تبدیلی آئی رے – محمد نعمان بخاری




میرے کزن کو آدھی رات کو شدید پیٹ درد کی شکایت ہوگئی۔۔ میں نے بائک نکالی اور اسے قریبی ہاسپٹل کیطرف لے بھاگا۔ یہ ایک معیاری ہسپتال ہے جہاں غریب مزدور مِل ورکرز کا مکمل علاج مفت ہوتا ہے۔۔ انتظامیہ نے ہیلتھ کارڈز بنا کر دئیے ہوئے ہیں۔۔ باقی لوگوں سے معاوضہ لیا جاتا ہے۔۔ میں پہنچا تو ایمرجنسی میں ایک ڈسپنسر موجود تھا۔۔ اس نے درد کی نوعیت دیکھ کر ڈاکٹر صاحب کو فون کرکے جگایا تو وہ فورا آ گئے۔۔ مرض کی تفصیلات پوچھیں، ڈرپ تجویز کی اور کچھ ادویہ لکھیں دیں۔۔ ہم وہاں کچھ ڈیڑھ گھنٹہ ایڈمٹ رہے۔۔ ڈسچارج کے وقت ڈسپنسر نے کہا کہ بل ادا کر دیں۔۔ میں نے پوچھا کتنے بن گئے؟ اس نے پورے چار سو کا ہندسہ بتایا۔۔ میں نے رقم نکال کر دی اور کہا کہ پلیز اسکی رسید بنا دیں۔۔ اس نے بال پوائنٹ نکال کر چیک کیا تو وہ روشنائی سے خالی تھا۔۔
میں نے عرض کیا کہ کوئی بات نہیں، کمپیوٹرازڈ سلپ بنا دیں۔۔ اس نے جواب دیا کہ پرنٹر خراب ہو گیا ہے۔۔ وہاں دیوار پر ایک نوٹس لکھا ہوا ہے کہ یہاں بغیر رسید کسی کو رقم ادا نہ کریں۔۔ میں نے اسے نوٹس کا حوالہ دیا اور اکڑ کر بیٹھ گیا کہ بھئی رسید دو گے تو ہی ادائیگی کروں گا۔۔ اس نے درازیں پھرولیں کہ شاید بال پوائنٹ مل جائے لیکن کہاں۔۔ آخر اس نے کہا کہ بھائی آپ فیس ادا کر دیں، صبح آٹھ بجے تک کاؤنٹر اوپن ہوگا تو وہاں سے رسید لے لینا۔۔ مجھے انکی وارداتوں کا بخوبی علم تھا لہذا میں اپنی دیانتداری پہ ڈٹا رہا۔۔ دراصل ہم خود ایسوں کو غلط کاریوں کا عادی بنا دیتے ہیں۔۔ پھر روتے بھی خود ہیں کہ ملک میں کرپشن ختم نہیں ہو رہی۔۔ جب ہم کسی کو ناجائز کام کا موقع ہی نہیں دیں گے تو ہی ہمارے پیارے وطن سے بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا ناں۔۔ یہی ظالم لوگ ہوتے ہیں جو نعرے لگاتے ہیں “ٹھوک سکو تو ٹھوک دو، تبدیلی آئی رے”۔۔
خیر! میں جما بیٹھا رہا کہ رسید تو ہر حال میں لے کر ہی جاؤنگا۔۔ میری ضد سے تنگ آکر وہ کہیں سے بال پوائنٹ ڈھونڈ لایا۔۔ رسید بک نکالی اور پیسوں کا حساب گننے لگا۔۔ “دو سو ڈاکٹر کی فیس، ایک سو پروسیجر فیس، ایک سو ایڈمیشن فیس، ساٹھ روپے کی دوائیاں ۔۔۔۔۔ اوررر ۔۔۔ یہ آپکے بن گئے مبلغ ۔۔۔ چار سو اور ساٹھ روپے”۔۔ میں اندر ہی اندر صرف اتنا ہی کہہ سکا؛ “وڑ گئے بھئی”۔۔ اس نے سر جھکا کر لکھنا شروع کیا تو میں نے خشک گلے سے ہلکا سا کھنگورا مارا، تھوڑا سا آگے کھسکا اور میسنی آواز سے گزارش کہ یار وہی چار سو کی ہی رسید بنانا، مہربانی ہوگی۔۔ (یہ ہوتا ہے ویژن)۔۔
اس نے اپنی گردن کو ذرا سا اٹھایا، آدھی ترچھی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا؛ “اچھا”۔۔ (یہ ہوتا ہے لیڈر)۔۔ مگر میں خوب جانتا ہوں کہ اس نے دل میں کہا تھا “ہونڑ آرام ای؟”۔۔ پھر اس فرشتہ صفت ڈسپنسر نے چار سو کی ہی رسید کاٹی۔۔ تو دوستو ! کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ بدگمانی نہیں کرنی چاہئے۔۔ کیونکہ دنیا میں اچھے بندوں کی کمی نہیں ہے۔۔ ایسے ہی نرم دل اور نیکوکار افراد کی وجہ سے دنیا قائم ہے ورنہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے تو کہہ دیا تھا کہ 2015ء میں قیامت آ جائیگی۔۔!!

اپنا تبصرہ بھیجیں