یوم سبت کی مچھلیاں اور ہماری مستیاں !! _ ملک جہانگیر اقبال




قرآن پاک کی سورہ اعراف میں حضرت موسیٰ علیہ سلام کی امت کا اک واقعہ شاید آپ سب نے پڑھ رکھا ہوگا جو اصحاب سبت/ یوم سبت کے نام سے جانا جاتا ہے .
واقعہ کچھ یوں تھا کہ یہودیوں کے اک قبیلے کو اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ آپکو یوم سبت یعنی بروز ہفتہ مچھلی کا شکار نہیں کرنا ہے . اسکے علاوہ باقی تمام چھ دن شکار کی اجازت ہے . یہ کوئی ایسی سخت پابندی نہیں تھی کہ جس پر عمل نہ کیا جاسکے لہذا حکم ربی پر عمل درآمد شروع کردیا گیا .
پر ہوا کچھ یوں کہ ہفتہ کے روز دریا میں مچھلیوں کی فراوانی ہوتی جسے دیکھ کر قبیلے والے شش و پنج میں مبتلا رہتے بالآخر لالچ نے ان پر غلبہ پایا اور یوں انہوں نے اللہ سے چالاکی کرتے ہوئے دریا سے نالیاں نکال کر اک تالاب بنا دیا تاکہ ہفتہ کے روز مچھلیاں اس نالی سے ہوتے ہوئے تالاب میں گرتی جائیں اور یوں وہ اگلے روز آکر تمام مچھلیاں شکار کرلیں .
اس قوم کے خوف خدا رکھنے والوں نے اس حرکت پر انہیں روکا پر جو لوگ خدا سے چالاکیاں یا دوسرے الفاظ میں تاویلیں بنانے سے باز نہ آتے ہوں ان پر نصیحتوں کا اثر نہیں ہوتا . بہرحال جب انہوں نے اپنی چالاکیوں سے باز آنے سے انکار کردیا تو پھر اللہ کے اس حکم کیساتھ ہی عذاب الہیٰ آیا کہ
“پھر جب وہ سرکشی کرتے ہوئے وہی کام کرتے رہے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے انہیں حکم دیا کہ ذلیل و خوار بندر بن جاؤ ” (سورہ الاعراف)
یہ واقعہ آپ کی یادداشت میں تازہ کرنے کیوجہ یوم ویلنٹائن ہے . گزشتہ 6 سال سے ہر سال “Say no to valentine” کہتا آرہا ہوں پر سچ تو یہ ہے کہ ہم میں اور اصحاب سبت میں رتی برابر فرق نہیں ہے . ہم 14 فروری کو محض happy valentine day کہنا کفر اور روایات کیخلاف گردانتے ہیں پر اپنی اسی “valentine” کو 15 فروری سے اگلے سال کی 13 فروری تک Love u love u کرتے رہتے ہیں .
جس نا محرم سے ملنے یا بات کرنے سے 14 فروری کو پابندی ہوتی ہے 15 فروری کا سورج طلوع ہوتے ہی وہ جائز ہوجاتی ہے .
ہے نا عجیب بات ؟
پاکستان میں 16 سے اوپر کے 80 سے 90 فیصد لڑکوں کے پاس موبائل فون ہے اور ان میں سے کم سے کم بھی 60 فیصد کی محبوبائیں موجود ہیں جن سے سارا دن رات میسجز و میسنجرز پر حالت گفتگو میں رہتے ہیں .
ظاہر ہے جن لڑکیوں سے وہ بات کرتے ہیں وہ لڑکیاں بھی اسی قوم سے ہی تعلق رکھتی ہیں .
یہاں ہم یہ تو کہ دیتے ہیں کہ خود یوم ویلنٹائن ڈے منانے والے اپنی بہنوں کو بھی یہ موقع دیتے ہیں کیا ؟ پر یہ کوئی نہیں کہتا کہ خود سارا دن رات لو یو جانو کھیلنے والے اپنی بہنوں کو بھی یہ موقع دیتے ہیں ؟
نہیں ہم ایسا اسلئے نہیں کہتے کہ پھر ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا پڑ جاتا ہے !!!
تو بس اصحاب سبت کی یوم سبت والی مچھلیاں ہوں یا اصحاب “ایمان” کی یوم ویلنٹائن کے بعد والی مستیاں ہوں . یہ یاد رہے کہ آپ کچھ بھی کرلو کتنے ہی بہانے تاویلیں حجتیں پیدا کرلو پر توریت زبور انجیل و قرآن میں ہر جگہ اک سبق مشترکہ ملتا ہے کہ انسان اللہ سے چالاکی نہیں کرسکتا . اب چونکہ آگ پتھروں یا خنزیر بندر بن جانے والے عذاب قیامت تک نہیں آنے لہذا اپنے آخری حکم (قرآن پاک) میں تو اللہ نے کھل کر بتا بھی دیا کہ
وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ
ترجمہ: اور انہوں نے خفیہ تدبیر کی اور الله نے بھی خفیہ تدبیر کی ، اور الله سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے.(القرآن)

اپنا تبصرہ بھیجیں