ویلنٹائن ڈے ۔۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی عید _ مہتاب عزیز




ویلنٹائن ڈے پر ہونے والے اخراجات کے حوالے سے دنیا بھر سے موصول ہونے والے اعداد و شمار بہت طویل بھی ہیں اور متنوع بھی۔ اس لئے امریکہ کے اعداد و شمار پر اکتفاء کرتے ہیں۔ امریکہ میں خرید و فروخت پر نظر رکھنے والے ادارے “قومی پرچون فاونڈیشن” (National Retail Federation) کے مطابق اس سال ویلنٹائن ڈے کے موقعہ پر 2016 کی نسبت 7 فیصد کم تحفے تحائف خریدے اور ارسال کیے گئے ہیں۔
جائزے کے مطابق اس سال گزشتہ کی نسبت ایک عام امریکی نے کل 136.57 ڈالر فی کس کے حساب سے ویلنٹائن ڈے کے موقعہ پر خرچ کیے ہیں۔ گزشتہ سال یہ فی کس رقم 146.84 ڈالر تھی۔ اگر ویلنٹائن کے لئے خرچ ہونے والی مجموعی رقم کی بات کی جائے تو گزشتہ سال امریکیوں نے 19.7 ارب ڈالر کی رقم پھونک ڈالی تھی۔ اس سال یہ رقم 7 فیصد کم ہو کر بھی 18.2 ارب ڈالر ہے۔
اگر اس سال خرچ کیے جانے والے 18.2 ارب ڈالرز کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا جائے تو یہ رقم 1888405900377 روپے بنتی ہے۔ یعنی کہ 18 کھرب 88 ارب 40 کروڑ59 لاکھ 3 سو 77 روپے۔
اس کو اس طرح زیادہ آسانی سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے 2016-17 کا کل تعلیمی بجٹ 84 ارب 19 کروڑ روپے اور صحت کا کل بجٹ 22 ارب 4 کروڑ روپے ہے۔
ویلنٹائن ڈے جیسے تہواروں کی کشش پیسے کی اس گردش کی وجہ ہے۔ امریکہ میں خرچ ہونے والے 19 کھرپ پاکستانی روپوں کے مساوی رقم کا اگر باغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا۔ کہ اس رقم کا 90 فیصد حصہ 50 بڑی کمپنیوں کے برانڈ کی خریداری پر صرف ہوا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کمپنیوں کے لئے اس تہوار کی کیا اہمیت ہے۔ ان کمپنیوں کی پوری کوشش ہوگی کہ یہ تہوار مزید بڑے پیمانے پر منایا جائے۔ اس کے اشتہار بازی سے لے کر پرواگرامات کی سپانسر شپ تک ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بڑی کثیر القومی نہ صرف یہ کوشش کرتی ہیں کہ اسے زیادہ لوگ منائیں بلکہ یہ اُن خطوں میں بھی اس کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں، جہاں اس تہوار کا وجود سرے سے نہیں ہے، یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان میں چاکلیٹ فروخت کرنے والی کثیر القومی کمپنی “کیٹبری” (cadbury chocolate) کے مقامی سٹاف نے راقم کے استفسار پر تصدیق کی ہے کہ وہ ویلنٹائن ڈے پر چاکلیٹ کی فروخت کے لئے معمول سے ہٹ کر انتظامات کرتے ہیں۔
ایک بڑے اردو روزنامے کے میگزین سیکشن میں کام کرنے والے ایک صحافی دوست نے بتایا، کہ رنگ گورا کرنے والی ایک کریم بنانے والوں کی جانب سے ہر سال ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ایک پورے صفحے کا اشتہار چھپتا ہے۔ جس میں مرد و خواتین کے ایک دوسرے کے لئے ویلنٹائن کے پیغام درج ہوتے ہیں۔ ہر سال اشتہار ملنے پر میگزین کا عملہ یہ فرضی پیغامات تخلیق کرتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر ویلنٹائن کے حوالے سے خصوصی سیٹ لگائے جاتے ہیں۔ اور ویلنٹائن کی مناسبت سے پروگرامات پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے ٹی وی چینلز یہ تمام خرچہ ثواب کمانے کی خاطر تو کرتے نہیں تھے۔ بلکہ ان تمام انتظامات اور پروگرامات کو ملٹی نیشنل کمنیوں کی جانب سے سپانسر کیا جاتا تھا۔ کمپنیوں کی بنیادی غرض اس میں اپنی پروڈکٹ کی فروخت کے لئے ایک مارکیٹ کی تشکیل ہے۔
ایک بات تو طے شدہ ہے کہ ہر شخص تہواروں کے موقع پر اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتا ہے۔ اسی لیے مغرب میں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے عیسائیت اور یہودیت کے تمام مذہبی تہواروں کو کمرشلائز کر لیا ہے۔ اب وہاں “کرسمس” کا “کیک” یا “ٹری” ہو، یا پھر “ایسٹر” کے “خرگوش” اور “انڈے”۔ ہر ایک کا برانڈ اور ریٹ فکس ہے۔ اس طرح یہودیت میں “عید پوریم” کے لئے مخصوص لباس کے برانڈ اور یا “عید الغفران” کے پکوان، اب ہر چیز کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے آوٹ لیٹ کا رخ کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی وہاں غالب اکثریت تو کسی مذہب پر اعتقاد ہی نہیں رکھتی اس کے لئے نئے تہواروں کی تخلیق اور اُن کا فروغ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب جن تہواروں مثلا عیدین کو مکمل طور پر کمرشل کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہاں بھی اسراف و تبذیر کو رواج دینا، اور ان کے مقابلے میں دیگر ‘منافع بخش’ تہواروں کو فروغ دینا ہی ان کمپنیوں کے لیے بہترین حکمت عملی ہے۔ جس کا عملی مظاہرہ ہم اپنے گرد و پیش میں مسلسل دیکھ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں