Home » تنہائی – لطیف النساء
بلاگز

تنہائی – لطیف النساء

میں نے سنا تھا کہ برے دوست سے تنہائی بھلی بالکل درست بات ہے۔ مگر تنہا رہنے کی نوبت آنی نہیں چاہئے کیونکہ یہ عادت بری ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی مجرّد رہنے کو پسند نہیں کرتا۔ ایک سے دو بھلے کتنے گھروں میں بوڑھے اکیلے رہ جاتے ہیں جب انکے بچے، بیٹا، بیٹی یا کوئی منہ بولا بیٹا بھی آکر رہ لے تو وہ بزرگ ایک دم کھل اٹھتے ہیں۔

ایک کہانی پڑھی تھی جس میں شوہر کہتا ہے کہ میری بیوی نے کچھ دنوں پہلے گھر کی چھت پر کچھ گملے رکھوائے اور بڑی محنت سے ایک چھوٹا سا باغیچہ بنا لیا۔ گذشتہ دنوں جب وہ شوہر صاحب چھت پر گئے تو دیکھ کر حیران ن رہ گئے کہ بہت سے گملوں میں پھول کھلے تھے۔ کچھ میں ننھے ننھے لیموں بھی لگے تھے کسی میں تین چار ہری مرچیں لٹکی تھیں۔ اس نے دیکھا کہ بانس کا پودا جو چند دن قبل گملے میں لگایا تھا سوکھ رہا تھا تو بڑی محنت سے گھسیٹ کر دوسرے گملے کے پاس انکی بیگم صاحبہ لا کر رکھ رہی تھی۔ شوہر نے کہا کہ اگر پودا سوکھ رہا ہے تو کھاد ڈالو اسے کھسکا کر کسی اور پودے کے پاس کردینے سے کیا ہوگا؟ بیوی نے مسکرا کر کہا کہ یہ پودا اکیلا ہے اس لئے مرجھا رہا ہے اسے اس پودے کے پاس کردینے سے وہ پھرسے لہلہا اٹھے گا۔ ورنہ تو پودے بھی اکیلے سوکھ جاتے ہیں۔

کسی دوسرے پودے کے ساتھ مل جائے تو سمجھو جی اٹھتے ہیں۔ یہ بات تو بڑی عجیب تھی کیونکہ شوہر کی آنکھوں کے آگے کئی مناظر گزر گئے کہ واقعی والد کے انتقال کے بعد والدہ صاحبہ کیسے بوڑھی سے بوڑھی اور سوکھے ہوئے پودے کی طرح بے جان سی ہوگئی تھیں، کیسے اداس اور خاموش ہو کر رہ گئی تھیں کہنے لگے کہ مجھے بیوی کی بات پر مکمل اعتماد اور یقین ہونے لگا کہ بچپن میں سچ مچ میں نے بازار سے ایک مچھلی، چھوٹی سی رنگین شیشے کے جار میں لا کر رکھی۔ پانی بھی ہمیشہ صاف ستھرا بھر کر رکھتا، کھانا بھی ڈالتا مگر وہ چپ چاپ ادھر ادھر گھومتی۔ کھانا بھی نیچے جار میں بیٹھ جاتا مگر وہ کچھ نہ کھاتی، دو دن بعد وہ پانی کی سطح پر الٹی مری پڑی نظر آئی۔ مجھے وہ مچھلی بہت یاد آئی کیونکہ مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا کہ کم از کم دو تین مچھلیاں لانا چاہئے ورنہ میں تو شاید ساری ہی مچھلیاں خرید لاتا میری پیاری مچھلی یوں تنہا نہ مرتی۔

واقعی یہ حقیقت ہے کسی کو تنہائی بالکل پسند نہیں،اگر کوئی کہے نا تو سمجھو اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی کا ساتھ چاہتا ہے۔آدمی ہو یا پودا ہر کسی کو کسی نہ کسی کا ساتھ چاہئے ہوتا ہے ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اردگرد کوئی اکیلا ہو تو اسے اپنا ساتھ دیجئے اور مرجھانے نہ دیں۔ اگر آپ خود اکیلے ہوں تو آپ بھی کسی کا ساتھ لیجئے اور یوں خود کو مرجھانے سے روکیں کیونکہ تنہائی دنیا میں سب سے بڑی سزا ہے۔ گملے کے پودے کو ہاتھ سے کھینچ کر قریب لایا جا سکتا ہے لیکن آدمی کو قریب لانے کیلئے ضرورت ہوتی ہے رشتوں کو نبھانے کی، سمجھنے کی، محفوظ کرنے اور ہمیشہ سمیٹنے کی، ہمارا مشاہدہ ہے کہ ہمارے ماحول میں اتنے مرد حضرات بڑی بڑی عمروں کو پہنچے ہوتے ہیں،صاحب حیثیت ہوتے ہیں۔ مگر تنہا رہتے ہیں۔ اسی طرح کچھ خواتین بھی، خواتین کے بھی بسا اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ وہ مجبور ہو جاتی ہیں اور کبھی بے بس ہو جاتی ہیں۔

