ندائے دل صدائے وقت _ الطاف جمیل ندوی سوپور




تحمل قوت برداشت امت مسلمہ کا خاصہ
اسلام کا مصدر “سَلِم” یا “سِلم” ہے جس کا مطلب ہے سر تسلیم خم کردینا، امن و آشتی کی طرف رہنمائی کرنا اور تحفظ اور صلح کو قائم کرنا یہ ایک پر نور نظریہ ہے جہاں انسانی مال جان آبرو کو عزت دی گئی ہے ہم نے گر کوئی سی بھی سیرت کی کتاب دیکھی ہوگئی تو ہم اس پر نور نظریہ سے واقف ضرور ہوں گئے مگر شومئے قسمت کہ امت نے جہاں بہت سے افکار سے فرار اختیار کیا ہے وہیں اب یہ امت بحیثیت مجموعی عدم برداشت کی لتمیں گرفتار ہوگئی ہے ہم آئے روز ایسے نظارے سوشل میڈیا پر عام زندگی میں دیکھتے ہیں کہ جہاں مختلف الخیال و افکار کے لوگ اپنی حق گوئی اور راستی کو بچانے کے لئے انتہائی ذلت و رسوائی کے افکار کے ساتھ لٹھ لے کر ہوتے ہیں ہماری حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہوگئی ہے ہم آپس میں اس قدر نفرت و کدورت بھرے قلب لئے دعوت اسلامی کا فریضہ انجام دینے کا دعوی کرتے ہیں غیر تو غیر اپنے بھی ہم سے متنفر ہوتے جارہے ہیں ۔
کیا ہم امت مسلمہ کا ہی حصہ ہیں جو اکابر پرستی تقلید عدم تقلید قیادت و سیادت کے نام پر انتہائی شرمناک حدود چھوتے ہیں اب تو حالت ایسی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے ہی محفوظ و مامون نہیں تو بھلا ہم کیسے پوری دنیا میں امن و آشتی لا سکتے ہیں ہماری آپسی عزت نفس ہم سے محفوظ نہیں رہ رہی ہے تو دنیا کو کیا خاک درس امن دیں گئے ہم تو امن و امان کے داعیوں کے بجائے وحشت و درندہگئی کے کارندے دکھتے ہیں یہ حالت صرف جہلا کی نہیں بلکہ اس میں تو اہل علم اہل رائے بھی اپنی طرف سے حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھتے جبکہ اسلام تحفظ، بچاؤ اور امن کا داعی ہے ہمدردی آپسی بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور یہی اصول مسلمانوں کی زندگی میں بھی سرایت کرنے کا درس دیتا ہے جب مسلمان نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو دنیا سے ان کا رابطہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ خدا کے حضور اپنے یقین اور تابعداری کے ساتھ باادب اور ہوشیار کھڑے ہوتے ہیں۔ اپنی نماز ختم کرتے ہوئے جب وہ دنیا مین واپس آرہے ہوتے ہیں تو اپنے دائیں بایئں والوں کو امن کی دعا دیتے ہیں ” تم پر سلامتی ہو اور رحمت ہو”۔ امن و امان، تحفظ، آشتی اور سکون کی دعاؤں کےساتھ وہ اپنی عام زندگی کی طرف ایک بار پھر لوٹ رہے ہوتے ہیں دوسروں کو امن اور تحفظ کی دعائیں دینا اور نیک خواہشات کا اظہار کرنا اسلام میں بہت اہم اور کارآمد چیز قرار پائی ہے جس کی ہزاروں مثالیں تاریخ کے اوراق میں ملتی ہیں کہ امت مسلمہ نے ان باتوں پر کیسے عمل کرکے دیکھایا اسی سبب ہم دیکھتے ہیں کہ مدینہ میں ایک ایسا اخوت کا معاشرہ بنا جو رہتی دنیا تک ہمارے لئے باعث فخر و مسرت ہے جسے بیان کرتے ہوئے بھی انسان لزت و تسکین پاتا ہے یہ نبوی تعلیم و تعلم کا ایک جیتا جاگتا تصور تھا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اچھی ہیئت، نرمی اور میانہ روی نبوت کے چوبیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے
