Home » مثبت سوچ – صبا ناصر
بلاگز

مثبت سوچ – صبا ناصر

موسم برسات میں کراچی کی عوام ، گلیاں ، محلہ سب برسات کی موجودہ صورتحال سے پرشان ہیں ۔ ہم بھی انہی ٹوٹی پھوٹی دلدل بنی گلیوں میں ہاتھ میں ہینڈ بل لئے کراچی کو پھر سے روشن وتابناک دیکھنے کے لئے کوشش میں لگے ھوئے تھے۔مماچلیں ان کے گھر۔ نہیں بھئی یہ تو ایم کیو ایم کے لوگ ہیں۔

ارے بھئی تمھاری کب سے یہ سوچ ھوگئی۔ ہمیں تو ہر دل پر دستک دینی ہے۔ اللہ تو قفل کھولنے پر قادر ہے۔ ابوسفیان رض حضرت عمر جیسے افراد بھی ہمیں ان ہی گلیوں محلوں، چوراہوں پر ملیں گے۔ نا امید بھلا کیوں؟اور میرا ہاتھ کال بیل پر تھا۔ جی کون ؟آپ کی اہل محلہ ہوں۔ گیٹ کھلا ۔ ہمیں اندر لے جایا گیا ۔ جوائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ 4 سوگز پر 4 پورشن۔ساس کاکمرہ خاص لان کے سامنے تھا۔ وہ ہمیں بھی اسی کمرے میں لے آئیں۔ بہت اچھا لگا۔ باتیں بھی خوب ہوئیں۔ بر ملا پچھلی سیاست پر تبصرہ بھی کیا۔بیٹا سچ بات ہے عصبیت کی آگ نے بہت کچھ دیکھایا۔ بہت کچھ کھو چکے ھیں۔ اب مزید سکت نہیں۔ پچھلے دور میں ایم کیوایم کو ووٹ ضرور دئیے۔ لیکن اس میں بھی بچے ہمارے عثمان ہی میں زیر تعلیم رھے ۔ نئی نسل کو سیاست کی نظر نہیں کرنا۔ آج بھی پانی ہمیں صاف سستا ترین جماعت اسلامی کے واٹر پلانٹ سے ہی ملتا ہے۔ پھر بلدیہ تو اپنا گھر ہے اس کو کام کے بندوں کے حوالے کرنا ہی عقل مندی ہے۔

ہمیں اہل محلہ کی یہ مثبت سوچ ان کے لان میں مہکتے چمپا و گلاب کے پھولوں کی طرح محسوس ہوئی۔ کہ جیسے بارش کے موسم میں کائنات کی سر زمین لہلہا جاتی ہے ۔ دھل جاتی ہے ۔ نئی کونپلیں و کلیاں کھلنے لگتی ہیں۔اہل محلہ کانٹے، خار دار جھاڑیاں و پانی کے جوہڑ تو مل کر صاف کرتے ہیں۔ چمن کے پھولوں کی خوشبو کےلئے صف بستہ کھڑے ہونا ہی آج ہماری ضرورت ہے!ہمیں واضح محسوس ہوا کہ جیسے اللہ تعالی نے کراچی شہر میں اس ابر رحمت کو برسا کر اہلیان کراچی کو حقیقت حال کی صحیح تصویر دکھا دی ہے! ہمیں رخصت کرتے ہوئے ان بزرگ ساس کا ایک جملہ ہی کافی تقویت دے گیا۔ ایک جانب نالوں میں معصوم خاندان ڈوبنے لگے اور دوسری جانب اچھی جگہ قبر کے حصول کے لئے زمین الاٹ ہو رہی ہو تو ہمارا ووٹ تو ڈوبتے شہر کو بچانے والے کی طرف ہوگا انشاءاللہ ۔اندھیروں میں ایک روشن دیا ‘حافظ نعیم الرحمن’ کی صورت میں اللہ کا دیا کافی ہے۔ الحمداللہ!

Add Comment

Click here to post a comment