نبی کریم ﷺ کے ’’امی‘‘ ہونے کا صحیح مفہوم: رسائل و مسائل – سید ابوالاعلی مودودی




سوال: ’’ترجمان القرآن‘‘ ماہ اکتوبر ۶۰ء میں سورہ عنکبوت کے تفسیری حاشیے نمبر ۹۱ کے مطالعہ کے دوران میں چند باتیں ذہن میں ابھریں جو حاضر خدمت ہیں۔ اس سیاق و سباق میں لفظ ’’امی‘‘ کا مطلب جو کچھ میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ نبی ﷺ بعثت سے پہلے امی اور ناخواندہ تھے۔ لیکن بعد میں آپ کے خواندہ ہوجانے اور لکھ پڑھ سکنے کی نفی نہیں۔ یہ البتہ یقیناً ممکن ہے کہ نبوت کے بعد آپ کے خواندہ بن جانے میں انسانی کوشش یا اکتساب کو دخل نہ ہو بلکہ معجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ نے خود معلم بن کر آپ کو پڑھنا لکھنا سکھادیا ہو۔ میری اس تشریح کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے؟ میرے خیال میں تو الفاظ میں بڑی گنجائش ہے جس سے میرے مطلب کی تائید ہوتی ہے۔
جواب: میں نے جو بات صحیح سمجھی تھی وہ اپنے پورے دلائل کے ساتھ تفہیم القرآن کی اس بحث میں لکھ دی ہے جس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں۔ اگر میری اس بحث سے آپ کا اطمینان نہیں ہوا تو جو کچھ آپ صحیح سمجھتے ہیں، وہی سمجھتے رہیں۔ میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ قرآن مجید کے الفاظ اِذًا لَّا رْتَابَ الْمُبْطَلُوْنَ پر اگر مناسب سمجھیں تو اور تھوڑا سا غور کرلیجیے۔
اللہ تعالیٰ اس فقرے میں اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرما رہا ہے کہ اگر ایسا ہوتا (یعنی تم پڑھے لکھے ہوتے) تو باطل پرستوں کے لیے تمہاری نبوت میں شک کرنے کی کوئی گنجائش ہوسکتی تھی۔ دوسرے الفاظ میں اس فقرے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اب تو ان کے لیے شک کی ادنیٰ سی گنجائش بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ تم ان پڑھ ہو۔ یہ استدلال بالکل بے معنی ہوگیا ہوتا اگر آپ کے قول کے مطابق نبی بناتے ہی اللہ میاں نے حضور پاکﷺ کو بطور معجزہ خواندہ بنادیا ہوتا۔ کیا اس صورت میں شک کی گنجائش ختم ہوجاتی؟ اس صورت میں کفار مکہ یہ کہہ سکتے تھے کہ تم نے آج تک ہم سے چھپایا، اب ہمیں معلوم ہوا کہ تم خفیہ طور پر پڑھنا لکھنا سیکھ گئے تھے اور چپکے چپکے کتابیں پڑھ کر یہ معلومات جمع کرتے رہے تھے۔
پھر یہ بھی سوچ لیجیے کہ یہ آیت نبوت کے پانچ چھ سال بعد آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت تو حضور پاکﷺ کو اللہ تعالیٰ نے پڑھنا لکھنا نہ سکھایا ہوگا۔ اس کے بعد آخر کس تاریخ کو یہ معجزہ پیش آیا؟ اور کیا مصلحت تھی کہ نبی بناتے ہی حضور ﷺ کو خواندہ نہ بنا دیا گیا، اور اس کے بعد کوئی تاریخ اس معجزے کے لیے مقرر کی گئی؟ ان امور کی طرف میں صرف آپ کو غور و فکر کے لیے توجہ دلا رہا ہوں۔ خواہ مخواہ بحث کو طول دینا مقصود نہیں ہے۔
(ترجمان القرآن۔ فروری ۱۹۶۱ء)

اپنا تبصرہ بھیجیں