے اس شہر میں فقط ایک سال گزارا تھا۔۔کہنے لگا یار ۔۔یہ بڑا غریب پرور شہر ہے۔۔تجھے پتہ ہے۔۔یہاں مشکل مجبوری میں قرض مل جاتا ہے۔۔بنا مدت کے بھی مل جاتا ہے۔۔دیر سویر ہو تو دروازے کے سامنے کوئی چارپائی ڈال کر نہی بیٹھتا۔۔۔گریبان کو نہیں آتا۔۔یہاں سو سو روپے پہ قتل نہیں ہوتے۔۔پورے ملک میں یہ مزاج کہیں نہیں۔۔۔۔یہاں کوئی چاہے تو اپنی حیثیت سے دس گنا قرض لے لے۔۔اسے مل جاتا ہے ۔۔۔تو کہیں اور دو لاکھ اٹھا کے دکھا دے مان جاوں تجھے۔۔پھر ایک ٹیکسی ڈرائیور یاد آیا۔۔مجھ سے پوچھا کراچی سے آئے ہو ؟؟کہنے لگا میرا گھر تھا کراچی میں ۔۔پانی کی ٹنکی تھی۔۔اچھی گزر رہی تھی۔۔ بس رشتہ داروں کی باتوں میں آکر یہاں آگیا۔۔ٹیکسی چلا کر گزر بسر کر رہا ہوں۔۔۔لیکن یار”اے پوکھا ملک اے”(یہ بھوکا ملک ہے)اور یہ بات وہ اس علاقے کی بابت کہ رہا تھا جو اس کی سرزمین تھی۔۔۔ کراچی کے لوگوں کی دریا دلی نہ دیکھی ہوتی تو کیسے کہتا۔۔؟؟یہ معمہ تاحال موجود ہے کہ یہ ظرف آخر آیا کہاں سے؟؟؟

ان سے ۔۔۔جو ہجرتوں میں سب کچھ چھوڑ آئے اور “ترک”کرنے کی میراث بانٹ دی۔۔یا یہ ظرف ان زمین زادوں سے ملا۔۔۔جو مہمانداری اور تواضع کی برسہا برس کی روایتوں کے امین تھے۔۔۔جو بھی تھا لیکن اس شہر میں پیدا ہونے والی ہر قومیت پر انہوں نے اپنا اثر چھوڑا۔۔شہر صدیوں سے اُجڑتے آئے ہیں۔۔کراچی اُجڑ گیا تو ڈی ایچ اے اور بحریہ کی حدوں میں کوئی نیا کراچی بس جائے گا۔۔۔لیکن دکھ اس مزاج کاہے جو اس شہر کے لوگوں کے سوا کسی کو میسر نہی آیا۔۔اگر اس شہر کے مزاج کو کسی نے “فار گرانٹڈ” لیا تو میری دعا ہے کہ خدا اس کا دانہ پانی اس شہر سے اٹھائے کسی دوسرے شہر آباد کرے ۔۔اپنے ہم نسل و ہم زبان اور ہم قبیلہ لوگوں کے ساتھ شریک کرے کہ اسے اس جوہر نایاب کی قدر ہو۔۔یہ ظرف یہ کشادگی ،وسعت و دریا دلی یہ سخاوت و استغنا،یہ بے لوث محبتیں۔۔۔۔شہروں شہر ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملیں گی۔۔۔قریہ و قصبات میں بھی نہیں۔۔یہ وہ روایات ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئیں ہیں۔۔۔خدا نہ کرے کہ یہ وہ آخری نسل ہو۔۔ہو سکے تو اس ورثے کو بچا لیں۔۔۔ کہ ہماری میراث تو اور کچھ بھی نہیں۔۔۔

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。