Home » عیاں ہیں فرش خاکی پر قدم افلاک کے – کرن وسیم
بلاگز

عیاں ہیں فرش خاکی پر قدم افلاک کے – کرن وسیم

قدم بڑھائیے حافظ نعیم الرحمن صاحب!!! آپ کا رب اور  ہم سب آپکے بڑھتے قدموں کا ساتھ ضرور دیں گے ۔۔ حافظ صاحب !! کمزور ، لاغر ، غریب ، مجبور اجتماعیت سے بہتر اللہ کے نزدیک وہ ایک بندہ مومن ہے جو قوی اور مضبوط اعصاب کا مالک ہو ۔۔ اکیلے قدم اٹھانے میں ہچکچانے والا نہ ہو ۔۔ جو ساتھ آنے والوں کیلئے راستے میں چراغ جلاتا چلے۔۔ جس کے مضبوط نقش پا، گرد راہ میں گم ہونیوالے نہیں ہوتے ۔۔ جسکے نقش قدم پر چلتے ہوئے حق کی منزلیں واضح ہوجائیں ۔۔ وہی قدم آپ بڑھائیے ۔

اس شہر بے اماں کو امان نصیب ہوگی ان شاءاللہ ۔۔ جب اس شہر کے بیٹے اسکی محبت میں اسے تباہ و برباد کرنیوالوں پر شیر کی طرح دھاڑتے ہونگے ۔۔ نماز عشق باطل کدوں اور عشرت کدوں کو بھی اللہ اکبر کی صداؤں سے مزین کرکے رہے گی ۔۔ تحریکی زندگی میں کچھ جارحانہ قدم اٹھانے پڑتے ہیں ۔۔ کچھ مشکل فیصلےکرنے ضروری ہوتے ہیں۔۔ جو صرف اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ مخلوقِ خدا کے حق اور مفاد کیلئے ہوتے ہیں ۔۔ جو ظالموں، جابروں کو للکارنے کیلئے ہوتے ہیں ۔ جو کمزوروں کو طاقتوروں کی غلامی سے نکالنے کیلئے ہوتے ہیں۔۔ جو ظلم و ناانصافی کے نظام کو زمیں بوس کرنے کیلئے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں ۔۔ مگر یہ فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کے لیے اخلاق و کردار کی ایسی پختگی درکار ہوتی ہے جو دریاؤں کے رخ موڑنے کا عزم رکھتی ہو ۔ اپنے شہر کے لوگوں کی تعفن زدہ ، ذلت آمیز زندگیوں کو بدل ڈالنے ، اندھیروں کو روشنیوں سے بدلنے کی جدو جہد کے گواہ ہم سب ہیں اور رب کائنات تو ہے ہی ایسے بندوں کا بہترین قدردان ۔۔حافظ صاحب !! حق کا علم اللہ کی خاص رحمت ہے جسکے ہاتھ میں تھمایا جاتا ہے ۔ رب العالمین اسے آزماتا بہت شدت سے ہے مگر ناکام نہیں ہونے دیتا ۔۔ پر امید رہیئے گا ۔۔ رات کی تاریکی عروج پر پہنچتی ہے جب صبح بہت قریب ہوتی ہے ۔۔ یہ بوسیدہ نظام آخری سانسیں لے رہا ہے ۔۔

ہمیں یقین ہے کہ یہ حق کے علمبرداروں کے قدموں میں ڈھیر ہونے کو ہے ۔۔ کراچی کے رہنے والے اب اپنے پیاروں ، راج دلاروں کو ایک روشن ، چمکتا ، دمکتا شہر کراچی دکھانا چاہتے ہیں ۔ یہ منزل قریب ہی ہے ۔۔ان شاءاللہ تعالیٰ
‏خودی کیا ہے راز درونِ حیات
خودی کیا ہے بیدارئی کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے
‏زمانے کی دھارے میں بہتی ہوئی
ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی
ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر
ہوئی خاک ِ آدم میں صورت پزیر
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے۔۔

Add Comment

Click here to post a comment