روز کے ویلنٹائن _ فیض اللہ خان




مخلوط دفاتر کا ایک مسئلہ یہ ھوتا ھیکہ خواتین کے چکر میں کئی مرد بھی سج سنور کر آتے ھیں ، چاھے برینڈڈ کپڑے ھوں چہر٥ گورا کرنا ھو یا علمیت کا رعب جھاڑنا ۔
ایسے کاموں میں مرد حضرات ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف رہا کرتے ہیں ۔
عموما دفتر کی کوئی خاتون کسی مرد کولیگ سے دوستی کر لے تو اکثر کو مرچیں لگ جاتی ھیں رشک و حسد کے ملے جلے جذبات عروج پر ھوتے ھیں خاتون کی کردار کشی میں دو منٹ نہیں لگتے الزامات کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتے ھیں سنکر کر یقین ھی نہیں آتا کہ یہ وھی “مہذب” صاحب ھیں جو سامنے انتہائی خوش اخلاقی کا مظاھر٥ کرتے ھیں اور پیٹھ پیچھے اللہ معافی ،انکا دکھ یہ نہیں ھوتا کہ خاتون دفتر کے ساتھی کے ساتھ کیوں جارھی ھے ، بلکہ روگ یہ لگ جاتا ھیکہ “میرے” ساتھ کیوں نہیں جارھی!
بس اگر خاتون آپکو مہذب انداز میں منع کردے کہ میں آپکے ساتھ لنچ پہ نہیں جاسکتی تو پھر اسکی خیر نہیں ، دنیا جہاں کی ھر برائی اسمیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر دنیا کو آگا٥ کیا جاتا ھے نمک مرچ کے چھڑکاؤ کیساتھ ۔
دفاتر میں انٹریو کیلیے آنیوالی خواتین کا لباس پہلے سے موجود افراد کی دلچسپی کا مظہر ھوتا ھے ، کہتے ھیں دیکھو کیسی بے حیاء عورت ھے عجیب سا لباس پہن کر آتی ھے ، ایک بار ایسے ہی تبصروں پہ میں نے اپنے دفتری ساتھیوں سے کہا کہ خاتون کا قابل اعتراض لباس اپنی جگہ ، لیکن کیا میڈیا گھروں سمیت دیگر دفاتر میں موجود اکثر باس نما “بھیڑئیے ” حجاب میں آنیوالی خواتین کو نوکری دینا پسند کرتے ھیں ؟؟؟؟؟
انہیں تو وھی خاتون “سوٹ” کرتی ھے جو اچھی گپ شپ کرے ، لنچ و ڈنر پہ ھمراہ ھو پارٹی انجوائے کرنا جانتی ھو! بس المیہ یہی ھیکہ اپنی ذات میں موجود نقص ھمیں نظر ھی نہیں آتے ، لیکن دوسروں کی عزت کی دھجیاں اڑانے میں ہم وقت نہیں لگاتے ۔
خواتین کو پردے کا حکم ہے تو ہمیں بھی نظروں کی حفاظت کی آسمانی ہدایت موجود ہے ۔
رہا ویلنٹائن کا دن تو جناب جس ملک کا محکمہ اوقاف تین سو پیسنٹھ میں سے تین سو ستر دن مختلف ” باباجات ” کے ایام مناتا ہو ایک ویلنٹائن کا بھی سہی ، اچھا ہے ویلنٹائن والی سرکار کو مذھبی تحفظ مل جائیگا اور اس لبادے میں سارے دھندے آسان ہو جائیں گے ، ویسے تو پولیس بھی ان اینکرز کی طرح ہے جو کورنگی اورنگی کے ڈھابوں پہ چھاپہ مار کاروائی کرتے اور ڈیفنس کلفٹن کے ریستوران نظر انداز کرتے ہیں ایسے ہی کراچی کے پانچ ستارے ہوٹلز نے سرعام اشتہار آویزاں کر رکھے ہیں کہ فقط نو ہزار دیکر بہترین انداز میں ویلنٹائن کا عرس منائیے ، ہجرت کالونی کے ہوٹل پہ الگ قانون لاگو ہوتا ہے اس سے متصل پرل کانٹی نینٹل پہ الگ ۔
رہے نام اللہ کا

اپنا تبصرہ بھیجیں