یہ خصلتیں انبیاء علیہ السلام کی عادات تھیں اور ان کے فضائل کے اجزاء میں سے جزو ہیں لہٰذا ان کاموں میں انبیاء کی اقتداء اور متابعت کرو۔ کہا گیا ہے کہ اس کے معنی میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ان خصلتوں سے ہیں جن کو نبوت لے کر آئی اور انبیاء علیہ السلام ان کی طرف دعوت دیتے رہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس نے ان خصلتوں کو جمع کرلیا تو لوگ اسے توقیر و تعظیم کے ساتھ ملیں گے آپسی الفت و اخوت کا سماں بنے گا
اسی لئے ہمیں چاہئے کہ ان باتوں کو اپنے آپ میں پیدا کریں میانہ روی ، رواداری، تحمل مزاجی ، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین کا دور دورہ ہوتا ہے ۔
جن معاشروں میں ان خوبیوں کی کمی ہو تی ہے وہاں بے چینی ، شدت پسندی ، جارحانہ پن ، غصہ، تشدد، انا پرستی درند گئی اور بہت سی دیگر برائیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں، معاشرے کا ہر فرد نفسا نفسی میں مبتلا نظر آتا ہے، یہ نفسانفسی معاشرے کی اجتماعی روح کے خلاف ہے اور اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے پھر چاہئے معاشرے کی کتنی بھی اصلاح کی جائے پر معاشرے میں اصلاح کے بجائے مزید فتنے سر نکالتے ہیں اور یہ پھر معاشرے اور پھر اقوام کو تباہی و بربادی کی اور لے چلتے ہیں جس معاشرے کی اصل کی آپسی اخوت و مساوات پر رکھی گئی ہے اس معاشرے کی تباہی و بربادی کے در پے ہم کیوں ہیں یہ سوچنے کی بات ہے کہیں ہم اپنی بے ہودہ نظریات و افکار کو پروان چڑھانے کے کئے تو اسلامی تعلیمات کا جنازہ تو نہیں اٹھاتے ذرا سی دیر کے ہی لئے نبوی علیہ السلام کے معاشرے پر مبنی تعلیمات اور اپنے خول میں رچے بسے افکار کی ترویج پر سوچئے انتہائی دیانت داری سے خود کا محاسبہ کرے کہ ہم امت مسلمہ کو کس اور لے کر جارہے ہیں
قوت برداشت : انسان کی قوت برداشت بھی اس کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ہے۔ اس دنیا میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ حالات ہمارے لئے خوشگوار نہیں ہوتے یا پھر دوسرے لوگ ہماری مرضی کے مطابق رویہ اختیار نہیں کرتے۔ ایسے موقعوں پر جو لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، انہیں کمزور شخصیت کا مالک سمجھا جاتاہے۔ اس کے برعکس جو لوگ تحمل اور بردباری سے مسائل کا سامنا کرتے ہیں، وہ اپنے قریبی لوگوں کی نظر میں اہم مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت برداشت انتہائی اعلیٰ درجے کی تھی کفار کے ظلم و ستم کے جواب میں آپ ان کے لئے دعا فرماتے پتھر کھا کھا کر بھی دعائیں دیتے لہو لہان ہوکر بھی وادی طائف میں ان کی دعائیں بلند ہوئی کبھی بھی اپنے دشمنوں سے ذاتی انتقام نہ لیا نفرت عداوت کو اپنے پاس بھی نہ آنے دیا یوں تو سبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر متحمل اور بردبار ہو گئے تھے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ کا آپسی معاملہ کتنا بھی پیچیدہ ہوتا پر مجال ہے کہ کہیں ہمیں یہ بات دیکھنے کو ملے کہ انہوں نے آپسی رسہ کشی کو اسلام کا نام دے کر اخلاقی و شرافت کے زیور کو اتار پھینک کر پستی کو اختیار کیا ہو
