باپ برے نہیں ہوتے – آتش




گھر کی محدود سی دنیا میں ہر طرف ماں ہوتی ہے اور ماں کی محبت کا نور ہوتا ہے۔ ٹھنڈ ہوتی ہے۔ ماں قریب نہ بھی ہو تب بھی سارے کا سارا گھر ہی سایہ ۔ سکون دے رہا ہوتا ہے۔ ماں کا وجود ہی اتنا برکتوں اور رونقوں والا ہوتا ہے۔ انسان جتنا بھی کٹھور ہو۔ لاپرواہ ہو۔ ماں کو لیکر بہت ٹچی ہوتا ہے چاہے وہ اس بات کا اعتراف کرے یا نہ کرے۔ ماں ایک دوست کی مانند ہوتی ہے جس سے ہنسی مذاق۔ لڑائی۔ ناراضگی۔ محبت۔ اور کبھی ذرا تلخی چلتی رہتی ہے کیونکہ دوست تو پھر ایسے ہی ہوتے ہیں نا۔ ہر ماں ہی دوست ہوتی ہے۔ جبکہ باپ کا معاملہ اور ہوتا ہے۔ کچھ بہت زیادہ لینئنٹ ہوتے ہیں۔ انسان ماں سے زیادہ باپ سے اٹیچڈ ہوتا ہے۔ مگر اکثر باپ لئے دئیے سے انداز میں رہتے ہیں۔ وہ اپنے گھر والوں کی ضرورتوں کا خیال تو رکھتے ہیں مگر کھل کر دوستی یا بے تکلفی کی فضا قائم نہیں رکھ پاتے۔ وقت نہیں دے پاتے۔ یہاں ہمارے یہاں باپ کا یہی روپ زیادہ تر دیکھنے کو ملتا ہے۔
جب بھی جس بھی لمحے ایک مرد باپ بنتا ہے تو لاشعوری طور پہ اس کے ذہن میں ایک Priority based list بن جاتی ہے جس میں سب سے اوپر کا خانہ صرف اور صرف اولاد کے نام کا بن جاتا ہے۔ اس لمحے سے آگے پھر ساری عمر ہمیشہ اس باپ کی جتنی بھی محنت۔ کوشش۔ عمل۔ افعال ہوتے ہیں ان میں سب سے پہلی پروسیسنگ اولاد کے خانے کو لیکر ہوتی ہے پھر دوسرے تیسرے معاملات کو اہمیت دیتا ہے وہ۔ اگر اس کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔ مالی یا خانگی اعتبار سے۔ یا کسی بھی اور طرح۔ وہ سب سے پہلے کوئی ایسا حل ڈھونڈتا ہے جس میں اس کی اولاد کے لئے کوئی پریشانی نہ ہو۔ اور اگر پریشانی لازمی ہے تو وہ کم سے کم ہو۔ وہ الفاظ میں بول کر ان چیزوں کا اظہار نہیں کرتا یا نہیں کر پاتا تو صرف اس لئے کہ وہ کوئی راستہ تلاش کرنے کی فکر میں اس حد تک گم جاتا ہے کہ اس کو اس بارے اظہار کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔
زندگی کی آزمائشیں اسے آگے سے آگے کھینچتی لے جاتی ہیں۔ اپنی فیملی کو سہولیات اور ہر ممکن آرام دینے کے لئے اس حد تک مشین بن جاتا ہے کہ جذبات کے اظہار کی capability ہی ہائبرنیٹ ہو جاتی ہے۔ ہمارے اس دیسی معاشرے میں اکثر باپ اسی صورتحال کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ اس کو اولاد کی یا فیملی کی ذرا فکر نہیں۔ اس کی تو زندگی کا سارا دائرہ ہی اس کے فیملی کے نیوکلیس کے گرد گھوم رہا ہوتا ہے۔ بظاہر الگ تھلگ مگر اس کا وجود ہوتا ہی فیملی کے لئے . اس کی اپنی ذاتی فکر۔ ذاتی مسائل۔ ذاتی پسند نا پسند۔ ذاتی سوچ۔ ذاتی نظریات۔ ذاتی منزلیں سب کی سب ایک طرف رکھ دی جاتی ہیں۔ وہ جیتا ہے تو فیملی کے لئے۔
اس سب کے علاوہ بھی اولاد کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا باپ ہمیں وقت دے۔ توجہ دے۔ ہمیں سنائے۔ ہم سے سنے۔ کیونکہ فلاں کا باپ بھی تو ایسے کرتا ہے۔ تو یہ ایک طرح سے جائز خواہش ہے مگر ہر انسان مالی۔ فکری۔ سماجی اعتبار سے کسی نہ کسی آزمائش سے گزر رہا ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے والد کسی ایسی پریشانی میں ہوں کہ جس کی وجہ سے وہ خود کو بھی وقت نہ دے پاتے ہوں۔
باپ کبھی برے نہیں ہوتے۔ اولاد کا۔ فیملی کا برا نہیں چاہتے۔ وہ بس بیچارے پھنسے ہوتے ہیں حالات میں۔ اور تب بھی۔ تب بھی ان کا سایہ شفقت اس قدر بھرپور ہوتا ہے ساتھ ہی ساتھ بے نشاں ہوتا ہے کہ ان کے کوچ کر جانے تک انسان کو پتہ ہی نہیں لگتا کہ محض ان کا وجود ہی کس قدر دھوپ۔ سختی۔ درد۔ شدت چپ چاپ اپنے وجود پہ برداشت کر رہا ہوتا ہے۔
باپ کی ذات کا کوئی مول نہیں۔ میرے والد صاحب سے مجھے بہت سے شکوے تھے۔ لیکن جس دن جس لمحے میری فاطمہ کے وجود نے میرے سامنے آنکھیں کھولیں اور اپنی منحنی سی آواز میں رو کر دکھایا ٹھیک اسی دن میری ذات میں کوئی انہونی سی تبدیلی آئی اور میری سوچ کے سب زاویے۔ سب انداز بدل گئے اور اسی دن میرے وہ بے بنیاد سے شکوے بھی دور ہو گئے۔ مجھے پہلے کوئی سمجھا نہیں پایا۔ میں باپ بن گیا تو بغیر کسی کے سمجھائے مجھے سب سمجھ میں آ گیا۔
ایک باپ کی کیفیت کو بعینہ سمجھنے کے لئے خود بھی باپ بننا پڑتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری فاطمہ بڑی ہو کر مجھ سے راضی ہو گی یا نہیں۔ اسے مجھ سے شکوے ہونگے یا نہیں۔ میں صرف ایک بات جانتا ہوں۔ میری ذات کا محور و مرکز اب میری بیٹی ہے اور صرف میری بیٹی ہے۔ ہر باپ کی زندگی کا محور و مرکز صرف اور صرف اس کی اولاد ہوتی ہے۔ چاہے وہ اس بات کا اظہار کر سکے یا نہ کر سکے۔
باپ کا محض خاکی وجود ہی انمول ہوتا ہے۔ اس کی ذات۔ اس کی بات۔ اس کی سوچ۔ روح۔ شخصیت اور اس کے معاملات تو بہت بڑی باتیں ہیں۔
یہ پوسٹ ان سب کے نام جو باپ ہیں۔ اور ان سب کے نام جن کی زندگی کسی نہ کسی صورت باپ سے منسلک ہے۔ یعنی۔ ہم سب کے نام۔ ہم سب کے ان جائز شکووں کے نام۔ جو باپ سے محبت کی وجہ سے کبھی نہ کبھی ہماری زندگی کا حصہ رہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں