Home » جشن آزادی اور آج کا نوجوان – جویریہ تزمین
بلاگز

جشن آزادی اور آج کا نوجوان – جویریہ تزمین

میں نے جب اس موضوع پہ لکھنے کے لیے قلم اٹھایا تو میرے ذہن کے پردے پہ آزادی کے دن جشن مناتے رقص کرتے نوجوان نظر آئے۔ جشن کے دن بجتے باجوں کے شور سے گھر میں دل کے مریض کی آنکھیں بند ہوتی دیکھائی دی گئیں۔ ون ویلنگ کرتے زخمی نوجوان نظر آئے۔

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں نغمہ گاتے نوجوان آ پس میں سیاست کے میدان میں ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے نظر آئے۔ ان مناظر نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آزادی کا دن صرف جشن منانے کے لیے ہی باقی رہ گیا ہے؟ قائد محترم کے آزادی دلوانے کا مقصد یہی تھا۔کہ آ زادی کے دن اسلامی تعلیمات کے منافی جشن منایا جائے؟ آزادی کے نام پہ چند پروگرام کر لیے جائیں؟ آزادی کے دن تیز آواز میں نغمے لگا کر اپنے پڑوسیوں کو تکلیف میں مبتلا کیا جائے۔ آزادی کے دن پرچم لہرا کر یہ سمجھنا کہ یوم آزادی کا حق ادا ہو گیا۔ ان سوالات کے جواب کے لیے موجودہ حالات کو دیکھا تو محسوس ہوا کہ شاید قائد محترم نے اسی مقصد کے لیے آزادی دلوائی کہ آزاد زندگی گزارے۔ اتنی آزاد کہ اسلام سے ہی آزاد ہوجائیں۔ مزید مشاہدہ کیا تو یہ یقین بھی ہوگیا کہ آزادی صرف چند پروگرام کرلینے اور پرچم لہرانے کا ہی تو نام ہے اور مزید”اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں” کا نغمہ سنے کا نام ہے۔ چاہے آپس میں ایک دوسرے سے الگ ہوں۔فرقوں میں بٹے ہوئے ہوں۔ اور اخلاقیات کا فقدان ہو دل میں اللّٰہ کا نام تو ہو۔ مگر زباں سے ذکر تک نہ ہو۔

قرآن پاک تو موجود ہومگر رہنمائی قرآن کریم کو پڑھنے کے بجائے ادھر ادھر سے لی جاتی ہے۔شاید اسی لیے مسلمان کی وہ اہمیت اور عزت و تکریم نہیں رہی جو کئ سال پہلے تھی۔ ان حالات کو قلم بند کرنے کے بعد علامہ اقبال کا شعر یاد آگیا جو شاید نہیں یقیناً اس زمانے کے معیار پہ پورا اترتا ہے۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

ان حالات پر نظر ثانی کرنے کے بعد ایک باشعور،سچا مسلمان اور محب وطن شخص سکون سے سو نہیں سکتا۔چین و اطمینان سے بیٹھ نہیں سکتا۔ اپنے وطن کی بقا کے لیے اقدام اٹھائے بغیر رہ نہیں سکتا اور جب ایک فرد ملک کی بقا و سالمیت کے لیے جب کچھ کرنے کی ٹھان لے تو پھر کارواں بنتا چلا جاتا ہے۔اور پھر ایسی تنظیموں میں وجود میں آتی ہیں . جو ملک کی بقا و سالمیت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے سے بھی دریغ نہیں کرتی صرف اس لیے کہ یہ ملک پاکستان جس کی بنیاد لاالہ الااللّٰہ پہ قائم تھی اور قائم رہے اور ملک و قوم کی فلاح و بہبود،تعمیر و ترقی و اسلامی تعلیمات کے نفاذ کے لیے ہر دم محترک رہتی ہیں۔ ان تنظیموں کے وجود سے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں مدینے کی ریاست قائم ہوگی

اور یوم آزادی کے دن نوجوان رقص و سرور کی محفلوں کا اختتام قرآن و سنت کی محفلوں پہ ہوگا۔ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔ کا نغمہ سنے والے حقیقت میں ایک ہونگے۔ آزادی کے دن نوجوان اپنے بچوں کو وطن کی خاطر قربانیاں دینے والوں کی، اپنے پیاروں کو کھو دینے والوں کی لازوال داستانیں سنا کر ایک سچا و پکا مومن اور محب وطن فرد بننے میں کردار ادا کریں گے۔
بقول علامہ اقبال

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。