عام سے لوگ بھی امیر المومینین کے ان پر شدید تنقید کرتے لیکن آپ ہمیشہ خندہ پیشانی سے اسے برداشت کرتے خلیفہ ہوکر بھی وہ تشدد کے روا ڈار نہیں ہوتے وہ اپنی اخلاقی پاکیزگئی اور میانہ روی نرمی تحمل کے ساتھ ہر وقت معاملات کو سمجھتے اور ان کے حل کی تلاش میں رہتے ہیں ۔
معاشرے میں قوت برداشت کو بڑھانا خاصا مشکل کام ہے اس کا حل صرف یہی ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو زیادہ اہمیت نہ دی جائے اور ان پر زیادہ نہ سوچا جائے۔ اگر ان معاملات میں آپ کی مرضی کے خلاف کچھ ہوجائے تو اسے نظر انداز کر دیجئے۔ جو لوگ چھوٹے چھوٹے سے مسائل کو برداشت نہیں کرتے، وہ اپنے ساتھیوں کی نظر میں اپنا مقام گرا دیتے ہیں ۔قوت برداشت کو بڑھانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی سیرت کا مطالعہ کیجئے اور ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کیجئے جو اعلیٰ درجے کے متحمل اور بردبار ہوں۔ اگر آپ کے حلقہ احباب میں ایسے افراد موجود ہیں جو بات بات پر بھڑک اٹھتے ہیں تو ان سے اجتناب کیجئے ان سے دوری بنائے رکھئے پر ان کی تذلیل و تحقیر کرکے نہیں بلکہ ان کی اصلاح کرتے رہے اور خود ان کی اس برائی کا شکار ہونے سے بچتے رہے
عدم برداشت :سب سے پہلے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ عدد برداشت اور شدت پسندی کیا چیزیں ہیں۔ یہ ایک ایسی دما غی کیفیت ہے جہاں کوئی انسان ہر چیز، ہر انسان اور ہر واقعہ کو صرف ایک ہی زاویہ سے دیکھتا ہے اور صرف اپنے آپ کو ہی درست سمجھتا ہے ۔ یہ کیفیت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اس مرض کے شکار انسان اپنے خلاف یا اپنے خیالات یا عقائد کے خلاف ہر آدمی کو کافر سمجھ کر اسے زلیل و رسوا کرنا عین عبادت سمجھتے ہیں کچھ عرصہ قبل تک تو بھائی چارے اور اخوت کا ایسا سماں تھا کہ ہر کوئی ایک دوسرے کے درد و کرب مین کام آتا تھا پر پھر آہستہ آہستہ عدم برداشت اس حد تک پروان چڑھا کہ اب پوری دنیا سولی پر ٹنگی ہے۔ امن و امان مخدوش ہو چکا ہے۔ نہ کسی کی زندگی محفوظ ہے نہ ہی عزت اور نہ پراپرٹی۔ اس عدم برداشت کے کلچر نے لوٹ مار اور ڈاکہ زنی جیسی برائیوں کو جنم دیا ہے جہاں اس کی مختلف
وجوہات و عوامل ہیں وہیں ایک وجہ تعلیمی اور اخلاقی تربیت کا فقدان ہے گرچہ آج کل ہر صاحب عدم برداشت کو دعوی ہے کہ وہی شیخ کل ہے پر حقائق اس کا منہ چڑھا رہے ہیں کہ گر یہ طریقہ اہل علم و دانش کا ہے تو جہلا کسے کہتے ہیں دوسرے معنا میں پھر انپڑ کسے کہیں جب اہل علم و دانش کا حال ایسا ہو آپ آج کل مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ جو غیر مسلم ہیں ان کے ہاں تو ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ وہ آپس میں شیر و شکر ہیں آپس میں انتہائی متحرک نرم خو شائستہ انداز اختیار کرتے ہیں پر گر برا نہ مانیں تو ہمارے ہاں اس کا فقدان ہی پایا جاتا ہے
