محبت کی تنزلی _ قدسیہ مدثر




چودہ فروری عالمی یوم محبت کےطور پر منایا جاتا ہے ۔ایسی محبت جس نے پاکیزہ محبت کا گلہ گھونٹ دیا ہے۔جس نے معاشرے میں غلط اور درست کی پہچان ختم کر دی ہے۔
ایسی محبت جس نے مسلمان لڑکے اور لڑکیوں میں شرم و حیا عفت وعصمت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ اس نام نہاد محبت نے فحاشی و عریانیت کی شکل میں قیصرو کسریٰ کی درگاہوں سے اٹھ کر مسلمان معاشرے کی درس گاہوں اور گھروں کو اپنا مرکز و محور بنایا ۔میڈیا کے ذریعے اس ثقافتی یلغار کو مسلمان کےہر گھر پہنچایا۔
پچھلے دنوں ایک سروے نظر سےگزرا۔ جس میں نوجوان لڑکے اوذ لڑکیوں کا گھریلو پابندیوں کے خلاف گھر سےبھاگ جانا اور خود کشی جیسے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ترقی ۔روشن خیالی ۔آزادی و خود۔مختاری اور محبت کے نام پر جو زہر مسلمان نسل میں انڈیلا جا رہا ہے اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔
ترقی کی اس دوڑ نے نوجوان نسل سے ان کی غیرت حمیت ، آزادی ، رشتوں کا تقدس اور بلآخر انہیں ان کے دین سے دور کر دیا ہے ۔ترقی یافتہ ممالک کی لسٹ میں شامل ہو کر فخر کرنے والے معاشرے شاید یہ نہی جانتے کہ ترقی یافتہ دنیا کیا ہے؟ جہاں شراب پینا فیشن ہو۔ ناچ رقص کی محفلیں عام ہوں۔ تعلیم کے نام پر جہاں اسکولوں اور کالجوں میں بے حیائی اور بد تمیزی ہو۔
جب بچے کمبائن سٹڈی کے نام پر رات گئے چور دروازوں سے گھر آئیں۔
جہاں سن شعور کو پہنچنے سے پیشنر ہی لڑکے اور لڑکیاں جنسی اختلاط کا شکار ہوں۔ جہاں مردوں کو مردوں اور عورتوں کو عورتوں کے ساتھ ہم جنسی کی آزادی اور تحفظ ہو۔ جہاں والدین کو اولڈ ہاؤس میں جمع کرہ کر آزادی کی زندگی بسر کرنا فیشن ہو۔ جہاں جوان اولاد کی موجودگی میں والدین کا ایڑیاں رگڑ کر مر جانا۔ اور جہاں کوڑے کے ڈھیر پر نومولود بچوں کے لاشے جانوروں کی خوراک بنتے ہوں۔
یہ ہے ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا ایک گھنا ؤنا اور بدصورت چہرہ وہ گند جسے مغرب تھنک ٹینک اور اسلام دشمن قوتیں بہت خوبصورتی سے مسلم معاشروں میں ویلنٹائن دنوں کے نام پر ان خرافات کو مسلم دنیا سے روشناس کروا رہی ہے ۔اور یہ شوگرکوٹڈ جام میڈیا کے ذریعے مسلمان معاشرے میں انڈیل رہا ہے ۔کیونکہ وہ جانتے کہ موجودہ دور میں اکثر مسلمان دین و دنیا اور دینی تعلیمات سے دور اور نفس و شیطان کے مکروفریب میں باآسانی مبتلا ہو جاتے ہیں اس لئے ایک دن کی حد تک ہی سہی جب ہماری طرح جدت و لزت کے نشہ میں مدہوش ہو کر بے حیائی و بے پردگی سرعام کریں گے تو پھر اس لت سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جائے گا ۔اور بے حیائی معاشرے کو دیمک کی چاٹتی چلے جائے گی۔
غیروں کی نقالی کرتے ہوئے ہم فادر ڈے ۔مدر ڈے ۔بسنت ڈے ۔ویلنٹائن ڈے منا رہے ہیں ۔یہ ہمارے دین کا تصور نہی درحقیقت بچوں کی پرورش اور والدین کے حقوق کی ادائیگی صرف ایک دن کے ساتھ مخصوص نہی بلکہ پوری زندگی کو احساس ذمہ داری سے گزارنا دین کو مطلوب ہے ۔
میڈیا کے ذریعے ان تہواروں کی ترویج نے معاشرے میں عدم اعتمادی کی سی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے ۔اخبارات اور ٹی وی چینلز ان تہواروں کو منانے کے لئے مارننگ شوز اور رقص و موسیقی کے پروگرامز کی جہاں بے حیائی کو فروغ دے رہا ہے وہاں لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ۔طلاق اور دوسرے جرائم۔کی شرح میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے
۔اس تہزیبی یلغار اور اخلاقی زوال کو روکنے کے لئے معاشرے کے ہر فرد خصوصا ً خاندان ۔تعلیمی اداروں ۔ریاست کے چوتھے ستوں میڈیا کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ یہ آگ ہماری نسلوں کو تباہ و برباد نا کر دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں