Home » کیا ہم آذاد ہیں؟ – نادیہ احمد
بلاگز

کیا ہم آذاد ہیں؟ – نادیہ احمد

14گست 2022، چودہ سو اکتالیس ہجری، اکیسویں صدی، نیا زمانہ، تبدیلی کا دور، لیکن آج بھی جشن آزادی کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ماہ اگست کے آغاز کے ساتھ ہی جشن آزادی کی تیاریاں عروج پر نظر آتی ہیں۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچم ، جھنڈیاں ، پوسٹرز کے سٹالز نظر آتے ہیں۔ گھروں کو سجایا جاتا ہے۔ پرچم لہرایا جاتا ہے ۔

ملی نغموں کی آواز ایک جوش پیدا کر دیتی ہے۔ آزادی کے دن کو اس شان و شوکت سے منانا اس بات کی گواہی ہے کہ بےشک آزادی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ” ہم آزاد ہیں“ ہم نے آزاد فضا میں آنکھ کھولی ہے۔ لیکن کیا ہمیں یاد ہے کہ اس آزادی کی قیمت کیا تھی؟ اس آزادی کے حصول کے لیے کتنے گھر برباد ہوئے ,کتنی عزتیں پامال ہوئیں، کتنے بچے یتیم ہوئے، کتنے جوان بیٹے اس جدوجہد میں شہادت پا کر سرخرو ہوئے، ظلم کے ظلمت کدے میں انسانیت مجروح ہوئی ۔ لیکن خدا گواہ ہے کہ ناپاک عزائم رکھنے والی طاقتیں مستقل طور پر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکیں اور نیست و نابود ہوگئیں کہ یہی قانون قدرت ہے ۔ بالآخر ماؤں کی دعا پوری ہوئی اور ہمیں گھر مل گیا۔ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ “کی صداؤں سے برصغیر کا ذرہ ذرہ گونج اٹھا اور پاکستان آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اقبال کا خواب اور قائد کی کوششیں بارآور ہوئیں اور مسلمانوں کو ایک علحیدہ قوم تسلیم کر لیا گیا۔

دوستوں! آزادی تو مل گئی مگر کیا ہم آزاد ہیں؟؟ آج کا دور ہماری آزادی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ آج اگر ہمارے ہمیشہ نظام پر غور کیا جائے تو ہمارے معاشی، معاشرتی اور سیاسی نظام سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آزادی کے پس پردہ تمام کام مغربی منشاء کے مطابق ہو رہے ہیں۔ آزادی کے تصور کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کو پس پردہ غلامی کی جانب دھکیلا جارہا ہے ۔ اور ماڈرنزم کے نام پر ابھی تک ہمارے پاؤں سے غلامی کی زنجیر جکڑی ہوئی ہے۔
”دن آ جاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی“
آج مومنانہ صفات اور شاہین کی پرواز رکھنے والے آزادی کے رکھوالے، کانوں میں بالی، ہونٹوں پہ لالی، چال متوالی ، اور ہ میڈم کاجل والی گنگناتے ،سبز و سفید لباس زیب تن کرکے ، ٹی شرٹ پر جشن آزادی دی اور اپنا نام پرنٹ کروا کر، سیلفی لیتے ہیں ۔

چہرے پر دل دل پاکستان پرنٹ کروا کر سبز ہلالی پرچم کی بے حرمتی کرتے، موٹر سائیکل کے سا ئلنسر نکال کر جشن آزادی کی مسرتوں میں بھارتی گانوں سڑکوں پر رقص کرتے نظر آتے ہیں۔ ہرے اور سفید رنگ کے کھانے بنا کر کر اسٹیٹس اپ لوڈ کیے جاتے ہیں۔ آزادی ڈنر سیلیبریٹ کیا جاتا ہے ۔14 اگست کا دن بس” ایک اور چھٹی“ اور جشن کو سیلیبریٹ کرنے کا دن بنتا جا رہا ہے لیکن جان لیجیے کہ یہ صرف چھٹی کا دن ، جشن منانے کا دن اور سو کر گزار نے کا دن نہیں ہے ۔ آج کا دن ان شہداء کی عظمت کو سلام کرنے کا دن ہے۔ آج کا دن اقبال کی روح سے عہد کا دن ہے۔ آج کے دن قائد سے وفا کا دن ہے۔ آج کا دن لا الہٰ کے نظریے کی بقا کا دن ہے۔ آج کا دن تجدید عہد وفا کا دن ہے۔ آئیے آج خود سے عہد کریں کہ ان نام نہاد لبرلزم اور آزادی کے نعروں سے نکل کر، جشں کے دکھاووں سے نکل کر جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر، الله کی زمین پر اللہ کا قانون نافذ کرنے والے بن جائیں گے جو امت کی بیداری کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ دین کی سربلندی کا کام بھی سرانجام دیں گے

گزرتےلمحوں میں وفا کا پاس رکھیں گے
مرتے ہوئے بھی تیری ہی پیاس رکھیں گے
تیرا وجود ہی میرا وجود ، تیرا قیام ،میرا قیام
میری ذات کی پہچان ہیں تو میرا پاکستان ہے

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。