جب آئیں تو زندگی میں بیشتر ایسے واقعات پیش آتے ہیں، جن میں انسان جذبات سے مغلوب ہوجاتا ہے اور غیظ و غضب سے رگیں پھڑکنے لگتی ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ فوری طورپر انتقامی کارروائی کی جائے، جیسا بھی ہوسکے سامنے والے کو اپنی برتری اور طاقت کا ایسا کرشمہ دکھایا جائے کہ دشمن طاقتیں ہمیشہ کے لیے زیر ہوجائیں، ممکن ہے اس سے ذہنی و قلبی سکون ملے اور مختلف خطرات سے نجات بھی؛ مگر اسلام نے جذبات میں آکر کسی فیصلہ کی اجازت نہیں دی ہے، تمام ایسے مواقع پر جہاں انسان عام طورپر بے قابو ہوجاتا ہے، شریعت نے اپنے آپ کو قابو میں رکھنے ، عقل وہوش سے کام کرنے اور واقعات سے الگ ہوکر واقعات کے بارے میں سوچنے اور غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے، جس کو قرآن کی اصطلاح میں ”صبر“ کہاجاتا ہے اور اس کی بارہا ترغیب دی گئی ہے کہ اسے اپنا زیور بنایا جائے تاکہ آپسی رسہ کشی پروان نہ چڑھنے پائے
دل کی بات: حقیقت یہ ہے کہ اچھے سے اچھا سمجھدار انسان بھی شدید غصہ کی حالت میں عقل و خرد سے خارج اور بالکل پاگل ہوجاتا ہے، نہ خدا ورسول کی تعلیمات کا ہوش رہتا ہے، نہ اخلاق و انسانیت کے تقاضوں کا؛ اسی لیے کہا گیا ہے: أَلْغَضبُ جُنُوْنُ سَاعَةٍ (غصہ تھوڑی دیر کی دیوانگی کا نام ہے) علماء اخلاق نے لکھا ہے کہ بعض مرتبہ شدتِ غیظ و غضب سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے یا مستقل طورپر پاگل ہوجاتا ہے اور یہ تو بالکل عام بات ہے کہ غصہ فرو ہونے کے بعد انسان خود کو اپنے کیے پر ملامت کیا کرتا ہے اور بسااوقات بڑے بڑے دوررس نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں اور اس غصہ کے بھوت پرقابو پانا صبر و ضبط کا ملکہ پیدا کیے بغیر اور برداشت و تحمل کی عادت ڈالے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا غصہ نہ کرنے کی وصیت کا منشا درحقیقت صبر و ضبط کی عادت ڈالنے کی وصیت فرمانا ہے“ (شرح ریاض الصالحین: ۱۳۵)
جذبات کو قابو میں رکھنے اور صبر و تحمل کی فضیلت اور ثواب کی کثرت اس بنیاد پر بھی ہے کہ اس میں ایک شخص کو امتحان کی مختلف راہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ کہیں ملتے ہوئے فائدوں سے محرومی کو گوارا کرنا پڑتا ہے، کبھی خارجی مجبوری کے بغیر خود سے اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند کرنا پڑتا ہے۔
کہیں اپنی بے عزتی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کہیں زیادہ کو چھوڑ کر کم پر قانع ہونا پڑتا ہے، کہیں قدرت رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ پاوٴں کو روک لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی مقبولیت کو دفن کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے، کہیں شہرت اور استقبال کے راستے کو چھوڑ کر گمنامی کے طریقے کو اختیار کرنا پڑتا ہے، کہیں الفاظ کا ذخیرہ ہوتے ہوئے اپنی زبان کو بند کرلینا پڑتا ہے ، کہیں جانتے بوجھتے دوسرے کا بوجھ اپنے سر پر لے لینا پڑتا ہے تو حقیقت میں سکون سا ملتا ہے چاہئے کہ کسی کے سامنے ہار کر شرمندگی ہی اٹھانی پڑے پر یہ تسلی رہتی ہے کہ میری وجہ سے کسی کی آنکھ نم نہ ہوئی میرے پیارو کسی کو گر تم سہارا نہ دے سکو پر اتنا تو کرسکتے ہو کہ ان کے چہرے پر اپنی ہار مان کر خوشی تو بکھیر سکتے ہو واللہ مجھے یہ کام دنیا و مافیھا سے بھی پیارا لگتا ہے کہ میری ہار دیکھ کر کوئی مسکرا دے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں