ویلنٹائن ڈے تہذیبوں کی جنگ کا ایک اہم ہتھیار _ مہتاب عزیز




چودہ فروری کو منائے جانے والے یوم محبت یا ویلنٹائں ڈے کی ابتداء کہاں اور کیوں ہوئی اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔ البتہ یہ سب کا ماننا ہے کہ اس کا تعلق بت پرست یونانی یا رومی ادوار سے ہے۔ کہیں اسے یونان کی رومانی دیوی ” یونو ” (دیوتاؤوں کی ملکہ اور عورتوں و شادی بیاہ کی دیوی) کا مقدس دن مانا جاتا ہے، کئی لوگ اسے “کیوپڈ “(محبت کے دیوتا)اور “وینس” (حسن کی دیوی)سے موسوم کرتے ہیں جو کیوپڈ کی ماں تھی۔
کہیں اس کے تانے بانے رومیوں کے “لپرکالیا فیسٹیول” سے ملائے جاتے ہیں جو زمین اور عورتوں کی زرخیزی کا دن سمجھا جاتا تھا۔ اس روز روم کی کنواری لڑکیوں کے ناموں کی پرچیاں ایک بڑے مرتبان میں ڈالی جاتیں، جنہیں رومی سورما نکالتے، جس لڑکی کے نام کی پرچی جس سورما کے ہاتھ آتی وہ اس روز اس کی ہوس پوری کرنے پر مجبور ہو جاتی۔ نیز یہ بھی طے ہے کہ کلیسا نے صدیوں تک اس بت پرست حیاباختہ تہوار پر پابندی لگا کر رکھی تھی۔
رائج الوقت ویلنٹائن ڈے کا آغاز پندرویں صدی عیسوی میں اس وقت ہوا جب یورپ “نشاہ ثانیہ” کے عمل سے گزر رہا تھا۔ اسے ایک باقاعدہ تحریک کی شکل فرانس کی شہزادی “پرنسس آف ایزابیل” نے سن 1400ء میں دی۔ جلد ہی یوم محبت مغربی یورپ میں مقبول ہو گیا۔ 1797 میں یوم محبت کے عنوان سے “محبوب کوخطوط لکھنے” کی رسم کا آغاز ہوا۔ جس نے بعد میں ویلٹائن کارڈ کی شکل اختیار کرلی۔ جو موجودہ وقت میں کرسمس کے بعد سب سے زیادہ کارڈز دینے کا دن بن چکا ہے۔ کارڈرذ کے علاوہ دیگر تحائف کے اعتبار سے یہ روز کمائی کا بھی ایک بہت اچھا ذریعہ ہے۔
ایک انتہائی دلچسب حقیقت یہ ہے کہ یورپ دو صدیوں سے زائد عرصے تک مشرق اور بلاد اسلامیہ پر قابض رہا لیکن اس استعماری دور میں ویلنٹائن ڈے کو مقبوضہ ممالک میں رواج دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی. یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کے اختتام تک مغربی یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا کے علاوہ اس کا وجود دنیا کے دیگر خطوں خصوصاً اسلامی ممالک میں سرے سے نہیں تھا۔ ویلنٹائن ڈے کو مشرقی ممالک خصوصاً اسلامی دنیا میں بیسویں صدی کے آخری عشرے میں فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ جس کی بنیادی وجہ اسلامی دنیا میں بڑھتا ہوا اسلام پسندی کا رجحان تھا۔ امریکہ پر ہونے والے نو گیارہ کے حملوں کے بعد تہذیبوں کی یہ کشمکش ایک کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔
جہاں ایک طرف امریکہ اور اسکے مغربی اتحادی ممالک آتش وآہن کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اسلامی دنیا پر حملہ آور ہوئے۔ وہیں اسلامی تہذیب اور مسلمانوں کے کلچر کے خلاف بھی کھلا اعلان جنگ کر دیا گیا۔ اس جنگ کے حربوں کے طور پر اسلامی شعائر خصوصاً خواتین کے حجاب کو مذاق کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پیغمبر اسلامﷺ اور قران مقدس کی شان میں بار بار گستاخی کا ارتکاب کر کے مسلمانوں کے دلوں سے ان کا احترام کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاد کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ شریعت کو ایک پسماندہ اور گھٹن زدہ نظام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس جنگ کا اصل ہدف یہاں کا خاندانی نظام اور عفت و حیا کا تصور ہے۔
ویلنٹائن ڈے یا یوم محبت کو بھی ہمارے ہاں اسی تہذیبی جنگ میں ایک اہم ہتھیار کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے الفاظ اب ہمارے کانوں کے لئے غیر مانوس نہیں رہے۔ صرف اسلام آباد میں کیے گئے ایک سروے میں کم ازکم پچاس سے زیادہ خود کشی اور ڈھائی سو سے زیادہ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی وجوہات میں ویلنٹائن ڈے کے تحائف کا اہم کردار ہے۔ اگر اس بارے میں کوئی سنجیدہ نوعیت کی تحقیق کی جائے تو ہوش ربا انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں