میڈیا اور میرا کردار – ناہید خان




اس وقت میڈیا ایک ایسا عالمگیر ٹیچر ہے جو اپنے شاگردوں کو جیسے جب اور جہاں چاہے ان کے ذہن موڑ دے ۔آج معاشرے میں جس اچھے یا برے رویے کا برملا اظہار کیا جا رہا ہے وہ سب میڈیا کے کردار کی مرہون منت ہے۔میڈیا ایک بہت بڑی طاقت ہے اور اس طاقت کا نشہ اب ہر ایک کے سر چڑھ کر بول رہا ہے جس کا اظہار ہم ہر عمر کے افراد سے کرتے دیکھتے ہیں۔پھر وہ چاہے ایک اسی سالہ خاتون یا بزرگ ہو یا پھر ایک سالہ بچہ۔اب غور طلب بات یہ ہے کہ یہ اثرات منفی ہیں یا مثبت اور افسوسناک انکشاف یہ کہ 80 فیصد تک یہ اثرات منفی ہیں۔
اس کی وجوہات اگر ہم تلاش کریں تو یہ ایک بے حس خاموشی ہے جو ہم پر طاری ہے ہماری حالت اس نشئ سے بھی گئی گزری ہے جسے یہ ہوش تو رہتا ہے کہ وہ زندہ ہے لیکن یہ بے حس خاموشی بتا رہی ہے کہ ہم طبعی طور پر تو زندہ ہیں لیکن اخلاقی موت کب کے مر چکے ہیں اس کا ثبوت ہمارے معاشرے میں دکھایا جانے والا ڈرامہ اور اخلاق باختہ کمرشلز ہیں ۔
ہماری مذہبی شناخت حجاب داڑھی، تسبیح ،وغیرہ اس خاموش قاتل کے نشانے پر ہیں۔باحجاب خواتین کو مظلومیت کا پیکرداڑھی، تسبیح اور نمازی کرداروں کو دھوکے باز ظالم جابر بنا کر پیش کیا جانا اب ہر چینل کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ان ڈراموں میں نامحرم سے بے تکلفی رشتوں میں گراوٹ اور گلیمر اس قدر دکھایا جا رہا ہے کہ جسے دیکھ کر ہماری نئی نسل خود کو اس خیالی پیکر میں ڈھال کر تمام اخلاقی حدود پار کر چکی ہے اور ہم خاموش ہیں ۔
ہمارا ایک المیہ آج یہ بھی ہے کہ جہاں آج معاشرے کے سدھار کے لیے تمام قومی و مذہبی عناصر کی ضرورت ہے وہاں علماء دانشور اور مذہبی افراد کا طبقہ بالکل خاموش ہےان کی معنی خیز خاموشی کے اثرات یہ ہیں کہ لوگوں نے مذہب کو حجروں خانقاہوں اور مسجدوں تک محدود سمجھ لیا ہے اور نتیجہ یہ کہ قرآن کی وہ تعلیمات جن میں ضابطہ اخلاق کا ہر حل موجود ہے لوگوں کو اب سننا بھی ناگوار گزرتا ہے۔
ان حالات میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ خود آگے بڑھ کر قرآن سے رہنمائی حاصل کریں ۔ہم کلمہ گو مسلمان ہیں اور اسلام چونکہ ایک دعوتی مذہب ہے اس لئے اس کے ہر ماننے والے کا فرض ہے کہ قرآنی طرز فکر کو عام کرے ۔وہ تمام افراد جو نیٹ استعمال کرتے ہیں انہیں بھی یاد رہنا چاہیے کہ ان کا ایک لائک ایک کمنٹ ایک شیئر لوگوں کی سوچ بدل سکتا ہے بہت احتیاط سمجھ اور تصدیق سے یہ کام کیجیے کیونکہ معاشرے کے بناؤ بگاڑ میں آپ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔
اللّٰہ نے ہر انسان کو پہلے دینِ فطرت پر پیدا کیا بعد میں نیکی اور بدی اس پر غالب ہوئیں۔کہنے کا مطلب یہ کہ معاشرے میں اگر کوئی بگاڑ کی صورت پیدا کررہا ہے تو ہمیں اپنے کان بند نہیں کرنے بلکہ اس کے سدھار کے لئے اپنی آواز بلند کرنی ہے یہ نہیں سوچنا کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا بلکہ یہ عزم رکھنا ہے کہ برائی کا اندھیرا چاہے کتنا ہی گہرا ہو نیکی کی ایک کرن اسے مٹانے کے لئے کافی ہے ۔اور وہ کرن ھمیں بننا ھے کیونکہ رب کو بھی تو جواب دینا ہے ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں