Home » شکریہ،شکریہ،پاکستان شکریہ – افشاں نوید
بلاگز

شکریہ،شکریہ،پاکستان شکریہ – افشاں نوید

اتوار کی شب کراچی ائیرپورٹ پر وہ گیٹ نمبر سات تھا جہاں ہم بورڈنگ کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ جہاز لیٹ تھا۔ مسافر چائے، کافی، مفنز اور برگر سے وقت گزاری کررہے تھے۔ وہیل چیئر پر اماں جی تنہا بیٹھی تھیں، سامنے نشست پر انھوں نے پیر رکھے ہوئے تھے۔ میں انکے پاس آکر بیٹھ گئی۔ اپنا تعارف کرایا کہ مجھے اسلام آباد کا سفر درپیش ہے۔

اس عمر کے لوگ’سامع’ پاکر بہت خوش ہوتے ہیں۔ وہ بولتی رہیں۔۔انکو اس سے خاص دلچسپی نہ تھی کہ میری دلچسپی کا لیول کیا ہے۔ کہنے لگیں، “پتر ! میں ان خوش نصیبوں میں ہوں جنھوں نے پاکستان بنتے دیکھا ہے۔ یہی کوئی نو دس برس عمر ہوگی میری۔ خوش قسمتی یہ کہ ہم تو پیدائشی لاھوری ہیں۔ ہم نے ہجرت کے دکھ نہیں جھیلے۔ ہمارے محلے میں ہندو بھی رہتے تھے۔ وہ تو تحریک پاکستان گلی گلی پھیلی تو ہمیں پتہ چلا کہ ہم دو قومیں ہیں ورنہ ہم تو بہت مل جل کر رہتے تھے۔ پھر رنگ بدلا، ہندو سچ مچ ہندو اور مسلمان مسلمان بن گیا۔۔ ہندو حالات دیکھ کر خاموشی سے محلے سے نقل مکانی کر گئے۔۔ اس وقت کس حال میں قافلے آرہے تھے؟” وہ موٹے شیشوں کی عینک کو بورڈنگ کاؤنٹر پر گاڑے یوں بے تکان بول رہی تھیں جیسے انکے سامنے فلم چل رہی ہو تحریک پاکستان کی۔۔ بار بار کہتیں “پتر، یہ دیس نہیں یہ مسجد ہے۔۔ یہاں کی مٹی تو سرمہ ہے۔”

ایک بات بلکہ سوال جس پر میں چونکی۔ بولیں، اس وقت عورتیں، لڑکیاں بازار نہ جاتی تھیں۔ مجھے نہیں یاد کہ میں لڑکپن میں کبھی بازار گئی ہوں۔ ضرورت ہی نہ پڑتی تھی۔ سبزیاں گھر کے اندر یا باہر باغیچے میں اگی ہوئی ہوتیں۔۔دودھ وافر آتا تھا گھر میں۔ مکھن، پنیر، دہی کوئی چیز بازار سے نہ منگانا پڑتی۔ کپڑے گھر میں سلتے، بوقت ضرورت گھر ہی میں رنگ لیے جاتے۔۔ایک بار ہمارے ابا کو دوست نے سفید لٹھے کا تھان دیا تحفہ میں۔ اماں نے نسواری پڑیا گھولی ابلتے پانی میں۔۔ ایک بہن کو نسواری جوڑا سی دیا، ایک کو سرمئی، ایک کو عنابی۔ تین جوڑے سل گئے۔ وقت بہت ہوتا تھا، شاید دن بڑے تھے اس وقت۔ کپڑے ہر بچی کو بچپن میں سینا سکھا دیا جاتا۔ ظہر کے بعد اماں سلائی مشین رکھ لیتیں۔ رات تک گھر کے سارے کاموں کے ساتھ ایک جوڑا سل جاتا۔ نہ کام والیاں تھیں نہ ضرورت محسوس ہوتی۔ ضرورت پڑنے پر آس پڑوس کی لڑکیاں بالیاں مل کر تقریبات بھی سنبھال لیتیں۔ مہندی، ابٹن، سرخی پاؤڈر، سب گھر میں ہوتا۔ دلہن پر خوب نکھار آتا۔ گلگلے ،زردہ، بریانی سب گھر میں بنتا تھا۔ اب گھر والیوں کو بازار جاتا دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں عورتوں کی زندگی کتنی مشکل ہوگئی, ایسا ہی ہے ناں پتر؟؟؟ اس وقت شاید ضرورتیں کم تھیں، زندگی میں بڑا سکھ تھا۔ بہناپے نے زندگی بڑی آسانی کردی تھی۔ وہ بہناپا محلہ پڑوس میں بھی تھا نند بھاوج اور دیوارانی جٹھانی میں بھی۔ مگر بازار عورتوں کی زندگی کا حصہ نہ تھے۔”
میں نے کہا “اماں جی! چودہ اگست کی سیل تو سب سے کامیاب جاتی ہے, کھڑکی توڑ۔۔ مہینوں ہم عورتیں انتظار کرتے ہیں۔”
“ہاں! دنیا ہم پر وسیع کر دی گئی ہم اس کو آزمائش کے بجائے نعمت سمجھتے رہے”.

بورڈنگ کا اعلان ہوا۔ ان کا بیٹا وہیل چیئر کے پاس آیا تو میں نے ماں جی سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا انھوں نے ہاتھ چوم لیا۔ میں اس وارفتگی پر حیران، سوچنے لگی مجھ میں اور ان میں ایک “پاکستان” ہی تو قدر مشترک ہے۔۔ اس نسل کے ہر فرد پر شاید ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。