Home » امیدکراچی۔۔حافظ نعیم – زبیر منصوری
بلاگز

امیدکراچی۔۔حافظ نعیم – زبیر منصوری

کوئی سمجھتا ہے کہ وہ چار پوسٹس چھ تصویروں ٹوئٹس اور ویڈیوز سے کراچی سمیت سندھ بھر کو پی پی کے شکنجے سے چھڑا سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہےپی پی سندھ کی جڑوں میں بیٹھی ہوئی ہے کراچی میں بھی وہ پنجے گاڑ چکی ہے کیونکہ وہ باقی سب کی طرح شور نہیں مچاتی نہایت خاموشی سے کام اتارتی ہے

آئیے الیکشن ہیں تو فی الحال کراچی کی بات کرتے ہیں تو جناب سنئیے۔۔پی پی نے برسوں سے نہایت خاموشی کے ساتھ کراچی میں وڈیروں کے کارندوں اور اپنے ورکروں کو لا بسایا ہے کاش یہ میرٹ پر دیہی علاقے کے عام آدمی ہی کو نوکری دیتی تو بھی کوئی بات تھی مگر یہ نوکری کے نام پر زن بچہ خاندان قبیلہ سب کو گروی بنا لیتی ہے۔۔پھر بڑی عیاری سے کراچی کے ڈسٹرکٹ نئے بنائے اور پچاس سے زائد حلقوں کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ کچی آبادیوں کے ووٹ بنک کو پکی آبادیوں کے ساتھ مرج کر دیا گیا ہے تاکہ الیکشن میں ایک سالڈ بلاک ووٹ وہاں سے لے کر جیتا جا سکے پی پی کے لئے یہ الیکشن زندگی موت کا مسئلہ ہے۔۔ان کچی آبادیوں میں مقامی موثر لوگوں پر ہاتھ رکھا جاتا ہے فنڈز ہو یا کرپشن تھانہ کچھری ہو یا دفاتر کے کام انہیں کے ذریعے کروائے جاتے ہیں اور پھر ان کی پوزیشن کو عام ان پڑھ غریب آدمی کا ووٹ لینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔۔پکی آبادیوں کا ووٹنگ ٹرن اوور سست رکھنے اور پریشرائز کرنے کے لئےان کے پولنگ اسٹیشن دور یا کچی آبادی میں بنانا ایک اور حربہ ہوتا ہے ۔۔مخالف ووٹ بنک کو خراب اور سلو کرنے کے لئے وہاں انتخابی عملہ بداخلاق اور دور دراز سے بلوا کر لگا دیا جاتا ہے جو جان بوجھ کر مسائل پیدا کرتا ہے اور ان بستیوں میں ویسے ہی ووٹنگ سے لاتعلقی کے رجحان کو اسے مشکل بنا کر مزید خراب کر دیتا ہے۔۔

اور اس سب کے بعد اگر کچھ سیٹیں بھی اسے حاصل ہو جاتی ہیں تو آزاد ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی جیسی پارٹیوں کے برائے فروخت منتخب لوگوں کو ساتھ ملا کر جوڑ توڑ کی جاتی ہے۔۔اس بار تو پی ڈی ایم کی صورت میں پی پی کو ایک اور پلس پوائنٹ بھی حاصل ہےاور اس سب کچھ کا مقصد صرف اور صرف اس سونے کاانڈا دینے والی مرغی کراچی کے وسائل ہڑپ کرنا ہوتا ہے اس کا حل سندھ میں ٹھیک مردم شماری ،اور شہر کو اپنا سمجھنے والے طاقتور نمائندوں کی موجودگی ہے جو بہرحال حافظ نعیم کی صورت میں سامنے موجود ہے اور فیصلہ کچی اور پکی آبادیوں کے شہریوں کے ہاتھ ۔رہنا دونوں اور ان کے بچوں نے اب یہیں ہیں تو کیوں نہ اب کی بار اپنی امید کو #امیدکراچی سے ملا لیا جائے؟