Home » لمحوں نے خطا کی *تھی،صدیوں نے سزا پائی – اسما صددیقہ
بلاگز

لمحوں نے خطا کی *تھی،صدیوں نے سزا پائی – اسما صددیقہ

کلی مسکرائی اور لمحہ بھر میں پھول بن گئی دل نے نظر ڈالی لمحوں میں کیا سے کیاہوگیا،گویا دل میں بسنے سے ،دل سے اترنے تک، لمحہ لگاایک فائر لمحے میں ہوا،ایک زندگی ختم ہوگئی،ساتھ ہی اس سے جڑی کتنی زندگیاں جیتے جی مرگئیں ،تخریب انا فانا تعمیر بڑے لمبے پروسیس کے بعد،

مت سہل ہمیں جانو،پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

یہ تو محض ،ایک انسان کی بات ہے مگر جب روز بیس تیس سے چالیس پچاس بے قصور لوگ بھیڑ بکریوں کی طرح ماردیے جائیں اے روز کی ھڑتالوں سےمعیشت کا پہیہ جام ہوجائے،لمحے صدیاں بننے لگیں سبز باغ دکھاکر لمحوں میں غلط فیصلے ہونے لگیں قطرہ قطرہ دریا بنے مگر جب دیکھا تو سارا پانی گدلا تھاپھر دوبارہ وہی تجربہ پھر دہرایا گیا،۔۔۔۔۔اس امید پہ کہ شاید اب ایسا نہ ہو مگر وہ تو ہونا تھادراصل بند آنکھوں سے چلنے کا عادی ہونا انسانوں کو بھیڑبناتا ہے اور بھیڑوں کے اس غول پہ بھیڑیے بآسانی حکومت کرتے جاتے ہیں بہرحال ہمارا شہر نگاراں اس طرح لمحوں کی بارہا خطاؤں سے ،بند آنکھوں سے چلنے کی عادت سے دھشت گردی،قتل، تخریب کاری جلاؤ گھیراؤکا نشانہ بنتے بنتے کراچی جو ڈرو میں بدلتا گیاوہ شہر جو تعلیم تہذیب اور تاریخ میں ایک مثال تھاجو آج بھی ماں کی طرح سب کو اپنی آغوش میں لیے رہتا ہےزخم زخم ہے اس کی ردا،اس کی قبا تار تار ہے اس کے ہاتھوں نے جوکمایا وہ کسی اور کی جھولی میں گرا ہے-

Add Comment

Click here to post a comment