مگر مرد حضرات کا صاحبِ حیثیت ہوتے ہوئے مجرد رہنا ہمیں کبھی بھی نہیں بھاتا۔ واقعی فطرت بہت ہی حسین ہے جبھی ہمیں ان باتوں کا حکم ہے مگر ہم شیطان کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر دل کے کسی گوشے میں ہمیں لگے کے ہماری زندگی کا رس سوکھ رہا ہے یا زندگی مرجھانے سی لگی ہے تو اس پر رشتوں کی محبت کا رس ڈالتے رہیں اور مسکرائیں، قدردانی کریں رشتوں کی، یہ رحم کے رشتے کتنے عظیم اور مقدس ہیں اللہ کی کتنی عظیم نعمت ہیں ان سے جان چھڑا کر آپ نہ صرف رشتوں کو پامال کرتے ہیں بلکہ خود بھی مر جھانے لگتے ہیں اوپر سے بھلے آپ ٹپ ٹاپ دکھائیں مگر اندر سے کھوکھلے اور بناوٹی ہیں۔ اس مختصر کہانی کا مقصد ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ رشتوں کا احترام کریں ہر وقت عیب نہ تلاش کریں، کوئی شخص بھی بے عیب نہیں، ہم میں بھی کئی عیب ہونگے، دوست ہوں یا رشتہ دار ہوں انھیں انکی اچھائیوں اور برائیوں سمیت قبول کریں اور بنا کر رکھیں ورنہ بے عیب بندے کی تلاش آپ کو خود اکیلا کر دیگی اور بلا آخر آپ بھی سوکتے جاؤ گے جو بات مل کر رہنے میں جڑ کر رہنے میں ہے وہ مڑ کر رہنے میں کبھی نہیں ہوسکتی۔

بازار جاناہویا کہیں اور جانا ہو تو ہمیں تو عادت ہے کہ کوئی ساتھ ہو جائے تو اچھا ہے ایک قوت ہوتی ہے میں تو کہتی ہوں کہ ایک اور ایک دو نہیں بلکہ گیارہ جیسی پاور رکھتے ہیں۔ کام آسان ہو جاتا ہے جبکہ اکیلا بندہ بحالت مجبوری نکلتا ہے جبکہ اس کی کارکردگی بھی سست رہتی ہے جب ہمیں معلوم ہے کہ علم کی پہلی منزل تقویٰ ہے اور یہی فرقان ہے جو مخلوق خدا کو حقوق العباد اور حقوق اللہ کی پہچان کروا دیتی ہے اور یہی لوگوں سے تعلق کی اور اللہ سے تعلق کی مضبوط کڑی ہے یہ تعلق عاجزی انکساری اور تواضح چاہتا ہے۔ لوگوں سے محبت والا نرمی والا رویہ آپ کو کبھی تنہانہ کرے گا۔ جب ہم دنیاوی غیر ضروری اشیاء کے چکر میں پڑ جائینگے تو بھی یہ دنیاوی رغبت ہمیں اپنی توجہ آخرت پر یا انجام پر رکھنے سے ہٹا دیگی۔ اس لئے بس اتنی ہی دنیا کی فکر کرنی ہے جتنا اس میں رہنا ہے۔ موت کے بعد کی زندگی تو ہمیشہ کی ہے لہٰذا اس کی فکر پر ہردم فوکس رہنے سے ہماری تنہائی ختم ہو جائے گی اور قرب الٰہی ہمیں اپنے سے اور بندوں سے ملکر رہنے پر راضی کر دیگا۔

ظاہر ہے اس کام کیلئے ہمیں ہی مجاہدہ کرنا ہوگا۔ ہمارا علم یعنی اصل علم گویا روحانی علم ہمیں جسم کی راحت کے ساتھ کبھی مل ہی نہیں سکتا کیونکہ ہمیں اسی طرح سکھ چین اور استحکام مل سکتا ہے اور دنیا اور آخرت کی بہتری جب ہی ہمیں عطاہوگی۔ یہ تو اپنی اپنی اوقات ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ کیسے رہیں۔ مثلاً بقول شاعر:۔

کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں، دوگام چلے اور رستے الگ،
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے جدا

پس ہمیں ایسے ہی لوگ بننا ہے جو ہمیشہ ہمیں یاد رکھیں تا کہ ہم بھی خوش اور ہمارا رب بھی خوش۔ انشا ء اللہ

Add Comment

Click here to post a comment