پیارے نبیﷺ تاجدارِ حرمﷺ ۔ آتش




عشق, محبت, پیار, الفت, عقیدت کی چوبیس گھنٹے رٹ لگانے والو!!!
آؤ تمھیں دکھاؤں کہ عشق کی اصل کیا ہے۔ آؤ بتاؤں کہ حُبِّ محبوب کیا ہوتی ہے۔ وہاں کا منظر دکھاؤں کہ جب پیار ہوتا ہے تو چشمِ فلک اس کے جذب کے کیسے کیسے مناظر دیکھتی ہے۔
آؤ دیکھو کہ اپنی ہستی کا مکمل ادراک بھی نہیں تھا جب وہ کئی کئی دن تک ساری دنیا سے کٹ کر اپنے محبوب کی یاد میں مگن ایک بیاباں سلسلے میں موجود غار میں چلے جاتے تھے۔ آؤ دیکھو جب محبوب کا پیام آ گیا تو اس کی خوشنودی کے لئے اپنے خون کے سگوں کی گالیاں بھی کھائیں۔ ان کا تشدد بھی ہنس کے جھیل گئے۔
وہ عشق ہی تو تھا کہ جب طائف میں ہر طرف سے جسم پہ نوکیلے پتھروں کی بو چھاڑ ہورہی تھی اور اس کائنات کا مقدس ترین لہو بہہ رہا تھا۔
وہ پیار ہی تو تھا کہ احد کے میدان میں چہرہءانور زخمی ہو رہا تھا اور دانت مبارک شہید ہو رہے تھے۔
وہ الفت ہی تو تھی کہ جب ہوئی تو خندق میں پیٹ پہ بھوک کے مارے دو دو پتھر باندھے تھے۔
جذبہء محبت ہی تو تھا کہ ساری ساری رات روتے گزر جاتی اور پاؤں مبارک سوج جاتے تھے۔
وہ دل کی لگی ہی تو تھی کہ عرفات کی شدید دھوپ میں بھی چھ گھنٹے تک مسلسل ہاتھ بلند کئے رو رو کر دعا کر رہے تھے وہ۔
وہ دل کا روگ ہی تو تھا کہ جس کی تڑپ نے 23 سال, آخری سانس تک اس پاک ہستی کو درد میں مبتلا رکھا۔
عاشقو! پریمیو! پیار کرنے کے دعوے دارو! عشق محبت کی ساری تاریخ میں سے ایسی کوئی ایک مثال ہی نکال کر دکھا دو۔ نہیں دکھا سکتے اور یقیناً نہیں دکھا سکتے۔
جب نہیں دکھا سکتے تو کم از کم جن کے نام لیوا ہو ان کی پیروی کرنا ہی شروع کر دو۔ اس کامل و مکمل ہستی کی محبت اور اسوہ پہ تھوڑا تھوڑا ہی سہی عمل کرنا تو شروع کر دو۔ نام بھی لینا۔ دعوے بھی کرنا۔ گلے پھاڑ پھاڑ ہر چوک چوراہے میں ان کی وراثت پہ حق بھی جمانا۔ ان کی وراثت کو تھوڑا تھوڑا سا ہی سہی, اپناؤ تو ذرا۔ کہیں سے تو پتا لگے کہ کس کے نام لیوا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں